ادویات کے اثرات و افعال انسان کی زبردست قوتیں

ادویات کے اثرات و افعال انسان کی زبردست قوتیں

ادویات کے اثرات و افعال

انسان کی زبردست قوتیں

ادویات کے اثرات و افعال انسان کی زبردست قوتیں
ادویات کے اثرات و افعال
انسان کی زبردست قوتیں

ادویات کے اثرات و افعال
انسان کی زبردست قوتیں

تد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکحریر:
حکیم قاری محمد یونس شاہستان

خالقِ زندگی اور کائنات نےاس دنیا میں اس قدر اشیاء پیدا کی ہیں کہ ان کا شمار بالکل ناممکن ہے۔ ہم نے ان کو موالیدِ ثلاثہ (جمادات، نباتات اورحیوانات) کی قید میں بند کر دیا ہے۔ لیکن پھر ان کی اس قدر اقسام ہیں کہ ان کا قلم بند کرنا انتہائی مشکل ہے۔ لیکن حکیمِ مطلق نے انسان کو ایسی قوت اور قدقرت عطا کی فرمائی ہے کہ وہ نہ صرف ان تمام کے خواص و فوائد معلوم کرلیتا ہے بلکہ ایسے اصول وقوانین اور کلیات تیار کر لیے ہیں کہ جن کی مدد سے موالیدِثلاثہ کی بے شمار تقسیم در تقسیم اقسام کو بھی جان لیتا ہے اور ان کے خواص وفوائد پر پورے طور پر حاوی ہو جاتا ہے۔

انسان کی زبردست قوتیں

انسان کے اندر قدرت نے جو غیر معمولی قوتیں رکھی ہیں جہاں تک میرا مطالعہ اور معلومات ہیں ، میں دعوی ٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ ان قوتوں کے متعلق ابھی تک انسان کوپورا علم نہیں ہے کہ یہ قوتیں کیا ہیں اور کیسے پیدا ہوتی ہیں اور ان میں کون کون سے اعضاء کام کرتے ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائےکہ انسان کا تصور ان کے متعلق بے حد تک غلط ہے۔ جہاں تک ماڈرن سائنس کا تعلق ہے وہ تو ان کی حقیقت سے بالکل بے خبر ہے۔

احساس و ادراک اور قیاس

انسان کی زبردست قوتوں میں سے احساس و ادراک اور قیاس تین خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ احساس اور ادراک کو ایک ہی معنوں میں استعمال کیا گیا ہےبلکہ بعض لوگ تو قیاس کو بھی انہی کے ساتھ استعمال کرلیتےہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں بہت زیادہ فرق ہے۔ بلکہ اس قدر فرق ہے ۔جیسے زمین و آسمان میں فرق ہے۔ گویا ایک دوسرے سے بالکل جدا معنی دیتے ہیں۔ اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ کہ ز بان میں معنی کا تعین انسان کا ذاتی کیا ہوا ہے۔لیکن جو ماہر لسانیات ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ ہر معنی کے بیان اور تعین میں مناسبت اور سلسلہ کا تعلق ضرور ہوتا ہے اور جب کبھی اس سلسلہ کی کڑیاں ملائی جاتی ہیں تو حقیقت معلوم کرکے بے حد حیرت ہوتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ الفاظ کے ہیر پھیر(صَرف) میں بڑی قوت ہے۔ جب کسی لفظ کا مادہ نکال کر اسی کی کئی کئی ممکن صورتیں بنائی جاتی ہیں تو ہر صورت اپنے اندر ایک جدا قوت رکھتی ہے۔ الفاظ میں اس طرح کے ہیر پھیر تو تقریباً ہر بڑی زبان میں پائے جاتے ہیں لیکن عربی زبان میں یہ خزانہ بہت زیادہ ہے۔ دل تو یہ چاہتا تھا کہ الفاظ کے ہیرپھیر اور طاقت پر کچھ روشنی ڈالی جاتی۔ لیکن طوالت مدنظر اس کو نظر انداز کرتے ہیں اور ذیل میں احساس و ادراک اور قیاس کی قوتوں کو بیان کیاجاتا ہے۔

