احادیث میں مذکورہ علم العقاقیر کے بارہ میں ادھوری معلومات کا نقصان۔

احادیث میں مذکورہ علم العقاقیر کے بارہ میں ادھوری معلومات کا نقصان۔

احادیث میں مذکورہ علم العقاقیر  کے بارہ میں ادھوری معلومات کا نقصان۔
احادیث میں مذکورہ علم العقاقیر کے بارہ میں ادھوری معلومات کا نقصان۔

احادیث میں مذکورہ علم العقاقیر کے بارہ میں ادھوری معلومات کا نقصان۔
تحریر:۔حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان

کتب احادیث میں جن جڑی بوٹیوں اور عقاقیر کا ذکر آیاہے وہ کتب احادیث میں محفوظ انداز میںامانت دارنہ طریقے سے ہم تک پہنچا دیا گیا ہے۔اس بارہ میں ان لوگوں کی خدما ت گرانقدر ہیں جنہوں نے اس کے تحفظ میں اپنی زندگیاں وقف کردیں۔علائق دنیا سے دست بردار ہوگئے گویا وہ پیدا ہی اس علم کی خدمت کے لئے ہوئے تھے،ایک ایک لفظ کواپنے حافظے میں محفوظ کیاہزاروں صفحات لکھے قلم قرطاس ان کا اوڈھنا بچھونا انسانی بساط کے مطابق اس وراثت کو محفوظ کرنے کے لئے کئے جاسکتے تھے اختیار کئے گئے اس لئے طب نبوی کا ذخیرہ ہم تک محفوظ انداز میں منتقل ہوا۔محدثین نے حدیث کی خدمات کو ہر طرح سے ادا کرنے کی سعی مشکور فرمائی اسی میں احادیث مبارکہ کے معانی و مطالب کی تفہیم کی خاطر ان کے معانی و مطالب پر کتب تحریر فرمائی،شروحات لکھیں۔محدثین اس میدان کے جری جوان تھے انہوں نے تحقیقات کے بگ ٹٹ گھوڑے دوڑائے اور وراثت نبوت کی حفاظت کے لئے علوم و فنون تشکیل دئے اس قسم کی کاوش دنیا میں کسی نے کی نہ کوئی کرسکے گا وہ لوگ مخلص و دیانت دار تھے انہوں نے علمی خدمات کی خدمت کو دنیا کی کسی بھی منفعت پر ترجیح دی تھی ان کے نزدیک اگر کسی نے اس میدان میں لالچ و ذاتی غرض سے کوئی کام کیا تواسے بھی دھتکار دیا۔
لیکن بہت سے محدث طبیب نہ تھی انہوں نے جب ان عقاقیر و جڑی بوٹیوں پر بحث کی یا سننے والوں نے اپنی سمجھ کے مطابق انہیں بیان کیا تو معمولی لغزش ہوئی ان ان بوٹیوں اور طبی خواص کی حامل اشیاء کے نام یا شناخت میں گڑ بڑ ہوگئی یہ بھی ہوسکتا ہے جہاں اس قسم کا سہو دیکھنے میں آئے وہ ان کی زبان اور مقام کے فرق کی وجہ سے ہوبعد والوں نے ان پر اعتماد کرکی ان معانی و مطالب کو من و عن قبول کرلیا ہو۔ایک ہی چیز مختلف زبانوں اور ممالک میں دیگر ناموں سے جانی جاتی ہے عرب لوگ بھی مختلف قبائل اور مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے تھے ،ان کے لب و لہجہ میں ہی فرق نہ تھا بلکہ ان کی بولی اور زبان کی تفہیم میں بھی فرق تھا۔
علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کی کتاب’’ الاتقان فی علوم القران‘‘ میں اس کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں۔قران کریم کو بھی سات زبانوں میں اتارا گیا تھا پھر زبان قریش کو مرکزی زبان قرار دیکرقرات قران کے مختص کردیا گیا۔
جب اسلام جزیرہ عر ب کو پھلانگ کر دیگر خطوں میں پہنچا اورممالک محروسہ میں ضوء افشانی کی تو ان کی زبانیں تو اہل عرب سے الگ تھیں ان کا اپنا تہذیب و تمدن تھا،اسلام سے پہلے قیصر و کسری آدھی آدھی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے تھے۔جب عربوں میں تفہیم قران و حدیث کے مختلف درجات تھے تو دیگر اقوام کا ذکر ہی کیا ان سمجھ اسلام کے بارہ میں کیا تھی اس کے بارہ میںکتب تواریخ کا مطالعہ کرنا پڑے گا،قصہ کوتاہ احادیث میں مذکورہ جڑی بوٹیاں اور ان کے مرعوف نام مختلف زبانوں اور زمانوں میں مختلف اقوام نے اپنے اپنے انداز میں سمجھے اس لئے بعد والوں کے لئے کافی دقتیں پیش آئیں طبی لحاظ سے جس قدر عام انسان فوائد اخذ کرسکتا تھا نہ کرسکالیکن ایسا کم ہوا کیونکہ محدیث کرام نے اس موضوع پر بیش بہا فوائد کی حامل کتب تحریر کردیں۔طبی میدان میں بہت سے اعتراضات کے جواب دئے اور خم ٹھونک کر علم برداری کی دیکھئے ابن القیم کی طب نبوی۔

 

Hakeem Qari Younas

Assalam-O-Alaikum, I am Hakeem Qari Muhammad Younas Shahid Meyo I am the founder of the Tibb4all website. I have created a website to promote education in Pakistan. And to help the people in their Life.
View All Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *