پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

مسلمانوں کے ہر طبقہ اور پیشہ میں علم و علماء
Sawaneh Umri سوانح عمریاں

مسلمانوں کے ہر طبقہ اور پیشہ میں علم و علماء

مسلمانوں کے ہر طبقہ اور پیشہ میں علم و علماءمورخ اسلام۔حضرت مولانا قاضی اطہر صاحب مبارک پوری۔ؒحضرت مولانا قاضی اطہر صاحب مبارکپوری رحمہ اللہ ، عصر حاضر کے معدودے چند دیدہ ور، صاحب نظر محقق مؤرخین اور اہل قلم کی صف اول کے سرخیل تھے۔ قاضی صاحب کی نوک قلم

الحاوي الکبير في الطب1(اردو ،ڈیجیٹل ایڈیشن )

امراض ، اسباب امراض اور معالجات کی شہرہ آفاق کتابالحاوي الکبير في الطب1(اردو ،ڈیجیٹل ایڈیشن )تالیف :ابو بکر محمد بن زکریا رازی (865ھ۔925ھ)ڈیجیٹل ایڈیشن:سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ//سعد ورچوئل سکلز پاکستان600 سال قبل لکھی گئی شہرہ آفاق کتاب۔جو مصنف کی تجربات طبی عملی زندگی کا نچوڑ ہے۔آج بھی

چہار طب۔۔عالی جناب ڈاکٹر ہربنس لال صاحب بترہ
نایاب طبی کتب

چہار طب۔۔عالی جناب ڈاکٹر ہربنس لال صاحب بترہ

چہار طب۔مرتبہ۔عالی جناب ڈاکٹر ہربنس لال صاحب بترہمیں صرف اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں سے کہ ہے ہے۔ فن طب تمام ابحاث کے باوجود عام فہم اس قدر ہےکہ اسکولوں کے طالب علم بھی بڑھ کر بخوبی استفادہ کر سکیں مصنف نے امراض کے تشخیص و شناخت کو نہایت آسان

بے حس اعضاء کاتیربہدف دیسی علاج
میری طبی زندگی کے تجربات

بے حس اعضاء کاتیربہدف دیسی علاج

چوٹ لگنے سے اعضاء کا بے حس ہوجانا۔بے حس اعضاء کاتیربہدف دیسی علاجاز حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میوآج کل روڈ ایکسیڈنٹ بکثرت ہورہے ہیں ۔بے شمار لوگ اعضاء کے مفلوج ہونے کی وجہ سے بستر مرگ تک پہنچ گئے ہیں۔مفلوج زندگی اور محتاجی کی وجہ سے گھر والوں

الحاوی الکبیر فی الطب۔للرازی۔پہلا حصہ
ڈیجیٹل مارکیٹنگ

الحاوی الکبیر فی الطب۔للرازی۔پہلا حصہ

الحاوی الکبیر فی الطب۔للرازی۔پہلا حصہ(ڈیجیٹل ایڈیشن۔رنگین تصاویر سے مزین۔تحقیقات جدیدہ سے تقابل)امراض ، اسباب امراض اور معالجات کی شہرہ آفاق تالیف۔الحاوي الکبير في الطب(موسوم بہ حاوی کبیر ) کا اردو ترجمہ ۔ حصّہ اوّلتالیف :۔ابو بکر محمد بن زکریا رازی(865ھ تا925ھ)الحاوی الکبیر اس وقت نوحصوں پر مشتمل اردو میں ترجمہ

میواتی ادب

نکاح آسان بنائیں میو برادری

نکاح آسان بنائیں میو برادریپہلی سالگرہ۔افادیت وکارکردگی۔از۔حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میوانسانی دنیا میں کوئی کام جو سوچا جاسکتا ہے وہ کیا بھی جاسکتا ہے۔میو قوم کے لوگوں نے انفرادی حیثیت سے بہت سے کام کئے جنہیں قومی سطح پر پنالیا گیا ۔کیونکہ ان کاموں میں اجتماعیت موجود تھی