اسلام کے سنہرے دور میں اطباء کافالج میں طریقہ علاج

اسلام کے سنہرے دور میں اطباء کافالج میں طریقہ علاج

اسلام کے سنہرے دور میں اطباء کافالج میں طریقہ علاج

 اسلام کے سنہرے دور میں اطباء کافالج میں طریقہ علاج
اسلام کے سنہرے دور میں اطباء کافالج میں طریقہ علاج

اسلام کے سنہرے دور میں اطباء کافالج میں طریقہ علاج

تحریر:۔حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان

ان اطباء نے اسلامی دنیا میں علوم و فنون کی دنیا میں اپنا نام پیدا کیا انہوں نے علمی طورپر یونانی علوم و فنون سے وابسطگی پیدا کی،اس وقت تک دسیتیاب علوم و فنون بالخصوص طب میں درک حاصل کیا، اس وقت تک طب یونانی اور طب ہندی پر کتب موجود تھیں، ان کی روشنی میں انہوں نے فالج جیسے نامراد مرض کا علاج کیا۔
الکندی (801–866م)
ابن ربن الطبري (838–870م)
الفارابي (870–950م)
البلخي (850–934م)،
کتب الرازي (864–932)
وابن سينا وابن العباس الأهوازي المسمى بابن المجوسي (ت 995)؛ انہوں طب پر اجتہادی کام کیا۔ امراض نفسیہ و عصبیہ جن میں ایک فالج بھی ہے پر بہت گہری تحقیقات فرمائی۔
دستیاب کتب میں ابن ربن طبری کی فردوس الحکمت طب کا بے بہا خزینہ ہے،اگر اس کتاب کومنظم انداز میں سابقہ اور اس وقت تک طبی تجربات اور حقائق کا مرقع کہا جائے تو بے نہ ہوگا۔یہ کوئی پہلی کتاب ہے جسے ابواب اور فصول کے انداز میں سہل طرز پر میدان طب میں پیش کیا گیا۔اس کتاب کے چھٹے باب کو فالج کے لئے مختص کیا گیا ہے،اس کتاب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ تصنیف و تالیفات میں کس قدر عرق ریزی اور تحقیق سے کام لیا کرتے تھے۔ان کی شمار کی گئی علامات اور آج کی تحقیقات میں کچھ خاص فرق نہیں ہے، ابن ربن طبری لقوہ فالج اور سابقہ و لاحقہ اسباب پر شرح و بسط سے بحث فرماتے ہیں۔ (دیکھئے فردوس الحکمۃ چھٹا باب نوع رابع کا مقالہ چہارم)
اسی طرح ثابت بن قرہ نے اپنی کتاب۔الذخیرۃ فی الطب۔کے چھٹے باب میں سکتہ ،فالج،لقوہ،تشنج رعشہ وغیرہ پر بر مغز گفتگو کی ہے۔بقراط اور جالینوس وغیرہ اطباء قدیم کے حوالے سے اور اپنے تجربات کی روشنی میں بہترین اسباب و علاج تحریر کئے ہیں۔فالج کی اقسام بھی شمار کی ہیں۔وہ لکھتے ہیں بقراط کاکہنا ہے پچاس سال کی عمر کے بعد دماغ رطوبات سے عمومی طورپر فالج کا حملہ ہوتا ہے یعنی ادھیڑ عمر میں فالج کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں(کتاب الذخیرۃ فی علم الطب،ثابت بن قرۃ صفحہ34)
کتاب الحاوي في الطب جو کہ الرازي۔کی طبی خدمات و تجربات کا انسائیکلوپیڈیا ہے ،اس میں نفسیاتی اور عصبی علاجوں کے بارہ میں قدیم و جدید اطباء کے تجربات پر جمع کرکے اس پر علمی بحث فرمائی، اپنے وقت تک معلوم تجربات و ابحاث کو یکجا فرمایا:عصبی امراض فالج وغیرہ پر “الحاوی فی الطب جلد اول “میں سیر حاصل گفتگو فرمائی ہے،گہرے مشاہدے اور علمی تجربات کی بنیاد پر فالج کے اسباب و علامات پر مغز بحث فرمائی ہے (الرازي: الحاوي في الطب، دار الكتب العلمية،ص 20 ص21)۔القانون فی الطب ابن سیناکا شاہکار طبی مجموعہ ہے ۔لفظ قانون اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کسی فیصلہ کو حتمی شکل دیدی جائے اس کے بعد اس میں گنجائش باقی نہ رہے” جس نے طبی تاریخ میں سب سے زیادہ شہرت حاصل کی اور صدیوں سے اپنی اہمیت برقرارکھے ہوئے ہے جسے ،شرق و مغرب میںصدیوں تک درسگاہوں میں بطور ماخذ اول کی حیثیت سے پڑھایا جاتا رہا ہے، آج بھی اسے استحسان کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ابن سینا نےفالج کے بارہ میں کئی قسم کے علاج تجویز فرمائے۔ان میں غذائی۔ادویاتی،علاج کے ساتھ مختلف قسم کی مشقیں نیند کی کمی پورا کرنے کے بارہ میں ہدایات ۔ نظام ہضم کی درستگی اور نفسیاتی عوارضات ۔ پیروں کی مالش وغیرہ کے بارہ میں بہت مفید و قیمتی مشورے دئے ہیں۔
