ارتھ شاستر Arthshastar (Urdu)

ارتھ شاستر Arthshastar (Urdu)

ارتھ شاستر Arthshastar (Urdu)

ہندو ذۃبیت  اور سیاست کو سمجھنے کے لئے ان مذہبی روایات کا مطالعہ کرنا ضروری ہے جنہیں وہ اپنے مذۃب و سیاست کا حصہ سمجھتے ہیں،اسے سمجھنے میں ارتھ شاستر سے بہتر کوئی کتاب نہیں ہے

ارتھ شاستر” وشنو گپت کوٹلیہ چانکہ کی تصنیف ہے جو چندر گپت موریہ کا وزیر تھا۔ کوٹلیہ نے ایک عملی ضابطہ مرتب کیا تھا، تاریخ نویسی کے لئے قلم نہیں اٹھایا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ اس کی تصنیف ایک اہم تاریخی دستاویز بن گئی۔  اس کتاب کو
سائز: 13.75 میگا بائٹس

 

چانکیہ : ایک عظیم عالم یا شیطان مجسم

؟

 عدنان خان کاکڑ

ٹیکسلا یونیورسٹی کا وہ عالم کی جو ہندو نہ ہوتے ہوئے بھی ہمارے نزدیک عیار ہندو ذہنیت اور بدی کی علامت ٹھہرا ہے۔

چانکیہ۔ ہمارے عام آدمی کے لیے منفی ہندو ذہنیت کا استعارہ ہے۔ لیکن دنیا کے لیے وہ اتنا عظیم عالم ہے کہ اس کا نام پولیٹکل سائنس کے بانیوں افلاطون اور ارسطو کے ساتھ لیا جاتا ہے، تو دوسری طرف اسے آدم سمتھ کی کلاسیکی اکانومی سے پہلے کے دور کا عظیم ترین معیشت دان جانا جاتا ہے۔

ہمارے اپنے ٹیکسلا کا یہ فرزند ہمارے لیے نفرت کا نشان ہے۔ لیکن اس کے بارے میں ہمارے علم کا یہ عالم ہے کہ ہم اس کا نام بھی درست طریقے سے نہیں لیتے ہیں، اور اسے چا۔نک۔یا کی بجائے چانک۔یا کہہ کر پکارتے ہیں۔ اور اسے ہندو ذہنیت کا نمائندہ قرار دیتے ہوئے یہ بھی نہیں سوچتے کہ چانکیہ ہندو نہیں تھا بلکہ ہندو برہمنوں کے خلاف پیدا ہونے والے مذہب سے تعلق رکھتا تھا۔ آئیے اس کے بارے میں مزید کچھ جانتے ہیں۔

\”\”یہ محترم تقریباً 350 قبل از مسیح میں پیدا ہوئے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ چانکیہ کی جائے پیدائش ٹیکسلا تھی۔ کچھ اسے شمالی ہندوستان کا پیدائشی قرار دیتے ہیں۔ اور کچھ جنوبی ہندوستان کا۔ ہر خطہ اسے اپنانے کے لیے بے قرار ہے۔ سوائے ٹیکسلا کے۔ جسے کے بارے میں سب متفق ہیں کہ چانکیہ نے وہیں ابتدائی تعلیم پائی اور بعد میں ٹیکسلا یونیورسٹی سے ہی اعلی تعلیم پا کر وہاں استاد بنا۔

چانکیہ کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں ہے۔ مختلف حکایات ہی ملتی ہیں۔ کچھ کہتی ہیں کہ وہ پاٹلی پتر، موجودہ پٹنہ، کے مگدھ نندا راجہ کے دربار میں ایک وزیر کے توسط سے گیا، اور وہاں سے نندا راجہ نے اسے بے عزت کر نکال دیا۔ اس پر چانکیہ نے قسم کھائی کہ وہ مگدھ کی سلطنت تباہ کر دے گا۔ کچھ کہتے ہیں کہ جب سکندر یونانی نے ٹیکسلا فتح کیا تو چانکیہ مگدھ کے راجہ کے پاس گیا کہ یونانیوں کو یہاں سے نکال دو۔ لیکن مگدھ کے راجہ نے الٹا چانکیہ کو ہی نکال دیا۔ اس پر چانکیہ نے مگدھ سلطنت کو تباہ کرنے کی قسم کھائی۔
\”\”بہرحال، ٹیکسلا میں ہی چانکیہ اور ایک بے سر و سامان کھشتری چندر گپت کی ملاقات ہوئی۔ دونوں نے مل کر اس طاقت ور مگدھ سلطنت کو فتح کرنے کا خواب دیکھا جس کے دو لاکھ پیدل فوجیوں، اسی ہزار گھڑ سواروں، آٹھ ہزار جنگی رتھوں، اور چھے ہزار جنگی ہاتھیوں کی فوج کا ذکر سن کر ہی پورس کی لڑائی سے حواس باختہ سکندر کی یونانی سپاہ نے سکندر سے بغاوت کر کے واپسی کی راہ اختیار کی تھی۔

بہرحال ہمالیہ کے راجہ پرواتکا، جو بعض لوگوں کے نزدیک پورس کا ایک نام ہے، کے ساتھ مل کر مگدھ کے خلاف جنگ شروع ہوئی۔ 322 قبل از مسیح تک چندر گپت موریہ نے مگدھ کو فتح کر لیا تھا۔ 323 قبل از مسیح میں سکندر کے مرحوم و مغفور ہونے کے بعد اس کے چھوڑے ہوئے صوبے داروں سے بھی چندر گپت موریہ کی جنگیں شروع ہو گئی تھیں۔ ان صوبے داروں میں سے کم از کم دو نے مشکوک حالات میں داعی اجل کو لبیک کہا جس میں چانکیہ کے جاسوسوں کا ہاتھ ہونے کا شبہ کیا جاتا ہے۔ ان جنگوں میں چندر گپت نے موجودہ پاکستان کا کافی علاقہ یونانیوں سے واپس چھین لیا۔ 305 قبل از مسیح میں سکندر کے جانشینوں میں سے سب سے طاقتور، سلیکوس سے چندر گپت کی جنگ ہوئی۔ سلیوکس گندھارا سے لے کر ایران اور بابل تک کا بادشاہ تھا۔
\”\”چانکیہ کی سکھائی پڑھائی کام آئی اور چندر گپت مورنہ نے سلیوکس کو جنگ میں شکست دی۔ سلیوکس نے اپنی بیٹی کی شادی چندر گپت موریہ سے کر کے اور موجودہ پاکستان کا تقریباً پورا علاقہ اور موجودہ افغانستان کا کافی زیادہ حصہ چندر گپت کی نذر کیا۔ چندر گپت موریہ نے ازراہ کرم پروری سلیکوس کو پانچ سو جنگی ہاتھیوں کا تحفہ دیا۔ ان ہاتھیوں ہی کی وجہ سے سلیوکس نے سکندر کے دوسرے کامیاب ترین جرنیل جانشین بادشاہ، اینٹی گونس کو اناطولیہ میں شکست دی۔

بہرحال، اس زمانے میں ریٹائرمنٹ ایج شاید چالیس پینتالیس سال تھی، تو جین مت کو ماننے والا چندر گپت موریہ محض اکتالیس بیالیس سال کی عمر میں راج پاٹ اپنے بیٹے بندوسار کے سپرد کر کے سادھو ہو گیا۔ اور جین روایات کے مطابق تادم مرگ فاقہ کشی اختیار کر کے پرلوک سدھار گیا۔

اس کے بعد چانکیہ نے بندوسار کے لیے وزارت کی ذمہ داری سنبھال لی اور اس کی مدد سے بندوسار نے سولہ ریاستوں کو شکست دے کر انہیں اپنی سلطنت میں شامل کیا اور بحیرہ عرب سے لے کر خلیج بنگال تک کا علاقہ اس کی سلطنت میں شامل ہوا۔ 275 قبل از مسیح میں چانکیہ کا انتقال ہوا۔

چانکیہ کے انتقال پرملال کے بارے میں دو روایتیں مشہور ہیں۔ ذرا سنسنی خیز والی یہ ہے کہ مہاراجہ چندرگپت کو زہر کے ذریعے موت سے بچانے کے لیے چانکیہ اسے روز تھوڑا تھوڑا زہر دے کر اس کا عادی بنا رہا تھا (نوٹ کریں، کوئی محقق کوشش کرے تو کچھ زور لگا کر ویکسین بھی ممکنہ طور پر چانکیہ کی ایجاد ثابت کی جا سکتی ہے)۔ ایک دن مہاراجہ کا کھانا مہارانی تناول فرما گئیں اور انتقال فرما گئیں۔ اس وقت وہ حاملہ تھیں اور چانکیہ نے اسی وقت اپنے خنجر سے بڑا آپریشن کر کے راجکمار بندوسار کو مہارانی کے پیٹ سے نکال کر بچا لیا۔ بعد میں پینتالیس سال کی عمر میں مہاراجہ بندوسار پر ان کے وزیر سبندھو نے، جو چانکیہ سے جلتا تھا، یہ راز فاش کیا کہ چانکیہ کا دیا ہوا زہریلا کھانا کھانے کی وجہ سے مہاراجہ کی اماں سورگ باشی ہوئی تھیں، تو مہاراجہ چانکیہ سے شدید ناراض ہو گئے۔ چانکیہ کو پتہ چلا کہ مہاراجہ اس سے اس حد تک ناراض ہے تو چانکیہ نے، جو جین مت کا پیروکار تھا، موت کے لیے جین مت کی ایک عمومی روایت کا سہارا لیا۔ تادم مرگ فاقہ کشی کا، جیسے چندر گپت نے بھی کیا تھا۔

اسی اثنا میں بندوسار کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس نے سبندھو کو چانکیہ کے پاس بھیجا کہ مہاراج، اپنا فاقہ توڑ کر زندگی کی طرف لوٹ آئیں۔ لیکن سبندھو نے چانکیہ کو زندگی کی طرف واپس لانے کی بجائے اسے زندہ جلانے کی رسم کا بندوبست کر دیا۔ اس کے تین سال بعد بندوسار بھی راج پاٹ اپنے بیٹے اشوکا کے حوالے کر کے سادھو بن گیا اور خود فوت ہو گیا۔ بندوسار اپنے باپ چندر گپت اور چانکیہ کے برعکس جین مت کی بجائے ایک ناستک مذہب آجیویکا کا پیروکار تھا۔

دوسری ذرا کم مصالحے والی روایت، جو کہ حقیقت کے زیادہ قریب ہے وہ یہ کہتی ہے کہ عیار و مکار چانکیہ، کسی کل کے بچے وزیر کی سازش کا شکار نہیں ہوا تھا۔ جب اس کی عمر تقریباً پچھتر برس ہو گئی، تو وہ سادھو ہو گیا اور جین مت کے فاقہ کشی کے ذریعے فوت ہونے کے مقبول طریقے کے ذریعے آنجہانی ہو گیا۔

چانکیہ کی کتاب ارتھ شاستر پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کے تین حصے ہیں۔ انتظامیہ، ضابطہ قانون و انصاف، اور خارجہ پالیسی۔ ہماری روایات میں چانکیہ اپنی اسی خارجہ پالیسی، اور دشمن کو شکست دینے کے لیے جاسوسی اور سبوتاژ کی کارروائیاں کرنے کے طریقے سکھانے کی وجہ سے ”ہندو عیاری“ کی علامت بن گیا ہے۔ حالانکہ یہ طریقے ہر ریاست اختیار کرتی ہے۔ ان میں مسلم اموی اور عباسی خلافتیں بھی شامل ہیں، اورنگ زیب جیسا نیک بادشاہ بھی، اور انہیں کارروائیوں کی وجہ سے ہم دعوی کرتے ہیں کہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں نمبر ون ہیں۔ لیکن انہیں کارروائیوں کا سلیبس اگر چانکیہ مرتب کرے تو وہ ہندو نہ ہونے کے باوجود ”شیطانی ہندو ذہنیت“ کی علامت قرار پاتا ہے۔

ارتھ شاستر میں خارجہ پالیسی کے علاوہ بہت کچھ ہے۔ علوم و فنون، زراعت، معیشت، ازدواجیات، سیاسیات، صنعت و حرفت، قوانین، رسوم و رواج، ادویات، فوجی مہمات، اور ریاست کے استحکام سمیت بہت سے موضوعات پر اس میں تفصیلی بحث کی گئی ہے۔

آزادی کے بعد بھارتی حکومت نے نئی دلی کا ڈپلومیٹک انکلیو بنایا تو اس کا نام چانکیہ پوری رکھا۔ 1956 میں چانکیہ پوری میں مشہور امریکی چیف جسٹس ارل وارن نے امریکی سفارت خانے کا سنگ بنیاد رکھا تو کہا کہ ”انڈیا کے پاس حضرت مسیح کی ولادت سے تین سو سال پہلے ایک ایسا عظیم دانشور تھا جس نے کہا کہ ایک حکمران ایک ایسا شخص ہوتا ہے جو اپنی رعیت کو ناخوش نہیں کر سکتا ہے اور اسے ایسا کچھ نہیں کرنا چاہیے جس سے اس کے عوام اسے ناپسند کرنے لگیں“۔

اس جین مت کے پیروکار چانکیہ کی بس ایک غلطی شاید ہم معاف نہ کر سکیں۔ اور وہ یہ کہ وہ دنیا میں طلوع اسلام سے نو سو برس پہلے پیدا ہو گیا۔ ورنہ ہم اپنے ٹیکسلا کے اس عظیم عالم کو شاید اتنا برا نہ جانتے۔

چانکیہ کے بارے میں محض جہالت اور تعصب کی بنا پر رائے بنانی ہے تو دوسری بات ہے، ورنہ اس کی کتاب پڑھ کر اسے جاننے کی زحمت تو کر لیں۔
چانکیہ کی کتاب ارتھ شاستر میں کیا لکھا ہے؟

چانکیہ کی کتاب ارتھ شاستر میں کیا لکھا ہے؟
17/12/2016 عدنان خان کاکڑ 9,081 Views

گزشتہ مضمون میں ہم نے کوٹلیہ چانکیہ کا تعارف پیش کیا تھا۔ آج اس کی مشہور عالم کتاب کی بات کرتے ہیں۔ ٹیکسلا یونیورسٹی کے استاد کوٹلیہ چانکیہ کی کتاب ارتھ شاستر پولیٹیکل سائنس کی ایک اہم کتاب ہے۔ اس کتاب کی بنا پر چانکیہ کا نام علم سیاسیات کے بانیوں افلاطون اور افلاطون کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ “ارتھ شاستر” کا ترجمہ کچھ مصنفین نے “سیاسیات کی سائنس” کیا ہے، کچھ اسے “مقاصد کے حصول کا علم” کہتے ہیں، کچھ اسے “سیاسی معیشت کی سائنس” کہتے ہیں، لیکن ہماری رائے میں اس کا بہتر ترجمہ “خوشحالی کا علم” ہو گا۔

محقق کہتے ہیں کہ یہ کتاب 0230 سال قبل لکھی گئی اور ممکنہ طور پر بعد میں دو مرتبہ اس کی تدوین کی گئی۔ یہ کتاب بارہویں صدی عیسوی تک اہم رہی، اور پھر کھو گئی۔ 1904 میں اس کا سنسکرت مسودہ دوبارہ دریافت ہوا اور 1909 میں اسے دوبارہ شائع کیا گیا۔ 1915 میں اس کا انگریزی ترجمہ شائع ہوا۔

اس پر نظر تو ڈالیں کہ کیا کیا موضوعات اس میں تحریر ہوئے ہیں۔ کیا کیا نظام اس نابغے نے تشکیل دیے ہیں۔ قانون، خارجہ پالیسی، جاسوسی، داخلہ پالیسی، معیشت اور فوجی کارروائی سب کچھ ہی کا تو یہ شخص ماہر تھا۔ اور یہی مہارت تھی جس نے ایک بے سر و سامان تنہا جنگجو چندر گپت موریا کو مگدھ کی اس عظیم نندا سلطنت کا مالک بنا دیا جس سے ڈر کر سکندر اعظم کے فوجی باغی ہوئے تھے اور واپس پلٹ گئے تھے۔ ایک استاد، اور ایک تنہا حوصلہ مند، جب مل جائیں تو دو لاکھ پیادوں، اسی ہزار سواروں، آٹھ ہزار رتھوں، چھے ہزار جنگی ہاتھیوں والی سپر پاور بھی ان دو سے شکست کھا گئی۔ اور اس کے بعد اس نے سکندر کے سب سے طاقت ور جانشین سلیوکس کا رخ کیا اور اسے شکست دی۔ معاہدہ صلح میں اس سے وسیع علاقے بھی لیے اور اس کی بیٹی کا رشتہ بھی تاکہ تعلق مستقل بنے اور دشمنی نہ ہو۔

اردو میں جو کتاب میرے پاس موجود ہے، اس کو چودہ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جو کچھ یوں ہیں:۔\”

