
قانون مفرد اعضاء کے تحت اروی (Colocasia esculenta) کا تحقیقی و طبی مطالعہ
مزاج، فعلیاتی اثرات اور کلینیکل ایپلی کیشنز
اس وقت موسمی سبزیوں میں اروی بازار میں آچکی ہے۔کچھ لوگ لیسدار ہونے کی وجہ سے اسے پسند نہیں کرتے ۔کچھ لوگ بڑی رغبت سے کھاتے ہیں۔مجھے اروی بہت پسند ہے ۔ اروی قدرت کا عطیہ ہے جوا اس وقت وافر مقدار میں دستیاب ہے۔قدرت کی فیاضی سے استفادہ کرنا شکران نعمت کے زمرے میں آتا ہے۔
راقم الحروف کل سبزی منڈی گیا۔ایک بھائی صاحب اپنا سامان سمیٹ رہے تھے۔بھائو تائو کیا تو تین سو روپے میں چار پانچ کلو تول کر پکڑادی۔بہت حیرت ہوئی کہ اتنی بڑی نعمت یوں عام دستیابی اور اس کے فوائد سے لوگوں کی لاعلمی۔
دراصل ہم نے اپنے ادارہ میں سولر سے سسٹم سے پھلوں اور سبزیوں کو خشک کرنے اور انہیں تجارتی بنیاد پر سپلائی کرنے کا پلان کیا ہے۔
جن پھلوں اور موسمی سبزیوں کو لسٹ مین شامل کیا گیا ہے ۔
ان میں۔آم۔سیب۔امرود۔تربوز۔لیموں۔کریلا۔خربوزہ۔سٹابری۔میتھی۔۔پالک،پودینہ۔دھنیا۔میتھی۔اروی۔گوبھی ،

کدو،وغیرہ تقریبابیس کے قریب اشیاء ہیں۔
کل منڈی سے،اروی۔۔کریلا۔لیموں خریدے گئے۔
سولر ہائیڈریٹر میں آسانی سے ایک دن میں خشک ہوگئے۔نفاست تھی۔اعلی معیار کے ساتھ ۔لیموں کریلا۔اروی کو خشک کیا ۔ان کی رنگت نہیں بدلی۔ان کا ذائقہ تبدیل نہیں ہوا۔ ۔ہم نے اروی کو مردانہ جرثوموں کی تکمیل کے لئے تیار کیا ہے۔جن لوگوں کے جسم میں خشکی کی وجہ سے اکڑائو۔کھچائو رہتا ہے انہیں عرصہ سے استعمال کرایا جارہا ہے۔اطباء و معالجین کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔
اگر پھلوں اور سبزیوں کو خشک کرکے ادویات کی جگہ کام میں لایا جائے تو میدان طب میں بہت بدلائو پیدا کیا جاسکتا ہے۔ اروی اولاد کی پیدا اور بانجھ پن۔مرد کے جرثوموں کا مرجانا وغیرہ میں کام کی چیز ہے۔اس کی وضاحت ہم نے اپنی کتاب
سبزیوں کو بطور دوا کیسے کام لائیں۔
میں کردی ہے۔اطباو حکماء کے لئے کام کی چیز ہے ضرور مطالعہ کریں۔شائع کردہ ۔سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ
تعارف اور نباتیاتی پس منظر
اروی (Taro Root)، جسے نباتیاتی اصطلاح میں Colocasia esculenta یا Colocasia antiquorum کہا جاتا ہے، پودوں کے خاندان عُشبیہ (Araceae) سے تعلق رکھنے والی ایک کثیر المقاصد اور نشاستہ دار جڑ سبزی ہے۔
عالمی سطح پر اسے مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے؛ مثلاً انگریزی میں اسے Eddoe، عربی میں قلقاش، ہندی میں اروی یا گھیاں، بنگالی میں گڑی، مراٹھی میں آٹھواچاکاندا، گجراتی میں الوی، تامل میں شملے اور تیلگو میں چمب ڈیما کہا جاتا ہے
۔ تاریخی طور پر مشرقی طب اور بالخصوص برصغیر پاک و ہند کے روایتی معالجین کے ہاں اروی کو نہ صرف ایک لذیذ سبزی بلکہ ایک اہم غذائی دوا (Nutraceutical) کی حیثیت حاصل رہی ہے۔
بیسویں صدی میں حکیم دوست محمد صابر ملتانی نے جب طبِ یونانی کے بنیادی قوانین کو جدید تشریح الاعضاء (Anatomy) اور فعلیات (Physiology) کے ہم آہنگ کر کے نظریہ مفرد اعضاء” (Qanoon Mufrad Aza) کی بنیاد رکھی، تو انہوں نے مفرد نباتات کے اثرات کو خلیاتی اور بافتی سطح پر پرکھنے کے لیے نئے اصول وضع کیے۔ ان کے قائم کردہ اس فطری نظامِ علاج میں اروی کے مزاج اور اس کے اعضاءِ رئیسہ پر اثرات کو ایک خاص علمی اور کلینیکل تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
