
زہریلی ادویات۔پارہ کا استعمال
از۔ صابر ملتانی
ناقل:حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی
ہم نے اپنی تحریروں میں ہمیشہ یہ تاکید کی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو، زہریلی ادویات کا استعمال نہ کیا جائے اور جب اس کے بغیر چارہ نہ ہو تو اس کو قلیل سے قلیل مقدار میں برتیں۔ چونکہ اکسیرات اور تریاقات میں زہروں کی آمیزش ہوتی ہے، اس لئے ان کا استعمال اشد ضرورت کے وقت کیا کریں تا کہ معالج یا مریض کبھی غلطی سے یا جلد فائدہ کی خاطر زیادہ مقدار میں دوا کھائے تو نقصان نہ ہو۔
پارہ کا استعمال
آیور ویدک ، طب یونانی اور فرنگی طلب ہو میو پیتھی میں پارے کو آتشک کے مرض میں استعمال کیا جاتا ہے اور ہر طریق علاج میں اس سے یقینی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔

پارہ کے متعلق ہماری تحقیقات
کیمیا کی اصطلاح میں پارے کو خام چاندی کہتے ہیں اور ان دونوں کے ایک ہی قسم کے افعال و اثرات بیان کرتے ہیں اور جہاں تک مزاج اور خلط کا تعلق ہے، چاندی اور پارو اپنی خام حالتوں میں بلغم پیدا کرتے ہیں اور ان کا اثر اعصاب پر شدت سے ہوتا ہے۔ لیکن جب چاندی کا کشتہ تیار کیا جاتا ہے تو اس کا اثر عضلات پر پڑتا ہے اور اس کے علاوہ چاندی کسی صورت میں بھی استعمال کی جائے، اس کے افعال واثرات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ لیکن پارہ ایک ایسی دوا ہے جو مختلف افعال واثرات کی ادویات کے ساتھ مل کر دوسری ادویات کے افعال و اثرات میں تیزی اور شدت پیدا کر دیتا ہے۔ اس لئے آیور ویدک اور فرنگی طب میں اس کے بے شمار مرکبات ہیں جو طب یونانی میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً اس کا ایک عام مرکب بجلی ہے۔ جو پارہ اور گندھک کو ہم وزن ملانے سے آدھ گھنٹہ تک کھرل کرنے کے بعد تیار ہو جاتی ہے۔ اس کے افعال و اثرات غدی عضلاتی ہوتے ہیں۔
ہم نےکجلی کے نسخے میں یہ تبدیلی کر دی ہے کہ پارہ ایک حصہ اور گندھک سات حصے آدھ گھنٹہ تک کھرل کریں تو کجلی تیار ہو جاتی ہے اور جہاں بجلی کی ضرورت ہو، اس کو استعمال کریں، یہ کجلی سے بھی زیادہ مفید اور بہتر ثابت ہوتی ہے اور اس سے منہ بھی نہیں آتا۔
اس کا دوسرا مشہور مرکب شنگرف ہے۔ جو گندھک اور پا جو گندھک اور پارے کے ملانے سے تانبے کے برتن میں پختہ کیا جاتا ہے۔ اس کے اثرات و افعال عضلاتی غدی ہیں۔ اس کا تیسرا مرکب دار چکتا ہے جو پارے اور نمک اور دیگر کیمیائی ادویات کا مرکب ہے۔ اس کے افعال واثرات غدی اعصابی ہیں۔ اس کا چوتھا مرکب سنگچھ رہے جو پارہ اور سنکھیا کا مرکب ہے۔ یہ عضلاتی اعصابی ہے۔ ان کے علاوہ فرنگی طلب کے علم الادویہ میں اس کے مزید مرکبات پائے جاتے ہیں جن میں سب سے پہلا مشہور مرکب کیلول ہے۔ اس میں پارے کے نمایاں اثرات کے ساتھ مسہل اور ملین اثرات بھی پائے جاتے ہیں۔ یا اعصابی غدی ہے اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی ملین ضرور دینا چاہئے۔ نہیں تو فورامن آ جاتا ہے۔
پارے کی یہ خوبی کہ وہ فورا ہر قسم کی ادویات میں تحلیل ہو کر ان کے اثرات کو بڑھا دیتا ہے، بہت ہی کم ادویات میں نظر آتی ہے اور جن میں یہ خوبی پائی بھی جاتی ہے تو بہت کمی کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ ہم کسی اور موقع پر اس کا ذکر کریں گے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جب پارہ گندھک سے ملتا ہے تو اس کا رنگ سیاہ ہو جاتا ہے۔ شنگرف کو جب پختہ کرتے ہیں تو اس کا رنگ شنگرفی ہو جاتا ہے ۔ جب اس میں نمک کی آمیزش کرتے ہیں تو اس کا رنگ زردی مائل ہو جاتا ہے۔ جب اس کو نیلے تھو تھے میں ملایا جائے تو اس کا رنگ سلیٹی بن جاتا ہے۔ اس کے مختلف رنگ اپنے اندر مختلف اثرات بھی رکھتے ہیں اور ضرورت کے وقت یہ اکسیر کا کام دیتے ہیں۔
یاد رکھیں
کہ جس نسخے میں پارہ نہیں ہوتا وہ کبھی اکسیر کا کام نہیں کر سکتا۔ کیونکہ پارے کے افعال واثرات میں اتنی شدت ہے کہ یہ برق رفتاری کے ساتھ عمل کرتا ہے۔
بیرونی طور پر بھی پارہ اپنی مختلف صورتوں اور رنگوں میں مختلف امراض میں اکسیر کا کام دیتا ہے۔ اگر کیمیائی طور پر بھی پارہ دہی کی طرحپھٹ جائے تو یہ آب حیات بن سکتی ہے۔ جس کی ایک خوراک جسم کو کندن بنا سکتی ہے۔ لیکن یہ بہت مشکل عمل ہے جس کو یہ نصیب ہو جائے ، وہ بادشاہ ہوتا ہے۔
چند اہم نکات
ہم نے اپنی تحقیقات میں یہ ثابت کیا ہے کہ آتشک اگر چہ متعدی مرض ہے، تا ہم اس کی ابتداء ایسی اذریہ اور ادویہ سے بھی ہو سکتی ہے جو اعصاب میں شدید تحریک پیدا کریں یا بلغم اور رطوبت کی پیدائش کو بڑھادیں۔ اس لئے انسان کو خصوصاً ایسے لوگوں کو جن کو اعصاب میں تحریک ہو یا وہ بلغم کے مریض ہوں ، ان کو ایسی اغذیہ اور ادویہ سے پر ہیز کرنا چاہئے ، جن سے ان کی تکالیف میں اضافہ ہوتا ہے۔ مثلاً :
(۱) سرد پانی کا زیادہ استعمال ، سرد اغذیہ کا زیادہ کھانا۔ دریائی اور سمندری زندگی، ہر وقت رطوبت اور نمی میں گھرے رہنا۔ مچھلی اور دریائی یا سمندری جانور کو بہت مدت تک استعمال کرنا وغیرہ۔
(۲) جن لوگوں کو مرض آتشک ہے، ان سے ملنے جلنے اور کھانے پینے میں پر ہیز لازمی ہے۔
(۳) ایسے لوگوں کو اس وقت تک شادی نہیں کرنی چاہئے جب تک ان کو اس مرض سے پوری طرح آرام نہ آجائے ۔ کیونکہ شادی کے بعد یہ مرض بیوی کو بھی ہو جاتا ہے، جس سے وہ دیگر رشتہ دار عورتوں میں پھیل سکتا ہے اور اگر اولاد پیدا ہو جائے تو یہ مرض یقینا اس میں بھی جاتا ہے۔ پھر یہی بچے کھیل کود کے میدان اور سکول و کالجوں میں دوسرے بچوں اور ہمجولیوں میں اس مرض کے پھیلانے کا باعث بنتے ہیں۔ کھیل کود کے دوران ماں باپ کو بچوں کے دوستوں پر خاص نگاہ رکھنی چاہئے ۔ اور سکول اور کالج میں ایسے بچوں کو جب تک معالج کی تصدیق نہ ہو ، داخلہ نہیں ملنا چاہئے۔
