پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

الملل والنحل،یعنی۔قوموں کا عروج و زوال

الملل والنحل،یعنی۔قوموں کا عروج و زوال
ابو محمدعلی بن احمد بن نام الاندلسی
مترجم، مولانا عبد الله عمادی

الملل والنحل،یعنی۔قوموں کا عروج و زوال
ابو محمدعلی بن احمد بن نام الاندلسی
مترجم، مولانا عبد الله عمادی
عرض ناشر
امام این حزم ظاہری کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں آپ عالم اسلام کی ایک نابغہ شخصیت ہیں، مختلف علوم و فنون پر آپ کی انتہائی معتبر اور وقیع کتب ارباب علم و تحقیق سے پذیرائی حاصل کر چکی ہیں۔ ابتداء ابن حزم شافعی مذہب کے پر جوش پیرو کار اور حمایتی تھے لیکن ازاں بعد ظاہری فرقے سے وابستگی پیدا کر لی اور دل و جان سے اس کی طرف داری کرنے لگے۔ ابن حزم نے اپنے افکار کی ترویج و اشاعت کے لیے تصنیف و تالیف کا میدان منتخب کیا اور بہت سے موضوعات پر بے شمار کتب کا ذخیرہ اپنے پیچھے یادگار چھوڑا ہے۔ آپ کی تصانیف کے مطالعہ سے عیاں ہوتا ہے کہ ابن حزم کی قوت مشاہدہ انتہائی تیز تھی اور وہ ایک ذہین اور صاحب طرز انشاء پرداز تھے۔ انہوں نے اپنی کتب میں اپنے عہد کے لوگوں کے حالات لوگوں کے اخلاق و کردار معاشرتی رویوں اور رنسی کیفیات پر ہوے دل نشیں اور بلیغ پیرائے میں روشنی ڈالی ہے جن میں سے بعض امور کے بارے میں ان کی کتب سے

