احتباس واستفراغ

احتباس واستفراغ

احتباس واستفراغ
احتباس واستفراغ

احتباس واستفراغ
مجدد الطب:صابر ملتانیؒ

پیش کردہ:حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان

اسباب ستہ ضروریہ کی جوتین صورتیں ہیں یعنی( اول)جسم کیلئے غذائیت مہیاکرناجیسے ہوااور روشنی اورماکولات ومشروبات۔ (دوم)جسم میں غذائیت کوہضم کرکے جزوبدن بناناجیسے نیندو بیداری اورحرکت و سکون جسمانی اورسکون نفسانی۔(سوم)جسم کے اندرغذائیت کا ایک مقررہ وقت تک رکے رہناتاکہ ہضم ہوکر جزو بدن بن جائے اورجب اس کی ضرورت نہ ہوتوفضلات کی صورت میں خارج کردینا۔اس کواحتباس واستفراغ کہتے ہیں۔

استفراغ کے معنی ہیں

مواداورفضلات کااخراج پانااور طبی اصطلاح میں لفظ استفراغ سے ان چیزوں کابدن سے خارج کرنامرادہے تاکہ اگروہ چیزیں باقی رہ جائیں توبدن میں طرح طرح کے فسادپیداہوکرافعال انسانی سلیم طورسے صادر نہ ہوں۔اس کے برعکس احتباس کے معنی ہیں غذائی اجزاءاور فضلات کاجسم میں رکنااوربوقت ضرورت اخراج نہ پانا دراصل یہ ایک دوسرے فعل کی ضدکااظہارہے ورنہ دونوں میں سے کسی ایک لفظ کاہوناہی کافی ہے۔کیونکہ قادر مطلق نے طبیعت مدبرہ بدن پیداکی ہے۔لہٰذاحسب طاقت وہ مناسب راستوں سے فضلات مذکورہ دفع پرہمیشہ سر گرم رہتی ہے لیکن بعض اوقات ایسی رکاوٹیں پیش آجاتی ہیں کہ اس کے دفع فضلات اور مواد میں کمی بیشی واقع ہو جاتی ہے گویا استفراغ اوراحتباس کااعتدال صحت ہے اور ان میں کمی بیشی کاہونامرض میں داخل ہے۔

فضلات کی حقیقت:
فضلا ت دراصل اضافی لفظ ہے۔حقیقت میں اس کائنات اورزندگی میں فضلات کوئی شے نہیں ہیں۔جن موادکی کسی جسم کیلئے ضرورت نہیں ہوتی تووہ اس کیلئے فضلات بن جاتے ہیں۔اکثرایساہی ہوتاہے کہ جسم کے اندر غیرضروری غذائی اجزاء یامفید موادجن کوطبیعت قبول نہیں کرتی یاطبیعت کوجن کی ضرورت نہیں ہوتی وہ سب فضلات میں شامل ہیں۔فضلات سے مراد فاضل سے ہے یعنی جوچیززائدیافالتوہو۔