3-كتاب الكامل الصناعة الطبية الضرورية والمشهور باسم (الكتاب الملكي) لعلي بن عباس الأهوازي) أتمه عام 369 هـ/ 980 م)جسے الأمير عضد الدولة البويهي (937 – 983 م)کے لئے بطور ہدیہ پیش کیا یہ مصنف شتخیص امراض۔لغات اور علمی طب میں لاثانی تھے، اس میں نفسیاتی امراض ۔ علم الوظائف الاعضاء۔امراض دماغ،جیسے نیند کے مسائل۔ مرگی فالج اورامراض دماغی ، حفظان صحت کے بارہ میں مفید ہدایات لکھی ہیں۔
اہل اسلام نے دیگر اقوام سے فن طب ہی حاصل نہ کیا بلکہ اس میں مفید اضافے بھی کئے اور امراض و علامات کو اپنے ڈھنگ سے پرکھا اور غذائی و ادویاتی میدان میں ماہرانہ اجتہادی قوانین و تجربات کا اضافہ کیا۔مثلاََ کتاب التیسیر کے مصنف ۔۔ اپنے تجربات بیان کرتے ہوئےلکھتے ہیں:نیز یہ امر بھی صحیح ہے کہ خرگوش کی سری کھانا رعشہ سے محفوظ رکھتا ہے۔میں نے اپنے ذاتی تجربے کے لحاظ سے خرگوش کی سری کھانا فالج اور خدر میں بھی مفید پایا ہے،ساتھ ایک اہم بات تحریر کرتے ہیں:اگرچہ اس خاصیت کا ذکر قدماء میں سے کسی نے نہیںکیا ہے”(کتاب التیسیر فی المداوۃ والتدبیر ابو مروان عبد الملک بن زہر1092تا1162 ۔484ھ تا557ھ)
کتب احادیث میں کئی طرق علاج کو شفاء قرار دیا گیا ہے من جملہ ان میں سے ایک الکی یعنی داغنے کو بھی شفاء قرار دیا گیا۔یہ کافی مہارت طلب کام ہے، ہر کہ و مہ کے بس کی بات نہیں ہے۔کیونکہ دیگر طرق علاج کی نسبت اس میں اناڑی کے علاج کرنے میں زیادہ خطرہ ہے۔گوکہ رسول اللہ ﷺنے اس عمل کو اپنے دست اقدس سے کیااور امراض میں مبتلاء لوگوں کی راحت کا سامان بہم پہنچایا۔
جابر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سعد بن معاذ (رض) کو تیر کے زخم کی وجہ سے جو انہیں لگا تھا ،داغا۔ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٦٩٤) صحیح مسلم/السلام ٢٦ (٢٢٠٨) ، سنن ابن ماجہ/الطب ٢٤ (٣٤٩٤) ، مسند احمد (٣/٣٦٣
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں میں خباب (رض) کے پاس آیا، انہوں نے اپنے پیٹ میں سات داغ لگوا رکھے تھے وہ کہنے لگے : اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں موت کی دعا سے نہ روکا ہوتا تو میں (شدت تکلیف سے) اس کی دعا کرتا۔ : صحیح البخاری/المرضی ١٩ (٥٦٧٢۔ صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٤ (٢٦٨١) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/صفة القیامة ٤٠ (٢٤٨٣) ، (تحفة الأشراف : ٣٥١٨) ، مسند احمد ٥/١٠٩، ١١٠، ١١١، ١١٢ و ٦/٣٩٥ ۔صحيح ابن حبان – محققا (13/ 443)