پیشتر ہماری معلومات کافی
حد تک محدود تھیں۔
امام ابن حزم نے اپنی تحریروں میں ظاہری اصولوں کو دینی عقائد پر منطبق کرنے میں ایک نئی راہ اختیار کی آپ نے مکتوبہ الفاظ اور مسلمہ روایت کے ابتدائی مفہوم ہی کو قول فیصل قرار دیا ہے اور اسی نقطہ نظر کے ماتحت انہوں نے اپنی سب سے زیادہ معروف و مشہور تصنيف كِتَابُ الْفَصْلِ فِي الْمِلَلُ وَالْأَهْوَاءِ وَالنحل لکھی۔ اپنی اس یگانہ روزگار تالیف میں ابن حزم نے اسلام کے مذہبی فرقوں پر بڑی تند و تیز اور تلخ تنقید کی ہے بالخصوص اشعری علماء کرام کے ان خیالات کے بارے میں خاصی شدت برتی ہے جو انہوں نے صفات الہیہ کے ضمن میں ظاہر کیے ہیں۔ پھر بھی ابن حزم کو کہیں نہ کہیں اپنی غالب فکر سے ہٹ کر بات کرنا پڑی ہے اور قرآن مجید کی آیات متشابہات اور اس کی دیگر تضمینی عبارتوں کو مجبور کسی نہ کی تعبیر روحانی سے تعلیق دینا پڑی ہے۔ عقائد ایمانی اور فلسفے کے باہمی تعلقات کے بارے میں ابن حزم کے تصورات کا ابھی تک کسی نے جائزہ نہیں لیا تاہم ابن حزم کے اصولوں کا علم اخلاق پر جو اثر پڑا ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔
امام ابن حزم نے دقیقہ رسی سے کام لیتے ہوئے غیر اسلامی عقائد مثلاً عیسائیوں اور یہودیوں کے عقائد پر بھی نقد و تبصرہ کیا ہے اور ان کی تحریروں میں متضاد اور متبائن بیانات تلاش کرنے کی کوشش کی ہے تا کہ ان کے خلاف مقدس متون کی تحریف کے الزام کو وہ حق بجانب ثابت کر سکیں۔
امام ابن حزم ظاہری طبعا مناظرے اور مجادلے کی طرف مائل رہتے تھے بالعموم وہ یہودیوں، عیسائیوں اور مختلف فرقوں کے مسلمانوں کو دعوت مناظرہ دیتے رہتے تھے۔ وہ ایک زبردست حریف تھے اور جو شخص اُن کے مقابلے میں آتا اس طرح اچھل کر ڈور جا گرتا جیسے اس نے کسی پتھر سے ٹکر لی ہو۔ آپ نے بعض ایسے اہل علم پر بھی کڑی تنقید کی ہے جن کی بیشتر مسلمان انتہائی تعظیم وتکریم
کرتے ہیں مثلا امام ابوالحسن اشعری امام ابوحنیفہ اور امام مالک جیسی واجب الکریم شخصیات ۔ ایک مشہور ضرب المثل کے مطابق ابن حزم کا علم ایساہی تند و تیز تھا جسے حجاج کی تلوار بایں ہمہ ان کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی تھی کہ اپنے مخالفین سے انصاف کریں اور ان کے خلاف عدادہ یا ارادہ بے بنیاد الزام لگا نا اُن کی فطرت میں شامل نہ تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ ابن حزم کا جذبہ اطاعت رسول اس قدر شدت اختیار کیے ہوئے تھا کہ وہ حدیث نبوی کے مقابلے میں کسی کے قول کو بھی خاطر میں نہ لاتے تھے۔ وہ اپنی راستی فکر کے اثبات میں کتاب وسنت کے براہین اور دلائل بڑی کثرت سے پیش کرتے ہیں۔ ان کی تحریروں سے یہ امر واضح طور پر سامنے آتا ہے کہ جو شخص بھی قول پیغمبر سے سرمو انحراف کرتا ہے آپ اس کا قطعا لحاظ نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک کسی بڑے سے بڑے شخص کا قول صرف اسی وقت سند کا درجہ رکھتا ہے جب وہ کتاب وسنت سے متصادم نہ ہو۔ اور اگر کسی کے قول کی تائید قرآن و سنت سے نہ ہوتی ہوتو وہ قطعی طور پر بے وزن ہے خواہ اس کا قائل کوئی بھی کیوں نہ ہو۔
جدید مفکرین جو اپنے آپ کو بڑا دانشور سجھتے ہیں اور قرآنی فکر کے علمبردار ہونے کے مدعی میں نہ صرف یہی بلکہ اپنے علم عمل کی اس تنگ دامانی کے باوجود محد ثین عظام پر نقد و نظر کرتے ہیں، شدید ضرورت ہے کہ ابن حزم ایسے راست فکر علم کے فرمودات و ارشادات کی اشاعت کر کے حدیث رسول کی اہمیت وضرورت سے جدید تعلیم یافہ طبقے کو روشناس کرایا جائے ۔ اس وقت انکار حدیث وسنت کے پر منی لٹریچر کے استعمال کے لیے اس سے زیادہ موثر اور کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ ایسے حق پرست علمائے ربانی کی تصانیف منظر عام پر لائی جائیں تا کہ کج فکری کا حامل یہ قبیح پور اصفحہ ہستی سے نیست ونابود ہو سکے۔
ارباب اور باب علم و تحقیق اور ملت اسلامیہ کی اسی ضرورت کے پیش نظر ہم نے اپنے ادارے سے امام ابن حزم رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب كِتَابُ الْفَصْلِ فِي الْمِلَلْ وَالْأَهْوَاءِ وَالنحل” کا انتخاب کیا ہے۔ کتاب کا ترجمہ ہندوستان کے نامور عالم دین مولانا عبداللہ عمادی نے کیا ہے اور حق تو یہ ہے کہ انہوں نے اتنی مبسوط اور خالص علمی کتاب کا انتہائی سلیس اور دل نشیں ترجمہ کیا ہے۔ یہ کتاب اردو ترجمے کے ساتھ ہندوستان کے معروف علمی ادارے دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدر آباد دکن سے پہلی بار شائع ہوئی تھی۔ اب ہم نے اس کی شاندار کمپیوٹر کمپوزنگ کروائی ہے اور بڑی تقطیع کی ایک ہی جلد میں اسے پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ امید ہے یہ کتاب جو اپنے موضوع پر ایک مختصر دائرۃ المعارف” کی حیثیت رکھتی ہے تشنگان علم کی سیرابی کا باعث بنے گی جبکہ اہل تحقیق کی ضرورتوں کو بھی کما حقہ پورا کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوگی۔ www.KitaboSunnat.com اللہ تعالیٰ کی بارگاہ عالیہ میں دعا ہے کہ وہ اس خالص علمی پیشکش کو ہماری دیگر مطبوعات کی طرح شرف قبولیت سے بہرویاب فرمائے۔
(آمین)

ڈائون لوڈ۔یہاں کلک کریں

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

[saadherbal_newsletter_form]