جوغذاکھائی جاتی ہے تندرستی کی حالت میں جسم کاایک خاص حصہ جذب کرکے جزوبدن بنادیتاہے اورباقی کوفضلات کی شکل میں خارج کردیتاہے لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ فضلات میں جسم انسان کیلئے غذائیت باقی نہیں رہتی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جس قدراچھی صحت ہوتی ہے اوراعضاء مضبوط ہوتے ہیں اسی قدر زیادہ غذائی اجزاءجذب اور جزوبدن بنتے ہیں اور فضلات کم خارج ہوتے ہیں یابعض اعضاء میں اس قدرتیزی ہوتی ہے کہ وہ غذا کو پورے طورپر ہضم کئے بغیر خارج کردیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جن مریضوں کے اعضاء میں افراط وتفریط اورضعف ہوتاہے وہ جتنی بھی زیادہ سے زیادہ غذاکھائیں ان کے اندر طاقت اور خون کی مقدار میں زیادتی نہیں ہوتی۔سوال غذاکی قلت اورکثرت اوراعلیٰ وادنیٰ کانہیں ہے بلکہ اعلیٰ درجہ کی صحت اور مضبوط اعضاء کاہے جس سے خودبخودزیادہ غذاہضم ہوتی ہے اور جزو بدن بنتی ہے جس کانتیجہ خون کی کثرت اورطاقت کی زیادتی ہوتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بدن کے وجود اور اس کی طاقت کادارومدارغذاپر ہے کیونکہ خون کی تعمیراورتکمیل صرف غذاپرہوتی ہے دواسے نہیں ہوتی کیونکہ دواجزو بدن نہیں ہوتی اورنہ ہی خون کاجزوہے ۔ دواصرف اعضائے جسم میں تحریک اور شدت کاباعث ہوتی ہے۔جس سے اعضائے جسم اپنے مفیداجزاءخون میں شامل کرکے اس میں تعمیراورتکمیل کرتے ہیں لیکن غذاکوئی بھی ایسی نہیں ہے جوساری کی ساری جزوبدن جائے اور اس کا فضلہ نہ بنے۔ پھر اگریہ فضلہ باقی رہے اور اس کااخراج نہ ہوتوبدن میں فاسدمادے اکھٹے ہوجاتے ہیں جن مواد کوفضلات کی صورت میں خارج ہوناچاہیے تاکہ اس کی جگہ نیا موادبنے یاموادسے اس راہ گذرمجراری کوغذائیت اور تقویت حاصل ہو۔اس لئے استفراغ کی انتہائی ضرورت ہے اور احتباس کی ضرورت اس لئے ہے کہ غذاکچھ عرصہ جسم میں ٹھہرے تاکہ اس جوہر طبیعت حاصل کرلے۔

استفراغ واحتباس کا اعتدال صحت اور طاقت کیلئے نہایت ضروری اور مفیدہے۔استفراغ کی زیادتی بدن میں خشکی پیدا کرتی ہے اور احتباس کی زیادتی جسم میں فضلات کی زیادتی کی وجہ سے اس کوبوجھل بنادیتی ہے جس سے اکثر سدے اور تعفن پیداہوتاہے۔

استفراغ کی صورتیں:

جسم انسان سے استفراغ کی مندرجہ ذیل تین صورتیں ہیں ۔(۱)طبعی فضلات۔(۲)غیرطبعی فضلات۔ (۳) مفیدفضلات۔

طبعی فضلات:

طبعی فضلات وہ ہیں جوہمارے مجاری اور اعضاء سے طبعی طورپرضرورت کے مطابق خارج ہوتے ہیں مثلاً نزلہ،زکام،کان کامیل،آنکھ کے آنسو،لعاب دہن،بلغم،بول وبراز،حیض اورمنی وغیرہ۔ان کے اخراج ایک طرف مجاری اور اعضاء جہاں سے وہ گزرتے ہیں ان کونرم رکھتے ہیں دوسرے وہاں کی سوزش وغیرہ کودورکرتے ہیں۔ اگر ان کے اخراج میں کمی بیشی واقع ہوجائے توباعث امراض ہوتے ہیں۔جب ان میں کمی واقع ہوتی ہے تو ذیل کی صورت اختیارکرجاتی ہے ۔

۱۔مسہلات:
بذریعہ دست آورادویات ناقص اخلاط، مواداور متعفن فضلات کاانسانی بدن سے خارج کرنا۔اس کی دو اقسام ہیں (۱)بذریعہ ادویہ مشروبہ یعنی کھانے پینے کی ادویہ(۲) بذریعہ حقنہ اور عمل احتقان (بذریعہ)پچکاری۔

۲۔مدرات:

پیشاب آورادویات اور آلات وغیرہ کے ذریعے مواداور فضلات کااخراج۔

۳۔تصریحات:

بذریعہ پسینہ،حمام یابھپارہ اور دیگر اعمال سے براہ مسامات بدن سے متعفن اخلاط ومواداور فضلات کااخراج۔

۴۔مقیات:

قے آورادویات یادیگر اعمال کے ذریعے مواداورفضلات کاجارج از جسم کرنا۔

۵۔حجامت:

