اسلام صحت و مرض کے متعلق تین مرحلے اختیار کرتا ہے۔

اسلام صحت و مرض کے متعلق تین مرحلے اختیار کرتا ہے۔
اسلام صحت و مرض کے متعلق تین مرحلے اختیار کرتا ہے۔

اسلام صحت و مرض کے متعلق تین مرحلے اختیار کرتا ہے۔

تحریر۔
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

(1)صحت جیسی انمول نعمت جو کہ عطیہ خدا وندی ہے اس کی حفاظت کی جائے، طبی اصولوں کو اپنایا جائے، تاکہ صحت کو تادیر اصلی حالت میں برقرار رکھا جاسکے۔امراض کی عمومی شروعات منہ کے راستے ہوتی ہیں۔قران کریم نے تین جملوں میں اسے بیان کردیا۔کلوا واشربوا ولا تسرفوا۔ کھائو پیو لیکن اسراف مت کرو۔سبحان اللہ ان الفاظ میں معانی کا سمندر موجزن ہے ۔غور فرمائے قران کریم نے ہر انسان کو اجازت دی کھانے پینے میں کوئی مقدار مقرر نہیںہے،جو کو جسمانی ضرورت کے مطابق جس قدر کھانا درکار ہو، کھائے،جو مشروب چاہے پئے،لیکن اسراف سے کام نہ لے ،سادہ لفطوں کو کہ ایک انسانی کی ضرورت ایک روٹی سے پوری ہوجاتی ہے ،اسے اتنی ہی کھانی چاہئے ۔
(2)دوسرا انسان عام جسمانی لحاظ سے زیادہ جسامت کا مالک ہے اس کا ایک روٹی سے گزارا نہیں ہوتا ،وہ چار کھائے ،لیکن اسراف نہ کرے ۔ کھانے پینے پر پابندی نہیں لیکن اعتدال کا حکم ہے۔اس آیت کی تشریح احادیث میں کردی گئی کہ ۔آدمی کے لئے مناسب ہے کہ پیٹ کے تین حصے کرے ، ایک کھانے کے لئے دوسرا پانی کے لئے، تیسرا سانس کے لئے(ابن ماجہ ( 3349 )) میانہ روی سے کھانا کھانا اور مکمل طور پر پیٹ نہ بھرنا بھی کھانے کے آداب میں شامل ہے، اس کے لئے ایک مسلمان کو اپنے پیٹ کے تین حصے کرنے چاہئیں، ایک تہائی کھانے کیلئے، ایک تہائی پانی کیلئے اور ایک تہائی سانس لینے کیلئے، جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے: “کسی انسان نے اپنے پیٹ سے بُرا برتن کبھی نہیں بھرا ،ابن آدم کے لیے چند نوالے کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھیں اور اگر زیادہ کھانا ضروری ہو تو تہائی پیٹ کھانے کے لیے، تہائی پینے کے لیے اور تہائی سانس کے لیے مختص کر دے” ترمذی ( 2380 ) البانی نے اسے صحيح ترمذی ( 1939 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
دوسری جگہ ارشاد فرمایا ہے کہ آدمی کے لئے وہ چند لقمے کافی ہیں جو کمر سیدھی کرنے کا سبب بن سکیں(سنن ابن ماجہ/الأطعمة 50 (3349) (تحفة الأشراف: 11575)، و مسند احمد (4/132) (صحیح))یعنی کھانے پینے میں رکاوٹ نہیں جس قدر ضرورت ہو جی بھر کے کھا ئے ، کھانے پینے میں کمی بیشی کی مقدار مقرر نہیں کی گئی۔کیونکہ زیادہ کھانے والے بھی ہوتے ہیں ،کم کھانے والے بھی،ہر ایک کو کھلی اجازت ہے مگر ضرورت سے زیادہ نہ کھائو۔
ایک مرتبہ ارشاد فرمایا۔نحن قوم لاناکل حتی نجوع۔واذا اکلنا لانشبع۔ہم بغیر بھوک کے کھانا نہیں کھاتے ،کچھ بھوک باقی ہوتی ہے تو ہم کھانے سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں(الرسول الطبیب22)
، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: قَدْ أَخَذْتُ السُّنَنَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالشِّعْرَ وَالْعَرَبِيَّةَ عَنِ الْعَرَبِ، فَعَنْ مَنْ أَخَذْتِ الطِّبَّ؟ قَالَتْ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ رَجُلًا مِسْقَامًا وَكَانَ أَطِبَّاءُ الْعَرَبِ يَأْتُونَهُ فَأَتَعَلَّمُ مِنْهُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ “المستدرك على الصحيحين للحاكم (4/ 218)

Leave a Reply

Your email address will not be published.