احتلام کے اسباب اور اس کا تدارک۔

احتلام کے اسباب اور اس کا تدارک۔

احتلام کے اسباب اور اس کا تدارک۔

احتلام کے اسباب اور اس کا تدارک۔
احتلام کے اسباب اور اس کا تدارک۔

۔۔۔۔۔۔۔
احتلام کے اسباب اور اس کا تدارک۔طب نبوی ﷺ کی روشنی میں۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نکلے، تو ہم میں سے ایک شخص کو ایک پتھر لگا، جس سے اس کا سر پھٹ گیا، پھر اسے احتلام ہو گیا تو اس نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا: کیا تم لوگ میرے لیے تیمم کی رخصت پاتے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہم تمہارے لیے تیمم کی رخصت نہیں پاتے، اس لیے کہ تم پانی پر قادر ہو، چنانچہ اس نے غسل کیا تو وہ مر گیا، پھر جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو اس واقعہ کی خبر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان لوگوں نے اسے مار ڈالا، اللہ ان کو مارے، جب ان کو مسئلہ معلوم نہیں تھا تو انہوں نے کیوں نہیں پوچھ لیا؟ نہ جاننے کا علاج پوچھنا ہی ہے، اسے بس اتنا کافی تھا کہ تیمم کر لیتا اور اپنے زخم پر پٹی باندھ لیتا (یہ شک موسیٰ کو ہوا ہے)، پھر اس پر مسح کر لیتا اور اپنے باقی جسم کو دھو ڈالتا(سنن ابي داودكِتَاب الطَّهَارَةِ۔ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2413)
احتلام
جب انسان زندگی کا ایک خاص حصہ گزار لیتا ہے یعنی بچپن سے وہ جوانی کی طرف قدم اٹھاتا ہے تواعضا ئے جسمانی میں کچھ تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں،اعضاء پہلے سے موجود ہوتے ہیں لیکن ان کا کام بعد میں شروع ہوتا ہے مثلا بلوغت سے پہلے لڑکے اور لڑکیوں کے جسمانی اعضا بظاہر یکساںدکھائی دیتے ہیں جیسے ہی لڑکا یا لڑکی بالغ ہوتے ہیں تو ان کے جسم میں تبدیلی واقع ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔لڑکے کے اندر خشکی بڑھنا شروع ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے اس کے جسم میں سختی آتی ہے۔ اعضاء مضبوط ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور بڑھے ہوئے اعضاء جیسے پستان اور بازوئوں کے مسل سخت ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔اور بچیوں کے کچھ اعضا بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں جیسے پستان کوہلے کی ہڈی کا سائز وغیرہ وغیرہ
اعضائے نسوانی یا اعضائے تناسلیہ بلوغت کے بعد کام کرنا شروع کرتے ہو کہ ان کا احساس تو بچپن ہی سے شروع ہو جاتا ہے اور اس میڈیا کے دور میں توسوچ ہی بدل گئی ہے، پہلے بچے پیدا ہوتے تھے، پھر بڑے ہوتے تھے اس کے بعد بالغ ہوتے تھے ،تب انہیں شعور آتا تھا کہ اعضائے تناسل کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟ یا ان کے احساسات کیا ہوتے ہیں؟۔لیکن میڈیا کی آمد کے بعد تو بچوں کو بھی اس کا ادراک ہونے لگا ہے ،اور وقت سے پہلے ان حساس اعضاء کوچھیڑنا شروع کر دیا جاتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ پختگی سے پہلے ہی جب ایک چیز کو چھو لیا جائے تو پورا جسم ،اعضاء کی قوتیں اس سے متاثر ہوتی ہیں اور جسم کی جو پرورش ہونی ہوتی ہے وہ ادھوری رہ جاتی ہے، جو رطوبات اس جسم کو پروان چڑھانے کے لئے مختص ہوتی ہیں، وہ ضائع ہونا شروع ہو جاتی ہیں، بچہ اور بچی دونوں کے ساتھ یہ معاملات ہو رہے ہیں ۔
