ادرک کی اہمیت اور استعمالات طب نبوی کی روشنی میں

ادرک کی اہمیت اور استعمالات
طب نبوی کی روشنی میں

دوسری قسط

ادرک کی اہمیت اور استعمالات طب نبوی کی روشنی میں،،،دوسری قسط
ادرک کی اہمیت اور استعمالات
طب نبوی کی روشنی میں،،،دوسری قسط

ادرک کی اہمیت اور استعمالات
طب نبوی کی روشنی میں
دوسری قسط
تحریر
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ کاہنہ نو لاہور

ادرک کا تیل اور مربہ
ادرک کا تیل ، ادرک کا مربہ ، ادرک کی رال(ریزن) متمدن دنیا کے بازاروں میں غذائی اعتبار سے بہت مقبول ہو چکے ہیں ۔ یورپ اور امریکہ میں چونکہ ادرک یا پسی ہو‏ئی سونٹھ کی بجائے اس کے تیل اور رال(ریزن)کو ہی غذا میں استعمال کا طریقہ اپنا لیاگیا ہے۔ چنانچہ مغرب میں بنائی جانے والی میٹھی ڈشوں مثلاً جنجرایل، جنجربریڈ اور جنجرکیک ، جنجر پیسٹریز اچھے قسم کے بسکٹ کے علاوہ جنجر بیئر(شراب)اور دیگر مشروبات میں ادرک کے تیل کی بے پناہ کھپت ہے۔
ادرک کی کاشت
یہ زنجبیل نامی (ginger) پودے کا جڑ نما تنا (rhizome) ہے جو زیر زمین ہوتا ہے اور اس کی شکل بعض اوقات سوجھے ہوئے ہاتھ کی سی ہوتی ہے ۔اس کا چھلکا باریک ،بھورے رنگ کا کارک جیسا ہوتا ہے ۔جسے عموما استعمال کے وقت اتار دیا جاتا ہے۔ادرک کا سائنسی نام (Zingiber officinale) ہے۔ادرک پودوں کے ایک مشہور خاندان سے تعلق رکھتا ہے جسے عرف عام ادرک کے حوالے سے “خاندان ادرک” کہا جاتا ہے ۔ خاندان ادرک کا سائنسی نام زنجیبر ایسیائی (Zingiberaceae) ہے ۔ اس خاندان کے دیگر معروف پودےجو بطور دوا استعمال ہوتے ہیں ، ہلدی ، انبہ ہلدی ، کچور اور خولنجان ہیں ۔ ادرک زنجبر(Gingber) جنس سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس جنس کی 142سے زیادہ اقسام دنیا میں پائی جاتی ہیں ۔ ادرک ان میں سب سے زیادہ مشہور و معروف ہے ۔دیگر کم معروف پودے درج ذیل ہیں۔ان میں شیمپو ادرک جینیاتی لحاظ سے ادرک سے زیادہ قریب ہے ۔
• ادرک سیاہ (Black Ginger) سائنسی نام Zingiber malaysianum
• مائیوگا ادرک(Mioga Ginger) سائنسی نام Zingiber mioga
مترافات : Zingiber cassumunar; Zingiber purpureum
• پہاڑی ادرک (Cassumunar ginger) سائنسی نام Zingiber montanum
• چھتہ ادرک (Behive Ginger) سائنسی نام Zingiber spectabile
• شیمپو ادرک (Shampoo Ginger) سائنسی نام Zingiber zerumbet (L.)
ادرک کے پودے کی شناخت
ادرک کا پودا 1.2 میٹر بلند ہوتا ہےجو دراصل کونپلی تنا (Shooter Stem)ہوتا ہے ۔ اس کے پتے چری کے پتوں جیسے 7 سینٹی میٹر تک لمبے)لیکن باریک ہوتے ہیں ۔ان کی لمبائی 7 سینٹی میٹر اور چوڑائی 1.9 سینٹی میٹر ہوتی ہے ۔ اس کا پھول خوشہ مخروطی شکل کا ہوتا ہے جوکہ زردی مائل سبز رنگ کی پتوں کےترتیب وار ملنےسے بنتا ہے ۔اس کےپھول ہلکے پیلے رنگ کے ہوتے ہیں جن کا کنارہ جامنی رنگ کا ہوتا ہے جس میں زرد رنگ کےنقطے اور پٹیاں ہوتی ہیں۔پھول علیحدہ کونپلی تنے پر لگتے ہیں ۔ ادرک کے بونے کا وقت سے تک ہوتا ہے ۔ جب ادرک کے پودے کو پھول آ کر غائب ہو جاتے ہیں اورتنے مرجھا جاتے ہیں تویہ ادرک نکالنے کا مناسب وقت ہوتا ہے ۔زمین کھود کر ادرک کونکال کر ایک خاص قسم کے چاقو سے اسے چھیلا جاتاہے اور یہ کا م کھیت ہی میں وہ عورتیں اوربچے سرانجام دیتے ہیں جوادرک نکالنے پر مامور ہوتے ہیں ۔«المعجم الاشتقاقي المؤصل» (2/ 925)