احساس و ادراک اور قیاس کا فرق

بادی النظر میں تینوں الفاظ کے معنی علم اور جاننا ہے لیکن حقیقت میں ان الفاظ سے حصول علم اور جاننے کے طریق میں اتنا فرق ہے کہ جب تک انسان ان کی حقیقت سے واقف نہ ہو ان سے صحیح طور پر استفادہ حاصل نہیں کر سکتا بلکہ ان کے غلط استعمال سے ان کے فوائد سے محروم رہتا ہے۔ چونکہ اکثر لوگ ان کے صحیح معنوں سے واقف نہیں ہوتے اس لئے ان کو ایک دوسرے کی جگہ استعمال کر لیتے ہیں۔ خصوصاً احساس اور ادراک کے معنوں کا فرق بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے ان الفاظ میں اس قدر علم و حکمت اور مذہب کے خزانے پوشیدہ ہیں جن کا مقابلہ بہت کم الفاظ سے کیا جاسکتا ہے۔ان کی حقیقت جاننے کے بعد ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کشف کے پردے اٹھا دئیے گئے ہیں اور نور کے دروازے کھول دئیے گئے ہیں۔ ان الفاظ کو سمجھ لینے کے بعد نہ صرف معنی اور مضمون ہاتھ باندھے نظر آتے ہیں بلکہ یہ بھی فوراً پتا چل جاتا ہے کہ ان کا تعلق کس قسم کے علم سے ہے۔ یعنی انسان فوراً اندازہ لگا سکتا ہے کہ حاصل شدہ علم الہامی اور لافانی ہے یا تجرباتی و مشاہداتی ہے یا انسان نے اپنے اجتہاد و ثقافت سے ان کی حقیقت کو پا لیا ہے۔ اگر انسان انہی الفاظ کے اصول اور تعین پر غوروفکرکرے تو الفاظ کی حقیقت کی ایک اچھی بھلی تاریخ بن سکتی ہے اور سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انسان نبوت اور بشریت کے علوم کا فرق کر سکتا ہے۔ کیونکہ علم بشریت، تجربات و مشاہدات اور اجتہاد و ثقافت سے آگے نہیں بڑھ سکتا لیکن علم نبوت الہامی و لدنی اور وجدانی ہوتا ہے۔
احساس و ادراک اور قیاس کے متعلق یہ تعارف اس لئے کرایا ہے کہ انہی کی وساطت سے نہ صرف علم الادویہ میں تحقیقات ہو سکتی ہیں بلکہ زندگی و کائنات اور مابعد الطبیعات کی حقیقت سے بھی آگاہی ہو سکتی ہے۔ اسی کے ذریعے انسان نفسیات اور روحانیات کی منزلیں آسانی سے طے کرسکتا ہے۔ لیکن اس امر کو ہمیشہ مدنظر رکھیں کہ علم و حکمت صرف جاننے سے حاصل نہیں ہوسکتا بلکہ فکر و عمل سے اس پر قبضہ کیا جاسکتا ہے۔ کوئی انسان اس وقت تک صحیح معنوں میں عالم وفاضل اور حکیم و طبیب نہیں بن سکتا جب تک و یقین و فکر اور عمل کا جذبہ و استعداد پیدا نہ کرے۔ صرف علم بغیر عمل و فکرکے بے معنی ہے اور جلد ضائع ہونے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں علماء و فضلاء اور حکماء اطباء میں حقیقت شناس صرف انگلیوں پر گنے جاتے ہیں۔ سچ تو یہ کہ علم و فن اور حکمت کا حق بھی وہی ادا کرتے ہیں۔

علمی دنیا میں ایک نیا راز

علم و حکمت اور جاننے پہچاننے کے متعلق آج تک یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان کا تعلق دماغ اور اعصاب کےساتھ ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ بلکہ علم و حکمت اور جاننے پہچاننے میں جس قدر دماغ و اعصاب کا ہے اسی قدر تعلق دل و جگر کا بھی ہے۔ کیونکہ تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ جاننے کا تعلق اگر دماغ کے ساتھ ہے تو سمجھنے کا تعلق دل کے ساتھ ہے اور فائدہ اٹھانے کا تعلق جگر کے ساتھ ہے ۔ یہ سارے اسرار و رموز احساس و ادراک اور قیاس میں پنہاں ہیں جن کا ہم تفصیل سے ذکر کریں گے تاکہ انسان حقیقت اشیاء سے پورے طور پر آگاہ ہو جائے۔ جس سے وہ دنیائےعلم و حکمت اور مذہب کی خدمت کر کے ا س میں انقلاب پیدا کر سکتا ہے۔

احساس کی حقیقت

احساس سے ایسا علم حاصل ہوتا ہے جو ہمیں حواس خمسہ ظاہری سے پہنچتا ہے۔ یعنی دیکھنا، سننا، چکھنا، سونگھنا اور چکھنا۔ جو حواس خمسہ ظاہری ہیں ان سے جو معلومات اور علم حاصل ہوتاہےوہ سب ہمارے احساسات ہیں۔ ہمارے تجربات و مشاہدات اور کتب کے پڑھنے سے جو علوم حاصل ہوتے ہیں یہ سب احساس کے ذریعہ حاصل ہوتے ہیں۔ اگرچہ ان میں ایسے علوم کی شمولیت بھی ہوتی ہے جو ہم ادراکات سے حاصل کر چکے ہیں۔ لیکن فی الوقت تجربہ و مشاہدہ اور پڑھنا احساس میں شامل ہوتاہے۔ مثلاًقرآن حکیم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور وحی کے ذریعہ نازل ہوا ہے اورحدیث شریف کلام الہی کی حکمت کا اظہار اور الہام ہے۔ لیکن ایسی کتب جن میں زندگی کے تجربات اور مشاہدات کاذکر ہو، آیات اور حدیث میں لکھی ہوں تو ان کو پڑھنا بھی ہمارے احساس کے تحت ہو گا۔ گویا ہماری تہذیب و تمدن، علم و حکمت اورتجربات و مشاہدات اور اخلاق و سیاست سب کچھ مذہبی رنگ میں رنگے گئے ہیں اور یہی ہماری ثقافت اور کلچر ہیں۔ لیکن یہ یاد رہے کہ وحی، الہام، وجدان اور لدنی علوم بذاتِ خود کبھی احساس کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکتے ان کو صرف ادراک ہی کیا جا سکتا ہے۔

ادراک کی حقیقت

ادراک سےایسا علم حاصل ہوتا ہےجو حواس ِ خمسہ باطنی سے حاصل ہوتا ہے (جس کی تفصیل آگے آئے گی) اسے نطق اور نفس ناطقہ بھی کہتے ہیں۔ اسی کو مجازاً روح انسانی کہا جاتا ہے۔ دراصل ترقی یافتہ صورت بھی نفس مطلق ہی انسان میں نفس ناطقہ کہلاتی ہے اور ادراک نفس ناطقہ کی دو قوتوں میں ایک قوت ہے۔ دوسری کو قوت تحریک کہتے ہیں۔ نفس ناطقہ ایک جوہر بسیط ہے جس کی حکومت انسان کے تمام قویٰ اور اعضائے جسمانیہ پر ہے۔ وہ مدرک عالم ہے اس لئے عرض نہیں ہے کیونکہ کسی عرض کا دوسرے عرض کے ساتھ قیام ایک ایسا امر ہے کہ عقل سلیم اسے تسلیم کرنے سے قاصر ہے۔وہ مدرک کلیات ہےاس لئے اس کو جسم یا جسمانی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ کلی اگر کسی جسم میں قائم ہوتو پھر اس کی کلیت قائم نہیں رہتی اور وہ محدود ہو جاتا ہے۔
انسان کو ایک ایسی خاصیت حاصل ہے جو دیگرموجودات کو حاصل نہیں ہے۔ اس کو نطق کہتے ہیں اس لئے وہ ناطق (Speaker) کہلاتا ہے۔ ناطق سے مراد نطق بالفعل نہیں ہے کیونکہ جو آدمی گونگا ہو گا اس میں نطق بالفعل نہ ہوگا۔ بلکہ نطق سے مراد ادراک علم ومفعولات اور قوت تمیز ہے جس سے جسم انسان میں بالواسطہ قویٰ اور آلات تصرف اور تدبیر عمل میں آتی رہتی ہے لیکن ہم اس کو اپنے کسی احساس سے محسوس نہیں کر سکتے یہی نفس ناطقہ ہے جس سے انسان کو فضیلت اور شرف حاصل ہے اور اسی لئے اس کو اشرف المخلوقات کہتے ہیں۔یہی فضیلت اور شرف جب اپنے کمال پر ہوتا ہے تو مقام نبوت اور جب ختم نبوت ہوتی ہے تو حسن جمال اور حکمت و عقل اپنے انتہا پر ہوتی ہے۔ یہی ادراک ہے جو ادنیٰ شخصیت سے لے کر ختم نبوت تک اپنے اپنے مقام پر نورو معرفت اور علم وحکمت کو سمجھتا ہے، علم و عقل دونوں مختلف چیزیں ہیں۔ کسی شخص میں عقل زیادہ ہوتی ہے اور کسی میں علم زیادہ ہوتا ہے۔ہر شخص میں دونوں کا توازن بالکل مشکل ہے۔ صرف نبوت اور خصوصاً ختم نبوت میں علم و عقل کا نہ صرف کمال ہوتا ہے بلکہ انتہائی توازن ہوتا ہے۔ بس اس حقیقت کو لازم کر لیں کہ جو علم ادراک سے حاصل ہوتا ہے، وہ کسی احساس سے نہیں ہو سکتا۔ اس لئے صرف تجربہ ومشاہدہ اور عقل کی لِم و حکمت میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔ علم و حکمت کے حصول کا بہت بڑا ذریعہ ادراک اور نبوت ہیں، جن میں وجدان، الہام، وحی اور علم لدنی حاصل ہوتا ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.