حکمائے قدیم نے لکھا ہے کہ جسے احتلام یا اس قسم کی حساسیت کا مسئلہ ہویا اس کے مادہ منویہ خارج ہونے لا مسئلہ ہو تو اس سے وہ اسباب چھین لے جائیں جو اس کی شہوت کو بھڑکاتے ہیں یا اس طرف راغب کرتے ہیں۔
لیکن یہ وباعام ہے ہمارے سمجھانے سے،یاکسی کو بتانے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، جو چیزیں پہلے بڑے بڑے لوگوں کو میسر نہ تھی، لوگ ان کے کہنے ،سننے ،کرنے سے ڈرتے تھے، خوف کھاتے تھے ، گھر والوں کا ڈرہوتا تھا اور بہت ساری ایسی وجوہات تھیں کہ لوگ ان سے بچتے رہا کرتے تھے، اخلاقی تربیت میںمذہب کا بہت بڑا کردار ادا کرتا تھا اللہ اور اس کے رسول کے فرمان سامنے ہوتے تھے ،خوف آخرت ہوتا تھا ،اپنی ذمہ داری کا احساس ہوتا تھا لیکن اب یہ ساری چیزیں عنقا ہو چکی ہیں، ان چیزوں کی وجودیت کو خطرہ لاحق ہو چکا ہے
دوسری بات یہ ہے کہ ہم کھانے پینے کے بارے میں بہت غیر محتاط واقع ہوئے ہیں، ہم اس کو امارت کی نشانی سمجھتے ہیں اور اسے اپنا حق سمجھتے ہیں لیکن نادان یہ نہیں سمجھتے کہ اگر اللہ نے کوئی چیز دی ہے تو اس کا مصرف اور اس کی ضرورت اور مقام اور احتیاط کو تو جان سکتے مگر ہم نے صرف حق کو استعمال کرنا سیکھا ہے اور اس کی جگہ کیا ہے؟ مصرف کیا ہے؟ اس طرف ہماری توجہ ہی نہیں گئی
عنفوان شباب میں کچھ جسمانی اعضا کام کرنا شروع کرتے ہیں، نئی مشینری ہوتی ہے یہ کام بھی زیادہ کرتی ہے ،ہر چیز میں افراط ہوتی ہے وہ جذبات ہوں ،وہ معاملات ہوں ۔جوبن ہوتا ہے ایک حد سے زیادہ کام کرنے کی ہمت ہوتی ہے۔اسی طرح بچے اور بچیوں کے اعضا ئے تناسلیہ کا نظام بھی کام کرنے لگتا ہے۔کھانے پینے میں بہتری ہوتی ہیں بعض دفعہ انسان پریشان بھی ہوتا ہے جسمانی طور پر بھی کچھ امراض لاحق ہو جاتے ہیں۔
دوسری اہم بات یہ ہوتی ہے کہ ہمارا جسم قدرتی اس انداز کا بنایا ہے کہ یہ فالتو بنی ہوئی چیزوں کو اپنے اندر نہیں رکھتا ،جو اس کی ضرورت سے زائد ہوتا ہے اسے خارج کر دیتا ہے۔احتلام کی بھی یہی صورت ہے کہ بعض دفعہ شہوانی جذبات کی وجہ سے اعضائے تناسل یہ میں ایک تیزی پیدا ہوتی ہے، انتشار پیدا ہوتا ہے جب وہ ان کی تکمیل نہیں کر پاتا تو سونے کی حالت میں مادہ خارج ہو جاتا ہے
بعض دفعہ یہ نظام ہضم کی کمزوری کی وجہ سے بھی ہوتا ہے بعض دفعہ قبض بدہضمی میں تھکاو ٹ ،پریشان خیالی اور صدمات بھی احتلام کا سبب بن سکتے ہیں ۔عمومی طور پر جوانوں کو احتلام خشکی کی وجہ سے ہوتا ہے ۔قبض کی شکایت رہتی ہے ،رطوبات کی کمی ہوتی ہے اس کے باوجود کچھ معاملات پیش آتے ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.