ادرک کو محفوظ کرنا
ادرک چھیلنے کے بعد پانی سے دھو یا جاتا ہے اورپھر اسےرات بھر صاف پانی میں بھیگا رہنے دیتےہیں ۔صبح اسے پانی سے نکال کرچٹائیوں پر پھیلاکردھوپ میں سوکھنے کے لئے رکھ دیتے ہیں۔دن میں ان کو کئی بار الٹاپلٹا جاتاہے ۔خشک کرنے کا یہ عمل چھ سات روز تک جاری رہتاہے۔ اس دوران ادرک کا وزن 70 فیصدی کم ہوجاتا ہے ۔خشک ہونے کے بعد اسےپھر دھو کر صاف کرلیا جاتا ہے ۔ یہی خشک کیا ہوا ادرک ” سونٹھ ” کےنام سے بازار میں فروخت ہوتا ہے۔طبی نسخوں میں یہی سونٹھ استعمال میں لائی جاتی ہے ۔ آج کل ادرک سے مراد تازہ ادرک ہوتی ہے جبکہ زنجبیل ، خشک ادرک یعنی سونٹھ کو کہا جاتاہے ۔
ادرک پیدا کرنے والے ممالک
دنیا میں سب سے زیادہ ادرک بھارت میں پیدا ہوتا ہے ۔ اس کے بعد چین کا نمبر آتا ہے ۔ برصغیر کا ایک دوسرا ملک نیپال اس میدان میں تیسرے نمبر پر ہے جبکہ بنگلادیش ساتویں نمبر پر آتا ہے ۔برصغیرکے دیگر ممالک سری لنکا گیارھویں اور بھوٹان 17 ویں نمبر پرہے ۔پاکستان میں بھی ادرک کافی پیدا ہوتا ہے لیکن یہ مقدار اتنی زیادہ نہیں ہوتی کہ یہ ان ممالک میں جگہ پا سکے جو پیداوار میں پہلے نمبروں پر ہیں۔پاکستان ادرک کی پیداوار میں کافی پیچھے یعنی 30 ویں نمبر پر ہے ۔دنیا کے سات ممالک جہاں ادرک سب سے زیادہ پیدا ہوتا ہے ، پیداوار کے ساتھ درج ذیل ہیں ۔ یہ اعداد وشمار 2014 کے ہیں۔
ملک پیداوار (ٹن)
بھارت۔703,000
چین۔۔425000
نیپال(255208)
نائجیریا(156000)
تھائی لینڈ(150,000)
انڈونیشیا(851,113)
بنگلہ دیش(072084)
عالمی(2095056)
دنیا میں سب سے زیادہ ادرک (عالمی پیداوارکا نصف سے زائد)برصغیر میں پیدا ہوتا ہے لیکن ادرک کا مربہ جو دنیا کے بازاروں(عالمی مارکیٹ) میں دستیاب ہے وہ چین ، ہانگ کانگ اور آسٹریلیا سے جاتا ہے ۔برصغیر کے ممالک ادرک کا معیاری مربہ بنانے میں بہت پیچھے ہیں۔جنگ عظیم اول سے پہلے ہندوستان ادرک کو برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک تھا۔پھر سیرالیون اور جزائرغرب الہند مقابلے پر آگئے ۔جس کی وجہ سے ہندوستانی ادرک کی برآمدات کو دھچکا لگا کیونکہ ان ممالک میں پیدا ہونے والا ادرک بھی کا فی معیاری سمجھا جاتا ہے ۔
طبی لحاظ سےمزاج :
غدی اعصابی (گرم تر) ہے ۔ بدن میں حرارت پیدا کرنے کے ساتھ خارج بھی کرتا ہے۔
مقدار خوراک :۔۔۔۔تازہ ادرک گرام سے گرام تک ، خشک ادرک یعنی سونٹھ گرام سے گرام تک
طبی خواص :
ادرک تازہ حالت میں یا ادرک کے رس کی شکل میں یا پسی ہوئی سونٹھ (خشک ادرک) یا ادرک کے تیل کی صورت استعمال کی جاتی ہے ۔ ادرک کی منفرد خوشبو اور ذائقہ اس کے تیل (جنجرول –Gingerol)کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ ادرک میں شامل ایسا حیاتی مادہ ہے جو اس کے زیادہ تر طبی خواص کا ذمہ دار ہے۔یہ انتہائی دافع سوزش (Anti-inflammatory) اور دافع تکسید (Antioxidant) خصوصیات کا حامل ہے۔
اس کے مسلسل استعمال سے بدن میں حرارت کی کمی کو پورا ہوتی ہے«جرب أَن يسقى كل يَوْم ‌زنجبيلاً»(«القانون في الطب» (2/ 155) ۔اعصاب مضبوط ہوتے ہیں ۔قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے ۔جگر اپنا فعل احسن طریقے سے انجام دینے لگتا ہےاور صالح خون کی پیدائش بڑھ جاتی ہے اور دوران خون کی سستی دور ہوکرتمام بدن میں خون کی گردش میں اضافہ ہو جاتا ہے۔اس کی وجہ سے عام صحت بہت بہتر ہو جاتی ہےاور بہت سی بیماریوں سے نجاتا ملتی ہے ۔ آنکھوں کی طاقت اور بینائی بڑھ جاتی ہے۔جنسی کمزوری دور ہوتی ہے اورقوت باہ میں اضافہ ہوتا ہے ۔ ادرک (سونٹھ)، خولنجاں اور پستہ ہم وزن ملاکر استعمال کرنے سے عام جسمانی صحت کی بہتری کے ساتھ قوت باہ میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے۔
طبی خواص
ادرک ہاضم ، مشتہی (بھوک لگانے والا) اورکاسرریاح خصوصیات کا حامل ہے اس لئے یہ معدے کے جملہ امراض میں مفید ہے ۔یہ نظام ہضم کی اصلاح کرتا ہے ۔ معدہ کی ہاضم رطوبتوں کو بڑھاکربھوک لگاتا ہے۔متلی ،قے اوربدہضمی کو ختم کرتا ہے۔تیزابیت کے باعث ہونے والی معدہ کی جلن کو دورکرتا ہے ۔ معدہ کی خرابی کے باعث یا منہ میں تعفن کی وجہ سے بدبو آتی ہو تو ادرک کا استعمال اس کا ازالہ کرتا ہے۔منہ کا خراب ذائقہ بھی درست ہوجاتا ہے۔کاسرریاح ہونے کی وجہ سے یہ نہ صرف پیٹ کے غلیظ ریاح کو خار ج کرکے اپھارہ ، پیٹ کے درد کو ختم کرتا ہے بلکہ یہ قولنج میں بھی نافع ہے اس کے علاوہ یہ جسم کے دیگر حصوں میں ریاح سے پیدا ہونے والے ریاحی دردوں کا بھی ازالہ کرتا ہے۔
محافظ جگر ادویہ میں اسے اہم مقام حاصل ہے یہ نہ صرف جگر کو تقویت دیتا ہے اور جگر کے سدوں کوخارج کرتا ہے بلکہ یرقان اور صلابت جگر شروعات میں اس کا استعمال انتہائی فائدہ مندہے۔ جگر کی خرابی کے باعث پیروں اور جسم کے دیگر حصوں میں خصوصا پیٹ میں پانی جمع ہونے(استسقاء) میں اس کا استعمال پیٹ سے پانی خارج کرتا ہے۔جسم کی ورم اور سوجن کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔اس مقصد کے لئے ادرک کا رس 25 ملی لیٹر شکر ملا کردیں اور روزانہ 10 ملی لیٹر روزانہ کا اضافہ کرتے جائیں ۔روزانہ 10 ملی لیٹر بڑھاتے ہوئے 250 ملی لیٹر تک لے جائیں انشاءاللہ پیٹ سے پانی (استسقاء ) کا اخراج ہوکر مرض سے نجات مل جائے گی ۔یاد رہے کہ گردوں کی خرابی یا دل کی بیماری سے پیدا ہونے والے استسقاء میں یہ نسخہ مفید نہیں ۔اسی طرح یہ جگر کے پرانے مریضوں کی نسبت نئے مریضوں میں زیادہ فائدہ مند ہے۔

Hakeem Qari Younas

Assalam-O-Alaikum, I am Hakeem Qari Muhammad Younas Shahid Meyo I am the founder of the Tibb4all website. I have created a website to promote education in Pakistan. And to help the people in their Life.
View All Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *