پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

طلسمِ ہیکلِ سلیمانی: خواص، فوائد اور اعمال کا تعارف


تمہید

طلسمات و روحانیات کی کتب میں “ہیکلِ سلیمانی” کو ایک نہایت معروف اور جلیل القدر طلسم شمار کیا گیا ہے۔ یہ طلسم شیخ ابو العباس احمد بن مساعد قسطلانی کی طرف منسوب ہے۔ اس مضمون میں اس کے خواص، عامل کے آداب اور اس سے متعلق اعمال کی ابتدائی تفصیل پیش کی جاتی ہے۔

طلسم کے خواص و فوائد

جمہور علمائے طلسمات کے نزدیک یہ ہیکل درج ذیل مقاصد کے لیے تیز اثر اور جلد نتیجہ دینے والا عمل ہے:

عامل کے لیے شرائط و آداب

حب و تسخیر: محبت پیدا کرنے اور دلوں کو مائل کرنے کے لیے

ترقیِ رزق: روزی میں برکت اور وسعت کے لیے

دفعِ فقر و فاقہ: تنگ دستی اور محتاجی کے ازالے کے لیے

وسعتِ مال و منال: مال و دولت میں اضافے کے لیے

قرض سے نجات: قرض کے بوجھ سے چھٹکارے کے لیے

امراضِ جسمانی و روحانی کا علاج

زندگی کے دیگر مسائل و مشکلات کا حل

علمائے روحانیت کے بیان کے مطابق اس عمل کے لیے کوئی خاص ظاہری پابندی لازم نہیں، لیکن عامل میں یہ اوصاف ہونے چاہییں:

نیک دل اور حسنِ اخلاق کا حامل ہو

احکامِ شریعت کا پابند ہو

مضبوط قوتِ ارادی رکھتا ہو

منشیات سے مکمل پرہیز کرے

جہاں تک ممکن ہو حیوانی اجزا کے استعمال سے بچے

اعمال کی تقسیم

معتبر کتبِ طلسمات میں اس طلسم سے متعلق اعمال تین درجوں میں بیان کیے گئے ہیں:

درجہنام
پہلااعمالِ کبیر
دوسرااعمالِ وسیط
تیسرااعمالِ صغیر

حب و تسخیر کے اعمالِ کبیر

اعمالِ کبیر کی حیثیت

حب و تسخیر کے جن اعمال کو “اعمالِ کبیر” کہا جاتا ہے، وہ اس فن میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اہلِ فن کے مطابق تیز تاثیر کی وجہ سے یہ صدیوں سے کامیاب سمجھے جاتے رہے ہیں۔ ان میں سے چند اعمال کا میں نے خود تجربہ کیا ہے اور اپنے اطمینان کے مطابق انہیں کامیاب پایا ہے۔ وہی اہلِ علم و فن کی خدمت میں پیش ہیں۔

⚠️ احتیاط و انتباہ

ان اعمال کو صرف ایسے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے جن پر شرعی اور اخلاقی لحاظ سے کوئی اعتراض نہ ہو۔ نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے کیا جانے والا کوئی بھی عمل اسلام اور اخلاق دونوں کی رو سے بڑا جرم ہے۔ ایسا شخص دنیا میں ذلیل و خوار ہوتا ہے اور اس کی آخرت بھی تباہ ہو جاتی ہے۔

عملِ اول

ماخذ: صاحبِ “عوارف الحروف” علامہ ابوالحسن اعمالی نے اس عمل کو نہایت عجیب قرار دیا ہے۔ ان کے بیان کے مطابق اس کا عامل کسی مشکل سے حاصل ہونے والے مطلوب کو بھی لمحوں میں اپنا مطیع بنا سکتا ہے۔

بنیادی جزو: اس عمل کا دارومدار ہدہد پرندے پر بتایا گیا ہے۔

مطلوبہ وقت (فلکی شرائط):

برجِ ثور بطورِ طالعِ وقت طلوع ہو

صاحبِ ثور، یعنی زہرہ، برجِ حوت میں درجۂ شرف پر ہو

قمر کا زہرہ سے اتصال ہو رہا ہو

زہرہ رجعت اور احتراق سے محفوظ ہو

طریقۂ عمل:

پرندے کو پہلے پنجرے میں رکھا جائے۔

مذکورہ وقت آنے پر اسے نکال کر ذبح کیا جائے اور اس دوران طلسمِ ہیکل سلیمانی سات مرتبہ پڑھا جائے۔

خون تانبے کے برتن میں آگ پر جلا کر راکھ بنائی جائے۔ یہ راکھ شیشے کے برتن میں محفوظ کی جائے۔ اہلِ طلسمات اسے “سندسان” کہتے ہیں۔