قانون مفرد اعضاء کا نظریاتی فریم ورک اور اروی کا مزاج
قانونِ طب میں مزاج جسمِ انسانی کی وہ بنیادی فزیولوجیکل کیفیت ہے جو عناصرِ اربعہ (خون، بلغم، صفرا، سودا) کے کیمیائی تعاملات اور باہمی توازن سے پیدا ہوتی ہے۔
قانون مفرد اعضاء کے مطابق، انسانی جسم میں تین بنیادی بافتیں یعنی اعصاب (Nervous tissue)، عضلات (Muscular tissue) اور غدد (Glandular tissue) تمام حیاتیاتی افعال کو متحرک کرتی ہیں، جن کی تحریک، تسکین اور تحلیل ہی صحت اور مرض کی بنیاد بنتی ہے۔
کلاسک طبی کتب میں اروی کا عمومی مزاج سرد تر (Cold and Moist) تسلیم کیا گیا ہے۔ تاہم، قانون مفرد اعضاء کے علمی حلقوں اور کلینیکل کتب میں اس کے مزاج اور بافتی تحریک (Tissue stimulation) کے حوالے سے دو اہم لیکن متبادل نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں جن کا گہرا علمی مطالعہ ضروری ہے۔
پہلا نقطہ نظر یہ ہے کہ اروی اپنے کثیر مائع اور لعاب دار مادے کی وجہ سے اعصابی غدی (Nervous-Glandular / Moist-Warm) یا اعصابی عضلاتی (Nervous-Muscular / Cold-Moist) تحریک پیدا کرتی ہے۔
اس تحریک کے تحت یہ جسم میں رطوباتِ صالحہ (بلغم صالح) کی پیداوار کو تیز کرتی ہے، دماغ و اعصاب کو تسکین فراہم کرتی ہے، اور سوداوی و عضلاتی خشکی کو تحلیل کرنے کا باعث بنتی ہے ۔ اسی بنا پر اسے بعض اطباء کی جانب سے مقویِ غدود، مسکنِ اعصاب، اور محللِ عضلات و سوداء مانا گیا ہے۔
دوسرا نقطہ نظر اروی کو اس کے نشاستہ دار اور نفاخ (پیٹ میں گیس پیدا کرنے والے) خواص کی وجہ سے عملی غذائی چارٹس میں عضلاتی اعصابی (Muscular-Nervous / Dry-Cold) یا عضلاتی غدی (Muscular-Glandular / Dry-Warm) گروپ میں شمار کرتا ہے۔
اس مکتبہ فکر کے مطابق اروی، بھنڈی توری، مٹر، بڑا گوشت، اور دال ماش جیسی کثیف اور دیر ہضم غذائیں عضلاتی تحریک کو ابھارتی ہیں اور ان کے کثرتِ استعمال سے جسم میں سوداوی علامات کا ظہور ہو سکتا ہے ۔ اس لیے بلغمی اور سرد تر مزاج کے حامل افراد کو اروی کے بلا اعتدال استعمال سے پرہیز کی تاکید کی جاتی ہے کیونکہ یہ ان میں سستی اور بلغمی رطوبات کی کثرت کا سبب بنتی ہے۔
اروی اور آلو کا تقابلی و غذائی تجزیہ
طبِ مشرق میں اروی کی افادیت کو سمجھنے کے لیے عام طور پر اس کا موازنہ آلو سے کیا جاتا ہے، کیونکہ دونوں زمین کے نیچے پیدا ہونے والی نشاستہ دار جڑیں ہیں لیکن فعلیاتی اثرات میں واضح فرق رکھتی ہیں ۔ اطباء کے مطابق اروی غذائیت کے لحاظ سے آلو کے مقابلے میں ڈیڑھ گنا زیادہ مفید اور قوت بخش ہے۔
درج ذیل جدول میں اروی اور آلو کے درمیان کلاسک مزاج، قانون مفرد اعضاء کی تحریکات اور غذائی اجزاء کا ایک جامع موازنہ پیش کیا گیا ہے:
طبی و غذائی پیرامیٹرز اروی (Colocasia esculenta) آلو (Solanum tuberosum) طبی و فعلیاتی اثرات
کلاسک مزاج سرد تر (رطوبت بخش) 8 سرد خشک (سودا ساز) 8 اروی رطوبت بڑھاتی ہے جبکہ آلو خشکی اور تیزابیت پیدا کرتا ہے 8
