اسلام نے سب ادیان کی حفا ظت ہے

اسلام نے سب ادیان کی حفا ظت ہے

اسلام نے سب ادیان کی حفا ظت ہے

اسلام نے سب ادیان کی حفا ظت ہے
اسلام نے سب ادیان کی حفا ظت ہے

اسلام نے سب ادیان کی حفا ظت ہے

تحریر:حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺکاہنہ نو لاہور پاکستان

} قران کریم نے تمام کتب سماوی کو تصدیقی نگاہ سے دیکھا ،انکے منحرف احکامات کو از سرے نو زندہ فرمایا،انکے صحیح عقائد و نظریا ت کی تایئد کی ،لیکن انکے پیرو کار بھٹک گئے تھے ،انہوں نے اپنے رب کے احکامات اپنی مرضی کی کھٹالی میں پگھلاکر عجیب و غریب سانچوں میں ڈھال لیا تھا، یہی وہ بات تھی جسے تسلیم کرنے پر انکی جان جاتی تھی ،اگر وہ اس کجی پر متنبہ ہوجاتے تو خدا کی زمین کو ایک عجیب و غریب خوشگوار ماحول دیکھنا نصیب ہوجا تا ،لیکن ذاتی اغراض اور سیاسی وجوہ کی بنا پر انہوں نے کبھی اسے حق پسند انہ نظر سے دیکھا ہی نہیں، اگر وہ اس بارے زرا سی بھی کوشش کرتے ، یقینا راہ یاب ہوتے، آج بھی اگر ان مذاہب کے پیرو کا ر آنکھوں سے تعصب کی پٹی اتار دیں، تو انہیں متاع گمشدہ کا سراغ مل سکتا ہے، ہجرت مدینہ کے بعدیہودیوں سے جو معاہدہ ہوا، اس میں ایک شق یہ بھی تھی ،، یہودی اور مسلمان ایک امت کی حیثیت رکھتے ہیں ،دونوں کو مذہبی آزادی ہے ،نجران کے عیسائیوں سے بھی ایسا ہی معاہدہ ہوا ، یہ معاہدے کی بات ہوئی ،جب یہود نے اپنے معاہدہ کو خود توڑدیا، تو انہیں بھی مسلمانوں کے حفاظتی اقدامات سے دوچار ہونا پڑا ۔کئی ایک معرکہ جات پیش آئے ،غزوہ خیبر بھی انہی کی سر کوبی کی ایک کامیاب کوشش تھی ،اس موقعہ پر کچھ اوراق مذہبی مال غنیمت میں آئے،یہود نے واپسی کا مطالبہ کیا تو بلا حیل و حجت واپس کردئے گئے [حیات محمدص۴۸۳ محمد حسین ہیکل ]بخاری شریف کی روایت ، اگر یہود کے دس بڑے علماء مذہب اسلام کو مان لیتے، تو یہودیت کے لئے کچھ مشکل نہ ہوتا کہ وہ اسلام کو سمجھیں[بخاری] ،سیرۃ النبی ﷺ میں ایسے واقعات بکثرت ملتے ہیں جہاں لین دین کا ذکر ہے ،جبکہ اتنی مجبوری بھی نہ تھی کہ ان سے معاملات کئے بغیر چارہ نہ تھا، ضرور انہی سے لین دین کیا جاتا ، مگر امت کو ایک سبق دینا تھا کہ دیگر مذاہب کے متبعین کو کس نگاہ سے دیکھنا ہے ،حتیٰ کہ آخری وقت آپ ﷺ کی زرہیں ایک یہودی کے پاس رہن رکھی ہوئی تھیں، جنہیں بعد میں خلفاء نے واگذار کریا ،فتح بیت المقدس کے موقع پر عیسائیوں کے معبد سے ہٹ کر حضرت عمر ؓ نے نماز پڑھی ، حالانکہ انہوں نے معبد کے اندر نماز پڑھنے کی پیش کش کی تھی [ روح اسلام کا مصنف] سید امیر علی لکھتے ہیں اسوقت مٹی میں دبی ہوئی کوئی دیوار دکھائی دی ، پتہ چلا کہ رومیوں نے اس معبد یہود کو مٹی میں