کھال کو نمک اور سرمۂ اصفہانی سے دباغت دی جائے۔

کھال خشک ہونے پر اس پر طلسم تحریر کر کے محفوظ رکھا جائے۔

استعمال: ضرورت کے وقت سندسان کو سرمے کی طرح آنکھ میں لگایا جائے اور کھال سینے پر، دل کے مقام پر باندھی جائے۔

بیان کردہ نتیجہ: کتب میں لکھا ہے کہ ایسا شخص جس کے سامنے جائے گا وہ اسے دیکھتے ہی فدا ہو جائے گا۔ اسے “مجرب المجرب” کہا گیا ہے۔

مصنف کی وضاحت

اس عمل میں علمِ نجوم کی کئی اصطلاحات آئی ہیں۔ نجوم سے واقف حضرات کے لیے مطلوبہ وقت نکالنا مشکل نہیں۔ جنہوں نے پہلے ایسے اعمال نہ کیے ہوں، وہ کسی قریبی صاحبِ علم سے رہنمائی ضرور لیں۔

طلسمِ ہیکلِ سلیمانی کی عبارت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

هَرْهِيَا طَمْهِيَابَ هَمْطَايَا هَرْوِفَايَا إِسْرَافِيلُ هَرْصُكْعِيَابِ هَسْتَمَابِ يَا جَبْرَائِيلُ طَرْهَلْمِيَاجِ سَلْهَافَتَا هَطْلُوقَ يَا مِيكَائِيلُ شُو هَطْعَنِيكَ يَا دَرْدَاسِيلُ طَهْقَاشُ يَا دَرْوِيَاسِيلُ جِنْطَلُوحُ ضَرْوِهِيَاجِ هَسَهَاجُ يَا رَفْتَمَائِيلُ فَعْدِ يِرَاهُ هَلْدَهَمْ هَمْيَطِ يَا شَرْخَائِيلُ هِيلاً هُلْتَا هُلْعَ هَاعُ يَا تَنْكَمَائِيلُ هُنْهَشُ عَمْلِسِيحَا هَمْطِيَا يَا إِسْمَاعِيلُ هُمْنَقُ طَلْهَقُ هَتُو وَاشِي يَا كَيْطَائِيلُ هَيْطُوهَا وَطَنْفَا هَدْفَيْتِمَا يَا حُرُّ وَإِسْرَائِيلُ طُيَافُ هَمْشَاطِ هِيلُومُ يَا طَاطَائِيلُ فَتَرْقَشُ قَمْطَعَ هَقْطَاهُ يَارُوفُ يَا نِيلُ مَسْدِهِيَاحُ هَلِيقِي يَا حُولَابِيلُ شَهْطُ هَمْنطِ شُمَاهَا طِ يَا هَمْوَاكِيدُ هَشْمَتِيم عَنْ فَتْوَاشِ يَا لُومَائِيلُ هَلِيمِطَشُ طُوهُشُ طُهَيْمِنَا يَا سَرْحَمَا بِيلُ قَسُوقُ قَلِيمِشُ يَا أَهْمَاسِيلُ فَتَدْهَصِيرِ فَتَحِيَانُشُ يَا فِطْرَائِيلُ قَطْيَطِ شُلْهَائِيلُ وَمِيُّوهَاً يَاً أَمْوَاكِيلُ هَسْطِيِنَا هَقْفَاهُ بِيبُومَاً هَقْطَعِ يَا هَمْرَاسِيلُ طُبِيرٍ هَيْلِيقَ حَفِيظُ يََا عَزْرَائِيلُ طُمهَشُ يَا مِيكَائِيلُ طُهْسُ طَقْشُوقِ يَا مَهْكَائِيلُ صَلْمُقْ مُتْعُوراً حُلْهَهْطُ يَا أَهْرَاطِيِيلُ طُلْهَامٍ مِصْنُ هُذْفَيُوعُ فَتْهَلُشُ يَا عَطْكَائِيلُ طُهْرٍ مُنُوحُ أَحْمُوطٍ أَمْهُوطُ يَا نُورَائِيلُ طَلْعَثْ طَلْسَاعِ أَعُوذُ هَبِيبِزْ بِالسُّوخَانِيَا

حاشیہ (مدیر کی طرف سے)

یہ عمل کتبِ طلسمات کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے۔ ہدہد کے قتل کے بارے میں سنن ابو داود کی حدیث میں چار جانوروں (چیونٹی، شہد کی مکھی، ہدہد اور صُرَد) کے قتل سے منع آیا ہے۔ اس لیے قارئین اس عمل کو محض تاریخی و نقلی حوالے کے طور پر پڑھیں اور کسی بھی عملی اقدام سے پہلے مستند عالمِ دین سے رجوع کریں

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

[saadherbal_newsletter_form]