اسم اعظم کی روشنی میں ایک مجرب دعا

اسم اعظم کی روشنی میں ایک مجرب دعا

اسم اعظم کی روشنی میں ایک مجرب دعا

In the light of the great name
An experienced prayer

 

تحریر
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
انسان ہمیشہ سے ایسے مجربات و اعمال کی تلاش میں رہا ہے جو مختصر و جامع موثر ہوں ۔ کتابوں میں بے شمار دعائیں عملیات لکھے ہوئے ملیں گے،وہ کسی بزرگ یا عامل صفت شخصیت کی طرف منسوب ہوں یا کسی حادثہ کے وقت ان کی افادیت سامنے آئی ہو،گوکہ اس معاملہ میں بہت سے لوگوں نے مبالغہ آئی سے بھی کام لیا ہے۔
یاد رکھئے دعا کی قبولیت کے لئے سب سے موثر ترین الفاظ قران کریم کے ہیں اس کے بعد احادیث نبویﷺ میں مذکورہ الفاظ کے ساتھ دعائیں ہیں۔البتہ کسی صحابی سے اس قسم کے آثار کا منقول ہونا صحت قبولیت کے لئے بہت بڑی دلیل ہے،عمومی طورپ صحابہ کرام کے اعمال و افعال چراغ مصطفویﷺ سے مقتبس ہوتے ہیں ۔ کسی بھی بزرگ یا ولی کی بتائی ہوئی دعا یا وظیفہ سے کسی صحابی کا عمل بہت زیادہ معتبر ہوتا ہے۔ایسا ہی ایک مجرب عمل اس جگہ تحریر کیا گیا ہے۔
حضرت اعلاء بن الخضرمی جب (جہاد کے سلسلہ میں )سمندر کے کنارے پر پہنچے تو یہ اسماء حسنی پڑھے یا علیم یا حلیم یا علی یا عظیم[مصنف ابن ابی شیبہ6/101]ا سی طرح ایک اور جگہ یوں روایت ہے کہ حضرت اعلاء بن الخضرمیؓ کے ساتھ میں ایک سفر میں ہمیں بہت زیادہ پیاس لگی ہمیں اپنی جانوں کااندیشہ ہونے کا کہ کہیں پیاس کی وجہ سے ہلاکت میں نہ پڑجائیں ۔ہمیں راستہ میں معلوم نہ تھا ہم نے اس بات کاذکر ان سے کیا تو انہوں نے نیچے اتر کر دوگانہ ادا کی اور کہا یا حلیم یا علیم یا علی یا عظیم ہمیں پانی پلادے جب یہ دعا کی تو ایک پرندے کے پر کی طرح ایک بدلی نمودار ہوئی اس نے ہمیں ڈھانپ لیا یہ خلیج سمندر کی بات ہے ہم نے اس سے پہلے اس کے بعد ایسا منظر نہیں دیکھا۔سمندر پار کرنے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہ تھا انہوں نے بسم اللہ کہہ کر اپنا گھوڑے کی باگ تھامی اور پانی پر چلنا شروع کردیا ۔ابو ہریرہ فرماتے ہیں اس دن چار ہزار کا یہ لشکر پانی پر چل کر گیا نہ کوئی ڈوبا نہ کسی کا سامان گم ہوا صرف سواریوں کو کھر گیلے ہوئے ہم سے پوچھا گیا کسی کی کوئی چیز تو گم نہیں ہوئی ؟ ہم نے کہا نہیں سمندر پار کرنے کے ہم نے فتح حاصل کی [کرامات الاولیاء1/150 ] کتاب الزہد ابی نعیم 1/170 ،جامع العلوم والحكم ت ماهر الفحل (3/ 1094)

اس عمل کی تشریح

امیں اس واقعہ کو زیادہ تفصیل سے بیان کیا ہے۔اس کے علاوہ کتاب الدعا میں یوں لکھا ہے کہ ہم ایک جگہ اترے وضو کے پانی نہیں تھا کہ نماز ادا کرسکیں انہوں نے انہی اسماء کی برکت سے دعا فرمائی کہ اے اللہ ہم تیرے بندے تیرے راستہ میں تیرے دشمن سے لڑنے نکلے ہیں تو ہمارے پیاس بجھا دے۔ہمیں پانی وافر مقدار میں ملا جس سے ہم نےپیا بھی اوروضو بھی کیا [کتاب الدعا1/252 حلیۃ الاولیا1/7صفوۃ الصفوہ 1/696]انہی اسماء کی فضیلت کچھ اس طرح بھی ہے کہ ایک آدمی حضرت علی کے پاس آیا اور کہنے لگا فلاں آدمی بیمار ہے ۔آپ نے فرمایا کیا تو اس کی شفا یابی چاہتا ہے ؟ تجھے چاہئے کہ یہ کہے اللھم یاحلیم یا کریم تو فلاں کو شفا عطا ء فرما[کتاب الدعا1/305] کشف الظنون والے لکھتے ہیں:شیخ شازلی کی دعا جو انہیں بحر قلزم کے طوفان کے وقت نبیﷺ کی زیارت کے دوران عطاء ہوئی جو حزب البحر کے نام سے مشہور ہے اس کی ابتدا یا علی یا عظیم یا حلیم سے ہوتی ہے علماء کہتے ہیں اس میں اسم اعظم ہے [کشف الظنون1/661]

Leave a Reply

Your email address will not be published.