(۴) اگر مریض کے ظاہری جسم پر زخم وغیرہ نہ ہوں تو اس کو علاج کے دوران گھر سے باہر آنے جانے کی بندش نہیں ہونی چاہئے۔ لیکن اگر جسم پر زخم ہوں اور خاص طور پر ان میں تعفن پیدا ہو جائے تو اس کو ہسپتال داخل کرا دیا جائے یا گھر میں رہنے کی تاکید کی جائے ، تاکہ اس سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔
(۵) جب جسم میں درد اور جلن کے ساتھ بد بودار پیپ اور تعفن پیدا ہو جائے تو کوشش یہ کرنی چاہئے کہ جلد ہی درد و چلن اور بد بودار پیپ رفع ہو جائے، کیونکہ ایک طرف یہ پیپ بدن میں جہاں بھی دوسری جگہ لگتی ہے وہیں زخم بنا دیتی ہے اور دوسری طرف دوسرے لوگوں میں امراض پھیلانے کا باعث بنتی ہے۔
(۲) یہ بات یاد رکھیں کہ جس شخص کے جسم میں پھوڑے پیازخم یا خارش ہو اس کے جسم پر مرض آتشک کا جلد حملہ ہوسکتا ہے۔
(۷) بعض لوگوں میں جب آتشک کے سبب سے غدود پر اثر ہوتا ہے تو تحلیل کے بعد ان میں کھچاؤ کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں جسم میں فورا حرارت کی کمی پورا کرنا چاہئے ۔ علاج کے دوران یہی کوشش ہونی چاہئے کہ مریض کے زخم اور در دو جلن جلد رفع ہو جائے اور اس سے بہنے والی رطوبت اور پیپ جلد سے جلد ختم ہو جائے۔ اور اس امر کو بی یا د رکھنا چاہئے کہ مکمل شفا تیک مریض کو قبض ہرگز نہیں ہونی چاہئے۔
(۸) اگر مرض صرف اعضائے مخصوصہ تک محدود ہو تو اس میں مقامی ادویات کا استعمال بھی ضروری ہے۔
(۹) مرض کتنی بھی شدت اختیار کر جائے یہاں تک کہ گوشت گلنے سڑنے لگے تو بھی علاج سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ البتہ اکسیرات اور تریاقات کے ساتھ ساتھ حرارت پیدا کرنے والی ادویات استعمال کرائیں۔
(۱۰) علاج کے دوران میں ہمیشہ یہ پہلے تشخیص کر لینا چاہئے کہ مرض آتشک کے زخم ہیں یا کسی اور مرض سے زخم پیدا ہو گئے ہیں۔ تشخیص میں سب سے بڑا ذریعہ نبض و قارورہ ہیں۔ ان کے علاوہ زخم ہمیشہ سطح پر ہوتے ہیں اور ان کے علاوہ دیگر امراض کے زخم جسم کے اندر کی طرف سے باہر کی طرف آتے ہیں۔
(۱۱) یہ بات بھی یادرکھیں کہ جب جسم میں جگہ جگہ گلٹیاں بن جائیں تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ الحاقی مادے میں حرارت کی کمی سے تختی پیدا ہو جاتی ہے اور یہ گلٹیاں حرارت کی کمی سے پیدا ہو جاتی ہیں۔ اگر یہ گلٹیاں بڑھ جائیں تو ان میں بھی پھٹ کر زخم پیدا ہو جاتے ہیں اور کبھی کبھی بہت کی گلٹیوں کے زخم اکٹھے ہو کر ایک بہت بڑاز خم بنادیتی ہیں۔
(۱۲) الحاقی مادے میں تختی پیدا ہونے کے بعد عضلاتی مادے میں کھچاؤ اور زخم بڑھنے لگتے ہیں، اور جسم متورم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ مرض ہڈیوں کی جھلی کو نقصان پہنچا کر مردہ بنانا شروع کر دیتا ہے۔
(۱۳) اگر مریض بہت ضعیف ہو گیا ہو تو اس کے علاج میں مقوی اغذیہ کا اضافہ کر دینا چاہئے اور مریض کو صاف ستھرا رکھنا چاہئے جس سے اس کے جسم میں بہت جلد طاقت پیدا ہو کر مرض رفع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
کلیات صابر451۔جلدو ودم