قانون مفرد اعضاء تحریک اعصابی غدی / عضلاتی اعصابی 9 عضلاتی اعصابی (سوداوی) 8 اروی اعصاب کو تسکین دیتی ہے جبکہ آلو عضلات میں کھچاؤ پیدا کر سکتا ہے 8
غذائی صلاحیت آلو سے 1.5 گنا زیادہ مقوی 8 اوسط مقوی اور کثیف 8 اروی جسم کو تیزی سے فربہ اور طاقتور بناتی ہے 3
نشاستہ دار ترکیب ہلکی میٹھی، لیس دار رطوبت 2 کثیف نشاستہ، گیس پیدا کرنے والا 8 اروی کا لیس دار مادہ پھیپھڑوں اور مثانے کے لیے حفاظتی جھلی بنتا ہے 3
اہم معدنیات و وٹامنز فائبر، پوٹاشیم، میگنیشیم، وٹامن C، E 2 نشاستہ، پوٹاشیم، سوڈیم 8 اروی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو کم کرنے میں دل کی محافظ ہے 2
خارجی اثرات پیشانی پر رکھنے سے سردرد میں تسکین 3 چھلکے سمیت ابالنا مفید 8 دونوں کا بیرونی استعمال اعصابی سوزشوں کو کم کرتا ہے 3
اروی کے طبی فوائد اور کلینیکل ایپلی کیشنز
اروی کے کلینیکل فوائد انسانی جسم کے متعدد نظاموں پر محیط ہیں۔ امراضِ جگر اور دورانِ خون کی اصلاح کے حوالے سے اروی ایک بہترین انتخاب ثابت ہوتی ہے کیونکہ یہ چربی اور کولیسٹرول سے مکمل پاک سبزی ہے۔ اس میں موجود وٹامن ای اور کثیر فائبر خون میں کولیسٹرول کی سطح کو نیچے لاتے ہیں، شریانوں کی لچک بحال کرتے ہیں اور جگر کے افعال کو اعتدال پر لا کر ہائی بلڈ پریشر کو معمول پر لاتے ہیں۔ اسی طرح، پیشاب کے نظام کی سوزش اور مثانے کی گرمی کو دور کرنے کے لیے اروی کا استعمال اکسیر کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ اس کی اعصابی غدی رطوبات گردوں اور مثانے کے زخموں کو مندمل کرتی ہیں اور پیشاب کی جلن کو دور کرتی ہیں۔
پھیپھڑوں کی خشکی اور دائمی کھانسی کے علاج میں بھی اروی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ عضلاتی اعصابی خشکی کے باعث پیدا ہونے والی خشک اور تشنجی کھانسی (Spasmodic cough) کو اروی اپنی رطوبتِ صالحہ کے ذریعے دور کرتی ہے اور پھیپھڑوں کے خلیات کو تر رکھ کر بلغم کو خارج کرنے میں مدد دیتی ہے ۔
مردانہ تولیدی صحت کے امراض اور مائع رطوبات کی اصلاح کے حوالے سے بھی اروی کو مفید مانا گیا ہے، کیونکہ یہ جسم میں صالح رطوبات کی افزائش کر کے اعصابی کمزوری کا خاتمہ کرتی ہے ۔
خونی بواسیر (Bleeding Piles) کے مریضوں میں جب عضلاتی تحریک کی شدت کی وجہ سے خون بہتا ہے، تو اروی اپنے تسکینی اثرات سے خون کی حدت کو ٹھنڈا کرتی ہے اور بواسیر کے مسوں کی سوزش کو دور کر کے خون بہنے کے عمل کو روکتی ہے۔ ؎
مزید برآں، ایسی مائیں جو بچوں کو فیڈ کرواتی ہیں اور ان میں دودھ کی کمی ہو، اروی کی غدی اعصابی اور اعصابی غدی تحریکیں غدودِ جاذبہ کو متحرک کر کے مائع رطوبات کی پیداوار کو تیز کرتی ہیں، جس سے دودھ کی کمی دور ہو جاتی ہے ۔
اروی کے پتے اینٹی آکسیڈینٹس، بیٹا کیروٹین اور وٹامن اے سے بھرپور ہوتے ہیں جو فری ریڈیکلز کا خاتمہ کر کے جلد کی خشکی، جھریوں اور شکنوں کو دور کرتے ہیں اور چہرے پر قدرتی نکھار لاتے ہیں ۔
اروی کے مضرات اور مصلحات کا سائنسی و طبی حل
اروی کے بے شمار فوائد کے باوجود، اس کا کثیر نشاستہ دار اور لیس دار ڈھانچہ کمزور معدے والے اور خصوصاً بلغمی مزاج کے حامل افراد کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے کیونکہ یہ پیٹ میں شدید گیس (ریاح) اور نفاخیت پیدا کرتا ہے ۔
قانون مفرد اعضاء میں علاج بالاستعداد اور علاج بالغذا کے تحت کسی بھی غذا کے مضرات کو دور کرنے کے لیے اس کے ساتھ مخصوص مصلحات (Correctives) کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ اس کے منفی اثرات اعضاءِ رئیسہ پر اثر انداز نہ ہوں۔
اروی کی لیس (Sliminess) کو دور کرنے اور اس کے نفاخ اثرات کو ختم کرنے کے لیے ایک مخصوص سائنسی اور روایتی طریقہ کار اپنایا جاتا ہے۔ جب اروی کو کڑاہی میں گھی ڈال کر پندرہ سے سترہ منٹ تک چمچ ہلاتے ہوئے ہلکی آنچ پر فرائی کیا جاتا ہے، تو اس کا رنگ تبدیل ہونے لگتا ہے اور اس کی لیس مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے
۔ اس کے بعد ادرک، لہسن اور پیاز پر مشتمل تڑکا تیار کیا جاتا ہے، جس میں گرم مسالہ جات شامل کیے جاتے ہیں تاکہ اس کا سرد بادی پن دور ہو جائے۔
درج ذیل جدول میں اروی کو پکانے کے لیے استعمال ہونے والے مصلح اجزاء، ان کے کیمیائی خواص اور قانون مفرد اعضاء کے تحت ان کے اثرات کی تفصیل دی گئی ہے:
مصلح اجزاء (Corrective Ingredients) فعال کیمیائی خصوصیات فعلیاتی و طبی اثرات (QMA Action)
ادرک / سنڈھ (Ginger) 13 جنجرول (Gingerols)، مقویِ غدود 14 عضلاتی سوزش کو دور کرتی ہے، ہضم کو تیز کرتی ہے اور گیس کا خاتمہ کرتی ہے 14
لہسن اور پیاز (Garlic & Onion) 11 ایلیسن (Allicin)، گرم خشک تحریک کثیف رطوبات کو رقیق کرتے ہیں اور ریاحِ شکم کو خارج کرتے ہیں 11
دارچینی اور زیرہ (Cinnamon & Cumin) 11 گرم مسالہ اجزاء، عضلاتی غدی محرک اروی کے ٹھنڈے لیس دار مادوں کو جذب کر کے اعتدال پر لاتے ہیں 3
ٹماٹر اور ہری مرچ (Tomato & Green Chili) 13 وٹامن سی، ہضم کو تیز کرنے والے تیزاب لعاب کی کثافت کو کم کر کے کھانے کو ہلکا اور زود ہضم بناتے ہیں 8
دیسی گھی میں تلنا (Frying in Ghee) 13 چکنائی کی حرارت، لیس کا خاتمہ اروی کے رطوبتی لیس دار مالیکیولز کو توڑ کر اسے ہضم کے قابل بناتا ہے 13
حتمی طبی تجزیہ اور سفارشات
انسانی صحت کا بنیادی دارومدار عناصر کی ترتیب اور ان کے باہمی اعتدال پر منحصر ہے قانون مفرد اعضاء کے تحت اروی کا کلینکل مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ محض ایک نشاستہ دار جڑ نہیں بلکہ سوداوی اور عضلاتی خشکی سے پیدا ہونے والے امراض کے لیے قدرت کا ایک بہترین تازیانہ ہے۔ یہ اپنے مائع اور لعاب دار مزاج کی بدولت جسم میں رطوباتِ صالحہ کا اضافہ کرتی ہے اور پھیپھڑوں، دل، گردوں، اور مثانے کی جھلیوں کو سوزش سے محفوظ رکھتی ہے۔
اگرچہ بلغمی مزاج کے سست طبیعت افراد کے لیے یہ گیس پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہے، لیکن ادرک، لہسن اور گرم مسالہ جات جیسے گرم مصلحات کے ساتھ دیسی گھی میں فرائی کر کے پکانے سے اس کی تمام نفاخیت تحلیل ہو جاتی ہے اور اس کے فوائد دوگنا ہو جاتے ہیں
۔ طبی معالجین کو چاہیے کہ وہ عضلاتی اعصابی امراض، دائمی خشک کھانسی، ہائی بلڈ پریشر اور خونی بواسیر کے مریضوں کو علاج بالغذا کے طور پر اروی کا باقاعدہ استعمال تجویز کریں تاکہ دواؤں کے مضر اثرات کے بغیر ہی مریض کے اعضاء اپنے قدرتی توازن پر لوٹ سکیں۔