۔ 1۔ ریاست کی تنظیم
اس میں ان معاملات کا ذکر ہے: علوم کی درجہ بندی، ویدوں کے مقام کا تعین، بزرگوں کی صحبت، وزرا، مشیروں اور پجاریوں کا تقرر، خفیہ ذرائع سے وزرا کے کردار کی آزمائش، مخبروں کا تقرر، داخلی جاسوسی کا نظام، خارجی جاسوسی کا نظام، آداب سفارت، شہزادوں کی نگرانی، بادشاہ کے فرائض، انتظامات حرم شاہی اور بادشاہ کی جان کا تحفظ۔

۔ 2 حکومتی عہدیداران اور ان کی ذمہ داریاں
اس میں دیہات کا انتظام، قلعہ بندیوں کا انتظام، سرکاری ملازمین کی جانچ پڑتال، ریاستی فرامین کے جاری ہونے کا طریقہ، نظام صنعت اور کان کنی، کاروبار اور جنگلات کی دیکھ بھال، محصولات اور بازار کا انتظام، بحری راستوں کا انتظام، اور جانوروں کی دیکھ بھال کے معاملات درج ہیں۔

۔ 3 قوانین
اس میں زمین جائیداد کے معاملات، حد بندیاں، پبلک بلڈنگ کو نقصان پہنچانے کے معاملات، جائیداد کی خرید و فروخت، قرضوں اور امانتوں کے معاملات، شراکت کاری کے اور محنت کشوں کے حقوق و فرائض۔ فراڈ، دھوکہ دہی، جسمانی تشدد، اور جوا اور دوسرے جرائم کے قوانین اور ضابطے بیان ہوئے ہیں۔

۔ 4 ناپسندیدہ اور مضر عناصر کی سرکوبی

کاریگروں پر نظر رکھنا، تاجروں کی نگرانی، قدرتی آفات سے نمٹنا، بدمعاشوں کا قلع قمع، اچانک موت کی تحقیقات، اعتراف جرم کے لیے تشدد کا ضابطہ اور قانونی کارروائی، ریاستی اداروں کی نگرانی، جنسی اختلاط، اور ناانصافی وغیرہ کو موضوع بنایا گیا ہے۔

۔ 5 آداب و قواعد دربار
خفیہ سزائیں دینا، خزانہ بھرنے کے طریقے، درباریوں کے آداب و قواعد۔

۔ 6 ریاست کے بنیادی لوازمات اور وسائل
حکمرانی کے بنیادی عوام۔ زمانہ امن اور مہم جوئی کا بیان۔

۔ 7 ریاست کی خارجہ پالیسی کے اصول
زوال، جمود اور ترقی کے معاملات۔ کمزور بادشاہ سے معاہدات، یلغار اور دوسرے بادشاہوں سے مل کر چڑھائی۔ فوجی اتحاد۔ مشروط یا غیر مشروط امن معاہدے۔ منافقانہ حربوں کے ذریعے صلح یا لڑائی۔ فوائد کی بنا پر طے پانے والے عہدنامے۔ عقب سے حملہ آور ہونے والے دشمن سے احتیاط۔ متاثرہ جنگی و ریاستی طاقت بحال کرنے کی حکمت عملی۔ غالب حریف کے ساتھ مغلوب حریف کا رویہ۔ باہمی معاہدوں کی تشکیل و تنسیخ۔ وسطی حکمران، غیر جانبدار حکمران اور ریاستوں کا حلقہ۔

۔ 8 آفات و اسباب
قواعد حکمرانی سے غفلت کے سبب نازل ہونے والی آفات۔ حکمران اور حکومتی آفات۔ انسانی مشکلات کا بیان۔ قدرتی آفات کا بیان۔

۔ 9 فوجی طاقت کا استعمال اور پیش قدمی
جنگی تیاری کا جائزہ۔ فوجی دستوں کی ترتیب اور حملے کا وقت۔ داخلی و خارجی فتنہ پرور عناصر کا انسداد اور عقبی دفاع۔ جانی اور مالی نقصان کا تجزیہ۔ نقصان کا اندیشہ اور دولت کا حصول۔

۔ 10 جنگی تنصیبات اور کارروائیاں
چھاؤنی کا قیام۔ خفیہ چالیں، فوجی حوصلہ افزائی اور حریف سے جنگ۔ مختلف افواج کی ذمہ داریاں۔ میدان جنگ کے معاملات۔ مختلف لشکری ترتیب اور دشمن کا مقابلہ۔

