پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

10 صحت مند ورزشیں
Uncategorized

10 صحت مند ورزشیں

10 صحت مند ورزشیں 10 Healthy Exercises 10 تمارين صحية حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو 1. چلنا 2. دوڑنا 3. تیراکی 4. سائیکلنگ 5. یوگا 6. پیلیٹس 7. طاقت کی تربیت 8. رسی کودنا 9. تائی چی 10. کھینچنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ walking۔۔۔پیدل چلنا: چہل قدمی باقاعدہ جسمانی سرگرمی حاصل

مشرقی و مغربی اطباء ایک دوسرے کی تحقیقات سے بے خبر رہنا۔
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

مشرقی و مغربی اطباء ایک دوسرے کی تحقیقات سے بے خبر رہنا۔

مشرقی و مغربی اطباء ایک دوسرے کی تحقیقات سے بے خبر رہنا۔ مشرقی و مغربی اطباء ایک دوسرے کی تحقیقات سے بے خبر رہنا۔ Eastern and Western doctors should not be aware of each other’s investigations. يجب ألا يكون الأطباء الشرقيون والغربيون على علم بتحقيقات بعضهم البعض. مضمون نگار :حکیم

میری منجل
میواتی ادب

میری منجل ۔سکندر سہراب

زاد راہ میری منجل سکندر سہراب میو ایک سوچ تھی مر کے زندہ رہنے کی ۔ لڑکپن میں ایک جنون تھا کچھ کر گزرنے کا۔ عالم شباب سے پہلے عہد پیری نے آلیا ۔ مگر جذبوں کی سرکشی نہ گئی ۔ فنکار کی انا پرست نازک مزاجی اور میو قوم

وزن کم کرنے کے 10 طریقے ۔
Uncategorized

وزن کم کرنے کے 10 طریقے ۔

وزن کم کرنے کے 10 طریقے ۔ وزن کم کرنے کے 10 طریقے ۔ 10 ways to lose weight 10 طرق لخسارة الوزن حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔ 1۔متوازن اور غذائیت سے بھرپور غذا کھائیں۔ دبلی پتلی پروٹین، سارا اناج، پھل اور سبزیاں اور صحت مند چکنائی شامل

Difficulties-in-the-field-of-medicine.-The-responsibility-of-doctors.www_.dunyakailm.com_.jpg
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

میدان طب کی مشکلات۔اطباء کی ذمہ داری۔

میدان طب کی مشکلات۔اطباء کی ذمہ داری۔ میدان طب کی مشکلات۔اطباء کی ذمہ داری۔ Difficulties in the field of medicine. The responsibility of doctors. صعوبات في مجال الطب مسؤولية الأطباء. حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو منتظم اعلی: سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ کاہنہ نو لاہور میدان

موٹاپے کے خطرات۔ Risks of obesity مخاطر السمنة حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ موٹاپا رسول اللّٰہ ﷺ نے علاماتِ قیامت میں موٹاپے کا تذکرہ بھی کیا، حدیث نبویﷺ ہے: «وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ». ”اور موٹاپا عام ہو گا۔ ” الراوي : عمران بن الحصين | المحدث : البخاري