شگاف رگ،پچھنے اورنشتروغیرہ کے ذریعے ردی اخلاط ومواد اورفضلات بدن کاانسان کے بدن سے خارج کرنا۔

۶۔انزال:

جماع کے ذریعے غیرمفیداور ردی موادوفضلات کابدن سے خارج کرنا وغیرہ۔

غیرطبعی فضلات:

ایسے ناقص مواد ہیں جوخون سے پیداہوجاتے ہیں جن سے خون کامزاج اور اخلاط یا اس کے عناصر میں کمی بیشی واقع ہوجاتی ہے یا خون رگوں کے اندریاباہر متعفن ہوجاتاہے۔جب ایسے غیرطبعی فضلات رک جاتے ہیں توان کے اخراج کی صورت بھی مندرجہ بالاطریق پرکی جاتی ہے البتہ ضرورت کے مطابق ادویات بھی استعمال کی جاسکتی ہیں۔

۳۔ مفیدفضلات

: دراصل یہ فضلات نہیں ہوتے چونکہ جسم سے اخراج پاتے ہیں یا ان کواخراج پاناچاہیے اس لئے ان کوفضلات کہہ دیاگیاہے مثلاًجسم میں غیرمعمولی کیفیاتی و نفسیاتی اور مادی تحریکات ہوکرمفیدرطوبات وخون اور منی کااخراج پاناجس میں مذی اور ودی بھی شریک ہیں ۔رطوبات کی صورت میں لعاب دہن،آنسو،مذی اور ودی ہیں۔خون کی صورت میں نفث الدم،قے الدم،نکسیر ،زحیرخونی اوربواسیروغیرہ ہیں۔منی کی صورت میں جریان و احتلام اور سرعت انزال ہیں۔کبھی مفیدرطوبات وخون اور منی کے اخراج کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ طبیعت کارجحان اس طرف زیادہ ہو۔ ان چیزوں کی پیدائش بڑھے۔اس مقصدکیلئے کیفیاتی ونفسیاتی اور مادی تحریکات لطف ولذت اور سمعی وبصرنوازی کے ساتھ ساتھ جذبہ شوق ومحبت کے بھڑکانے سے بھی پیداکی جاتی ہیں۔یہاں تک کہ اطباء اورحکماء نے ا س کی آخری حد جماع رکھی ہے اور یہی ضرورت عقد اور نکاح ہے۔استفراغ و احتباس میں یہ اہم مقام ہے۔اس لئے ہم نے ستہ ضروریہ کاباب قائم کیاہے۔جنسی امراض میں عام طورپریہ سمجھ لیاگیاہے کہ صرف مجربات و مرکبات ہی کافی ہوسکتے ہیں۔کوئی شک نہیں کہ مجربات کاعلاج بہت بڑامقام رکھتاہے لیکن جب تک ستہ ضروریہ سامنے نہ ہوں خصوصاً احتباس واستفراغ کی اہمیت کومدنظرنہ رکھاجائے جنسی امراض کاعلاج کیسے ممکن ہوسکتاہے۔ اگرصرف مجربات تک ہی ممکن ہوتاتوہرقسم کے مجربات کی کتب کی اس قدر کثرت ہے کہ مزیدمجربات کی ضرورت نہیں ہے۔مگرہم دیکھتے ہیں کہ طبی دنیامیں جنسی مجربات کی آج پہلے سے بھی زیادہ ضرورت وطلب ہے۔اس کی وجہ صرف ہے کہ مرض کی تشخیص اور صحیح دواکی تجویزآج بھی ضرورت باقی ہے اور وہ لوگ بہت بڑی غلطی پرہیں جوبغیر تشخیص اور بغیر صحیح تجویز کے صرف جنسی مجربات طلب کرتے ہیں۔ جنسی امراض کی حقیقت اور ان کیلئے صحیح دوا اور غذاکے اصول اور مجربات کیلئے ہماری کتاب تحقیقات وعلاج جنسی امراض کامطالعہ کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.