داغنے کے عمل کو بہت سے اطباء نے اپنے معمولات میں شامل رکھا ،ان میں ایک ابو القاسم الزاہراوی ہے یہ مسلمان طبیب جراحی اور شناخت امراض میں یگانہ روزگار تھے۔ ابو القاسم خلف بن عباس الزاہراوی نے اپنی کتاب “التصريف لمن عجز عن التأليف ” کی نویں فصل میں فالج کا علاج داغنے سے تحریر کیا ہے،فالج والے کے سر اور گردن کے مختلف مقامات پر داغا کرتے تھے ،اسی طریقے سے وہ لقوہ کا علاج بھی کر تے تھے، حیرت انگیز طورپر فالج و لقوہ میں مبتلاء مریض صحت یاب ہوجایاکرتے تھےأبو قاسم الزهراوي الزهراوي أندلس میں 936 و 1013 م. تک موجود رہے۔یہ تاریخ کی ان مشہور شخصیات میں سے تھے، جو فالج کے علاج میں ید طولی رکھتے تھے مگر زہراوی کہتے ہیںان الکی آخر الطب۔داغنا طب میں آخری حربہ ہے ۔ دیکھئے:التصريف لمن عجز عن التأليف، الزهراوي. امام ابن القیم لکھتے ہیں جب دوا کی ہرراہ علاج کا طریقہ مسدود ہوجائے تو پھر داغ سے علاج کیا جائے گا گویا علاج کی آخری تدبیر یہی ہے(طب نبوی ابن القیم) داغنے کا عمل عربوں کی نزدیک آخری حر بہ تھا، عربوں کی زبانوں پر یہ فقرہ زد عام تھا” آخر اکدواء الکی”(تمام علاجوں کے بعد آخری علاج داغنا ہی ہوتا ہے)المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام)
ہمارے آبائو اجداد زمیندارہ اور کھیتی باڑی کرتے تھے۔مال مویش رکھنا ذریعہ معاش تھا ۔ جانوروں میں مختلف بیماریاں پیداہوجاتی ہیں دیہقانی لوگ اپنے طریقے سے علاج و معالجہ کرتے ہیں،آج بھی کچھ لوگ دیہاتوںمیں اس قسم کے علاجوں میں ماہر تصور کئے جاتے ہیں۔داغنے کے سلسلہ میں مجھے اچھی طرح یاد ہے میرے والد محترم اگر جانوروں گائے بھینسوں کی دم میں زخم ہوجاتے یا دم میں کیڑا لگ جاتا کسی دواسے تندرست نہ ہوتے تیل گرم کرکے زخم والے مقام کو داغ دیا کرتے تھے،حیرت انگیز طورپر زخم ٹھیک ہوجاتے تھے۔التصریف میں ۔طبیب زہراوی لکھتے ہیں: ینبغی ان تتقدم فی تنقیۃ الراس بالایارجات۔فالج میں سر میں داغ دینے سے پہلےایارجات سے سر کا تنقیہ ضروری ہے(الفصل التاسع التصریف)
قران و احادیث مسلمان کے لئے آئیں و قانون کی حیثیت رکھتے ہیں ،جہاں جب جسے جو بھی ضرورت محسوس ہوئی پور ی کرلی۔تشریحات و تاویلات وقت کے ساتھ ساتھ حالات و معاملات کے مطابق بھی تحقیقات سامنے آتی ہیں۔مسلمانوں کو ایک دوسرے کےلئے ایک جسم قرار دیا ہے۔اگر اس مثال کو طب کی روشنی مین سمجھنے کی کوشش کریں تو شرح صدر کی کئی جہات سامنے آتی ہیں۔
حدیث مبارکہ ہے
مسلمان ایک دوسرے کے لئے ایک جسم کی مانند ہیں ۔۔۔
حضرت نعمان بن بشیرسے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
مَثَلُ الْمُؤْمِنِینَ فِی تَوَادِّہِمْ وَتَرَاحُمِہِمْ وَتَعَاطُفِہِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ‘ إِذَا اشْتَکَی مِنْہُ عُضْوٌ تَدَاعَی لَہُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّہَرِ وَالْحُمَّی (صحیح البخاری کتاب الادب)
’’مؤمن بندوں کی مثال ان کی آپس میں محبت ‘ اتحاد اور شفقت میں جسم کی طرح ہے کہ جب جسم کے اعضاء میں سے کسی ایک عضو کو کوئی تکلیف ہوتی ہے تو سارے جسم کو نیند نہیں آتی اور وہ بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے.
’مسلمان بندے ایک فردِ واحد کی طرح ہیں‘اگر آدمی کی آنکھ دکھتی ہے تو اس کا سارا جسم دکھنے لگ جاتا ہے اور اگر اس کے سر میں تکلیف ہوتی ہے تو اس کے سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے.‘‘صحیح مسلم‘ کتاب البر والصلۃ والآداب‘ )یعنی تکلیف کہیں بھی ہو لیکن پورا جسم درد محسوس کرتا ہے۔دوسرا قانون یہ بتادیا کہ تکلیف کی حالت میں نیند نہیں آتی اور بخار ہوجاتا ہے۔بس یہی کچھ فالج کے متعلق سمجھ لیں۔کہ ایک معمولی سی رکاوٹ یا بے حسی۔یا پھر حد سے بڑھی ہوئی حس انسان کو تکلیف میں مبتلا کردیتی ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.