دفن کردیا تھا ، حضرت عمر ؓ نے اپنے پہلو سے اسے صاف کرنا شروع کردیا، فوج نے بھی پیروی کی کچھ دیر بعد ہیکل بالکل ظاہر ہوگیا ،یہ واقعات سیرت مسلم کے وہ زریں خطوط ہیں جن پر بعد کے سلاطین بدل و جان چلنا اپنے لئے فخر جانا ، تاریخ کے اوراق اس قسم کے واقعات سے لبریز ہے کہ مسلمان بادشاہ و امراء نے بکثرت غیر مذاہب والوں کے لئے معبد تیار کرائے ، عبدالمک، مہدی ، ہاروں ، مامون ، عضد الدولہ ،فاطمی خلیفہ الظاہر، مقتضی وغیرہ کے ادوار میں نئے نئے گرجے تعمیر ہوئے [دعوت اسلام ]۔۔ خلیفہ معتصم باللہ کے زمانہ خلافت میں [۸۴۴ تا۸۳۳ء]ایک اسلامی سالار نے ایک امام و مئوذن کو صرف اس جرم درے لگوائے تھے ،کہ سفد کے شہر میں انہوں نے ایک آتش کدہ کو توڑ کر اس کی جگہ مسجد بنا دی تھی [خوسوں ص۲۸۷ج۱۔۔بحوالہ دعوت اسلام ص۱۸۱] برہمن آباد پر ،جب عربوں نے سخت حملہ کرکے قبضہ کیا تو، وہاں کے لوگوں نے مندروں کی مرمت کی اجازت چاہی، تو انہیں دیدی گئی، انہیں مندروں کی آمدن پر انکا گذارا تھا ،کسی شخص کو اسکی پیروی سے نہ روکا گیا [ایضا حوالہ بالا ص۲۱۹]
{مصر}مصر یعقوبی عیسائی فرقے کو جنکا دوسرا نام قبطی تھا، کو فتح مصر کے بعد مسلمانوں نے وہ آزادی دی، جسکا وہ تصور بھی نہ کرسکتے تھے ،حضرت عمرو ابن العاص ؓ نے انکے گرجائوں میں قطعی مداخلت نہ کی ،انکی ملکیت میں رہنے دئیے گئے انہیں خود مختاری دی ،عیشویان لکھتا ہے ، بلا شبہ وہ عرب جن کو خدا نے دنیا پر حکمرانی عطاء کی تھی، وہ ہم سے اس طرح پیش آئے جیساکہ تم جانتے ہو ،وہ عیسائیت خلاف نہیں بلکہ ہمارے مذہب کی تعریف کرتے تھے ، ہمارے پادری اور دوستوں کی تعریف کیا کرتے تھے،اور ہمارے کنسیائوں اور خانقاہوں کی طر ف تعاون کا ہاتھ دراز کرتے تھے [یہ۶۴۷ء تا ۶۴۷ء ، پادری رہا[روح اسلام ص۷۰۱]
{ہنسپانیہ}بجز ایسے جرائم کے جو شریعت اسلام کے خلاف سر زد ہوں، عیسائیوں کے کل مقدمات انہی کے ججوں کے سامنے اور انہی کے قانون کے مطابق فیصلہ پاتے تھے ،مذہب کی پیروی میں عیسائیوں کا کوئی مزاحم نہ تھا، قربانی کی سکرا منت ، بخور، و ناقوس اور دیگر رسو م جامعیت سے ادا ہوتی تھیں ،کوئر میں مسیحی سرودگایا جاتا تھا ،مسیحی واعظ لوگوں کو واعظ سناتے تھے، انکو گرجا تعمیر کرنے کی اجازت تھی ، ہسپانیہ کا ایک سیاح لکھتا ہے ،اسکی حکومت عیسائی آذادی سے اپنے مذہب کے پابند تھے، اپنے مال سے نفع اٹھا تے تھے ،ایک ہسپانیوی اسقف نے یحیٰ گواتری سے عیسایئوں کی حالت اس طرح بیان کی ہے ہم اپنے گناہوں سے اس درجہ پہنچے کہ اب کفار کی حکومت ہم پر ہے ،ہم کو پولوس رسول کے حکم سے حاکم وقت کا مقابلہ کرنے سے منع کیا گیا ہے ، لیکن صرف ایک بات تسکین کی ہے ، جو ہمارے لئے باقی رہ گئی ہے ، ان تمام مصیبتوں میں ہم کو اپنے دین و آئین کی پیر وی سے مسلمان منع نہیں کرتے ، بلکہ عیسایئوں پر جو اپنے مذہب کے سخت پابند ہیں مہر بانی کرتے ہیں ،اور ان سے رسم دوستی پیدا کرتے ہیں ، اور مل کر خوش ہوتے ہیں ،پس جب تک ہم پر یہ وقت ہے ہم نے اس بات کو مصلحت جانا کہ جب مسلمانوں نے ہمارے مذہب کو نقصان نہیں پہنچایا، تو باقی باتوں میں ہم بھی انکی فرمانبرداری کریں، اور انکے احکام جہاں تک ہوسکے وہ ہمارے مذہب میں مخل نہ ہوں تعمیل کریں [دعوت اسلام از پروفیسرآر لنڈص۱۴۳]
{ترکی} سلطان محمد ثانی نے قسطنطین پر قبضہ کرنے اور شہرمیں امن ہونے پر عیسائیوں پر سختی کرنے سے منع کردیا ،ایک فرمان کے موجب قسطنطنیہ کے نئے بطریق کو اور اس کے جانشینوں اور ماتحت ا سقفوں کو قدیم اختیا رات جو حکومت سابقہ میں انکو حاصل تھے دئے ، اور جو زرائع انکی آمدنی کے تھے وہ بحال ہوئے ،اور جن قواعد سے مستسنیٰ تھے ان سے مستسنیٰ کئے گئے ،گنا دوس جو ترکوں کی فتح کے بعد قسطنطنیہ کا پہلا بطریق ہوا ، سلطان نے اپنے ہاتھ سے وہ عصا عنایت فرمایا جو اس کے منصب کا نشان تھا ، اور ایک خریطہ جس میںہزار اشرفیاں تھیں، اور ایک گھوڑا جس پر بہت تکلف کا سامان تھا ،اسکو دیا ،کہ وہ اپنے قدیم سامان جلوس کے ساتھ شہر میں سوار ہو کر دورہ کرے …اور عیسایئوں کو اختیار دیا گیا کہ مذہبی رسوم اپنے اپنے دستور کے مطابق علی الاعلان ادا کریں[دعوت اسلام ص۱۳۳]انہیں وہ تمام اختیارات حاصل تھے جو انکو اپنی مسیحی حکومت میںدئے گئے تھے ،ان کے مذہبی معاملات میں قطعی دست اندازی نہ کی جاتی تھی ،مئورخ اودود لکھتا ہے کہ ،ہم مذہب یونانئوں سے عیسائی زائیرین کافروں میں جو ان پر ترس کھاتے تھے پناہ لیتے اور سنا جاتا ہے کہ جب ترک کوچ کرنے کو ہوئی تو تین ہزار سے زیادہ عیسائی ترکوں میں شریک ہوگئے ،یہ سلطنت تو بڑھ کر ظلم ہے ، مسلمانوں نے عیسایئوں کو روٹی لیکن انکا مذہب انسے چھین لیا ، گوکہ یہ یقینی بات ہے کہ عیسایئوں کی خدمت سے رضا مند ہوکر ترکوں نے ان میں سے کسی کو بھی اپنا مذہب ترک کرنے پر مجبور نہیں کیا [دعوت اسلام ص۹۰ ]ان واقعا ت کا احصیٰ مقصود نہیں، صرف یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام نے دیگر مذاہب کو جس خندہ روئی سے برداشت کیا، وہ اپنی مثال آپ ہے اگر دیگر مذاہب اسکا عشر عشیر بھی کر لیتے توآج انہیں تعصب میں جان کھپانے کی ضرورت نہ ہوتی ، انکے سارے مسائیل خود بخود حل ہوجاتے ،جو اصحاب اس بارہ میں تحقیق و تدقیق کا شوق رکھتے ہوں وہ دعوت اسلام نامی کتا ب جو ایک عیسائی مصنف کے قلم کی مرہون منت ہے، کا مطالطہ کریں۔
{ہندستان}میں جب اسلامی ریاستیں قائم ہوئیں تو والیان ہند نے فراخ دلی سے انہیں مندر بنانے کی اجازت دی بلکہ اکبری دور میں تو ایسی ہندو نوازی کی مثالیں ملتی ہیں، جو بعد میں مسلمانوں کے لئے درد سر بن گئی، اور اکبر کے وارثوں کو تشویش میں مبتلاء کردیا ،مندروں کی تعمیر و مرمت ہی نہیں بلکہ انہیں اوقاف میں جاگیریں بھی عطاء کیں ،
{اہل کتاب سے مطالبہ}کتب احادیث میں اس بات کی صراحت پائی جاتی ہے، کہ جب تک آنحضرت ﷺ کے لئے کوئی حکم آسمان سے نہیں اتر تا تھا، تب تک آپ ﷺ اہل کتاب کے طریقے کو پسند فرماتے ، اور مشرکیں کی مخالفت فرماتے ، کتب تفاسیر میں بہت سی سورتوں کے متعلق مذکور ہے کہ یہ سورتیں مجھے تورات سے و انجیل سے دی گئی ہیں، جب قیصر و کسریٰ میں چپقلش ہوئی تو آپ ﷺ کا رجحان رومیوں کی طرف تھا، اور مشرکین ایرانئیوں کے ہمدرد تھے[ سورہ روم کے ابتداء میں اسکی تصریح موجود ہے] آپ ﷺ کے معاہدے اہل کتاب یہود و نصارا سے طے پائے آج بھی موجود ہیں ،جن کے مطالعہ سے آج بھی اپنایت کی بو آتی ہے ، البتہ جب انہوں نے حدوداللہ سے تجاوز کیا تو اب نبی کے منصب کے لحاظ سے انکی گوش مالی لازم قرار پائی، اسلام کا اہل کتاب سے کوئی مطالبہ نہیں ماسوائے اس کے کہ جو حکم کتب مقدسہ میں ہے ،اس کی پیروی کریں ،وبس۔۔کیونکہ اسلام ادیان سماوی کا مصدق ہے ،اس حیثیت سے لازم ہے کہ وہ احکامات جومنحرف ہوچکے ہیں ،اصلی حالت میں قائم کرکے انہیں قابل عمل بنایا جائے،
{حقیقت نسخ }اصول بدلتے نہیں ، اور جنتری کے اصول بحالہِ قائم ہیں، لیکن تاریخیں ہر سال کی مختلف ہوتی ہیں، اور شریعت محمدی آخری شریعت ہونے کی وجہ سے دائیمی جنتری کا حکم رکھتی ہے ،ادنی سی مثال شریعت اسلامیہ کو علم ہندسہ اور تحریر اقلید س کی طرح سمجھو[چہ نسبت کا را بہ عالم پاک]کہ اپنی میدان میں حدکمال کو پہنچ چکا ہے۔ اس میں غلطی نکالنا اپنی جہالت و نادانی کا ڈنکا بجانا ہے ،موجودہ سائنس نے تحریر اقلیدس میں جو ترقی کی ہے ،اقلیدس کے دعوئوں کو ثابت کرنے کے لئے، اور انکو حسی طور پر سمجھا نے کے لئے پیمائش کے آلات ایجاد کردئے ہیں ، اس ترقی سے اصول علم میں کوئی ترقی نہیں ہوئی ،صرف حسی تجر بہ میں اضافہ ہوا ہے ، یا یوں کہئے کہ عقل سے بوجھ ہلکا ہوگیا ہے،اور تمام بوجھ ظاہری حواس پر آپڑا ، مادیات کی ترقی ہے ،انبیاء سابقہ میں یہ بات ہر کوئی تسلیم کرتا ہے کہ آنے والا نبی کچھ نہ کچھ وقت کے لحاظ سے ایسی چیز لیکر آیا کرتھا ،یاتو پہلے سے مختلف ہوتی یا پھر پہلے احکام کا بدل مثلاـ:شریعت آدم ؑ میں دو بہنوں کے ساتھ نکاح جائز تھا ،شریعت موسوی میں اونٹ کا گوشت حرام تھا کا حکم، مولانا کاندھلوی ؒفرماتے ہیں ، غرض یہ کہ جب اولین و آخرین کے کمالات اور معجزات پر نظر ڈالو تو یہ نظر آئیگا کہ محمدﷺ تمام انبیاء کے سالار اور سب رسولوں کے سردار ہیں ،اور آپ ﷺ کادین آخری دین ہے ، اور تمام ادیان کاناسخ ہے ،اور علماء اہل کتاب بھی نسخ کے قائیل ہیں ، حضرت آدم کی شریعت میں ،بہن بھائی میں نکاح جائز تھا ،جو شریعت موسوی میں منسوخ ہوگیا ،شریعت آدمؑ میں سب جانور حلال اور سب کا کھانا جائز تھا، جو بعد کی شریعتوں میں منسوخ ہوگئے شریعت یعقوبی میں بیوی کی بہن سے نکاح جائز تھا ،موسوی میں منسوخ ہوگیا ، ختنے اور قربانیوں کا حکم شریعت ابراہیمی ؑمیں تھا عیسوی شریعت میں منسوخ ہوگیا ،اور بہت سی چیزیں جو پہلی شریعتوں میں حرام تھیں، وہ عیسوی شریعت میں حلال ہوگیئں ، اسی طرح سمجھو کہ گذشتہ شریعتوں کی شریعت محمدی ناسخ ہے [پیام اسلام اور مسیحی اقوام کے نام ص۲۰]
{مشترک چیزیں}جو چیزیں تمام ادیان سماوی میں متفقہ علیہ ہیں ، انکے بارہ میں تو سب کو چاہئے کہ مانیں اور دل و جان تسلیم کریں اہل کتاب و مسلم سب ہی توحید و رسالت اور آخرت کے تصوررات سے آشناہیں ،تعصب برطرف ۔ ایک ایسی راہ تلاش کرنی چاہئے جو سب کے لئے ممکن العمل ہو، انصاف کی بات تو یہ ہے کہ اہل کتاب جن باتوں کو اپنے ا نبیاء کے لئے بھی تسلیم کریں جب اپنی بات منواتا ہے تو چاہئے کہ اگلے کا مئوقف بھی ٹھنڈے دل سے سنے ،۔ڈاکٹر محمد حسین ہیکل صاحب تحریر فرماتے ،یہ لوگ اس چیز پر غور کرتے کہ نبی ﷺ کی دیگر انبیاء کرام سے مماثلت نہیں ہے، آپ ﷺ کی رسالت سابق انبیاء کی رسالت و نبوت سے مختلف ہے ،نبی ﷺایک طرف تو خاتم النبیین ہیں اور دوسری طرف وہ اولین رسول جو عالمین کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے آپ ﷺ کی رسالت کسی ایک قوم تک محدود نہیں ہے [حیات محمدص۷۶مقدمہ ثانی]
{تمام جہانوں کے پیغمبر}نبیﷺ نے دعوتی کام کو، مکے، یا مدینہ کی حد تک محدود نہیں رکھا ،بلکہ اقصائے عالم تک اسکی اشاعت فرمائی ،جہاں تک آپ ﷺ زندگی کا تعلق ہے تو دین الٰہی حدودعرب کو محیط ہوچکا تھا ، اور ٓپ ﷺکی،نبوت کے طفیل خلفائے راشدین کے ادوار میں اقصائے عا لم میں اس کی گونج سنائی دیتی تھی ،آنحضرت ﷺ کی آفاقیت مسلمہ تھی آپ ﷺ نے حضرت زید ؓ کو عبرانی و سریانی زبانیں سیکھنے کی تلقین فرمائی [بخاری]وقت کے اہم فرماں روائوں کو خطوط تحریر کئے ، اگر آپﷺنبوت بھی دیگر انبیاء کی طرح محدود ہوتی، تو اسکی ضرورت ہی کیا تھی؟
[وما ارسلناک الا کافۃ الناس۔۔القران] نبیﷺکی مسلسل اور پہم دعوت اور بیس برس کی جدو جہد نے آپ کو کسی طرف سے غافل نہ کیا یہاں تک کہ اسلامی پیغام اتنے بڑے پیمانے پر کامیاب ہوا کہ عقلیں حیران رہ گیئں سارا جزیرہ عرب آپ کے تابع فرمان ہوگیا اس کے افق سے جاہلیت کا غبار چھٹ گیا بیمار عقلیں تندرست ہوگئیں یہاں تک کہ بتوں کو توڑ بلکہ چھوڑ دیا گیا توحید کی آوازوں سے فضا گونجنے لگی۔ ایمان جدید سے حیات پائے ہوئے صحرا کا شبستان وجوداذانوں سے لرزنے لگا اور اس کی پنہائیوں کو اللہ اکبر کی صدائیں چیرنے لگیں۔قُّراء،قران کریم کی تلاوت کرتے اور اللہ کے احکام قائم کرتے ہوئے شمال وجنوب میں پھیل گئے۔ بکھری ہوئی قومیں اور قبیلے ایک ہوگئے ۔انسان بندوں کی بندگی سے نکل کر اللہ کی بندگی میںداخل ہوگیا،اب نہ کوئی قا ہر ہے نہ مقہور۔نہ مالک ہے نہ مملوک،حاکم ہے نہ نہ محکوم،ظالم ہے نہ مظلوم بلکہ سب اللہ کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی ہیں ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں اور اللہ کے احکام بجالاتے ہیں،اللہ نے ان سے باپ دادا پر فخر جاہلیت کا غرور و نخوت کا خاتمہ کردیا،اب عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کالے کو گورے اور گورے کو کالے پر کوئی برتری نہیں،برتری کا معیار صرف اور صرف تقوی ہے ورنہ سارے لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنے ہیں ۔غرض کہ اس دعوت کی بدولت عربی وحدت انسانی وحدت اور اجتماعی عدل وجود میں آگیا،نوع انسانی کو دنیاوی مسائل اور اُخروی معاملات میں سعادت کی راہ مل گئی ۔بالفاظ دیگر زمانے کی رفتار بد ل گئی اور روئے زمین متغیر ہوگیا تاریخ کا دھارا مُڑ گیا اور سوچنے کے انداز بد ل گئے،اس دعوت سے پہلے دنیا پر جاہلیت کی کارفرمائی تھی اس کا ضمیر متعفن تھا اور روح بدبودار تھی ،دریں اور پیمانے مختل تھے ظلم وغلامی کادور دورہ تھا فاجرانہ خوش حالی اور تباہ کن محرومی کی موج نے دنیا کو تیہہ و بالاکررکھا تھا اس پر کفر و گمراہی کے تاریک اور دبیز پردے پڑے ہوئے تھے ۔حالانکہ ادیان و مذاہب موجود تھے مگر ان میں تحریف نے جگہ پالی تھی اور ضعف سرایت کرگیا تھا اس کی گرفت ختم ہوچکی تھی اور وہ محض بے جان و بے روح قسم کے جامد رسم و رواج کا مجموعہ بن کر رہ گئے تھے۔جب اس دعوت نے انسانی زندگی پر اپنا اثر دکھایا تو انسانی روح کو وہم و خرافات بندگی و غلامی،فساد و تعفن اور گندگی و انارکی سے نجات دلائی اور معاشرہ انسانی کو ظلم و طغیان پراگندگی و برباد ی، طبقاتی امتیازات،حکام کے استبداد اور کاہنوں کے رسوا کن تسلط سے چھٹکارا دلایا اور دنیا کو عفت و نظافت،ایجادات و تعمیر،آزادی و تجدد،معرفت و یقین،وثوق وایمان، عدالت و کرامت اور عمل کی بنیادوں پر زندگی کی بالیدگی،حیات کی ترقی اور حقدار کی حق رسائی کے لئے تعمیر کیا[سید قطب در مقدمہ ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین صفحہ۱۴]

Leave a Reply

Your email address will not be published.