۔ 11 مختف گروہ اور ان کے ساتھ ریاستی رویہ
نفاق اور خفیہ تعزیرات۔

۔ 12 غالب حریف کے خلاف موثر اقدامات
سفارت کار کے فرائض۔ سازشیں مکاریاں اور عیاریاں۔ عسکری قائدین کو قتل کرنا اور ریاستوں کو مشتعل کرنا۔ زہر، آگ اور ہتھیاروں کے استعمال میں ماہر آلہ کار۔ حملہ اور مخفی تدابیر سے دشمن پر غلبہ

۔ 13 قلعہ جات فتح کرنے کی حکمت عملی
مخالف کے اتحاد کا خاتمہ۔ حریف کو بہکانا۔ خفیہ اہلکاروں کا کردار۔ تاراج شدہ خطوں میں امن کی بحالی۔

۔ 14 حریف کو تباہ کرنے کی تدابیر

دشمن کو نقصان سے دوچار کرنا۔ مختلف تدابیر۔ جادو ٹونے اور ادویات کے اثرات۔ عسکری نقصان کے تدارک کی تراکیب۔

بس یہی کل کتاب ہے۔ جسے اس وقت کا آئین مملکت بھی کہا جا سکتا ہے، اور جنگی مہمات کا مینوئل بھی۔ اور جاسوسی ادارے کا نظام بھی۔”\”

باقی سب معاملات میں سیانا، یہ عالم بھی اس دور کے عام رجحان کے مطابق جادو پر پورا یقین رکھتا تھا۔ جادو ٹونے والے چودھویں حصے کی ایک تدبیر ملاحظہ فرمائیں۔ اگر مودی سرکار نے یہ اہم کتاب پڑھی ہوتی تو گائے کی قربانی پر پابندی نہ لگاتی۔ ترکیب کچھ یوں ہے کہ کسی برہمن کی آخری رسومات کے موقع پر قربان کی گئی گائے کی ہڈیوں کا گودا سانپ کی کینچلی میں بھر دیا جائے یہ کینچلی جس کی کمر پر ہو گی، وہ سب کو دیکھے گا مگر اسے کوئی نہیں دیکھ سکے گا۔ مزید ایسے ہی کئی تیر بہدف جادو ٹونے کے نسخے درج ہیں جو اس زمانے کے اعتقادات کے مطابق درست کام کرتے ہوں گے۔ تفنن برطرف، اگر آج ہمارے سربراہان مملکت اپنے اہم امور بھی پیروں فقیروں کے وظائف پر چلاتے ہیں تو چانکیہ بھی ٹھیک ہی ہو گا۔

ویسے اس نے ایک باب اس پر بھی لکھا ہے کہ کیسے مختلف انداز کے شعبدے دکھا کر ایک حکمران خود کو معبودوں کی من پسند معجزاتی شخصیت ثابت کر سکتا ہے تاکہ دوست دشمن سب اس کی برگزیدگی کے قائل ہوں۔

بارہویں حصے کی وجہ سے چانکیہ کو ہم طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں۔ لیکن کیا یہ فرائض ہر ملک کے جاسوسی اداروں کے ذمے نہیں ہوتے ہیں؟ دشمن کو کمزور کرنے کے لیے ہر ممکن کارروائی کرنا جاسوسی اداروں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ چانکیہ تو صرف غالب حریف کے خلاف یہ حربے استعمال کرنے کا کہہ رہا ہے، لیکن ہم تو کمزور کے خلاف بھی یہ حربے استعمال ہوتے دیکھتے ہیں۔ امریکہ نے کاسترو کے خلاف کیا نہیں کیا ہے؟ اور ہم اپنے جاسوسی اداروں کو کس وجہ سے نمبر ون قرار دیتے نہیں تھکتے ہیں؟ اور کیا اس سے بڑھ کر ہی ایسا سب کچھ ہمارے بچپن کا عظیم ہیرو، عمرو عیار اپنے شاگردوں سمیت نہیں کرتا رہا ہے؟

ٹیکسلا کا کوٹلیہ چانکیہ وہ شخص ہے جس نے اپنے نظریاتی علم کو عملی میدان میں کامیاب کر کے دکھایا۔

ارتھ شاستر کا اردو ترجمہ نگارشات پبلشرز لاہور نے شائع کیا ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *