
دوا کا جسم میں ری ایکشن1.//Drug reaction in the body1
ایلوپیتھی اور دیسی طریقہ علاج کا فرقآپ نے ایک بہت اہم نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ایلوپیتھی میں ری ایکشن زیادہ کیوں محسوس ہوتے ہیں:| پہلو | ایلو پیتھک طریقہ علاج | دیسی/یونانی طریقہ علاج || | بنیاد | علامات کو دبانا (Symptomatic) | مزاج کی اصلاح (Constitutional) || پرہیز (غذا) | عام طور پر کوئی خاص قید نہیں ہوتی۔ | غذا کو ‘دوا’ کے برابر اہمیت دی جاتی ہے۔ || ردِ عمل |
کیمیائی اجزاء کا فوری اثر اور سائیڈ ایفیکٹ۔ | اگر مزاج کے مطابق ہو تو شفاء، ورنہ سست ردِ عمل۔ | تین تحریکیں اور ری ایکشن

کا نظامجیسا کہ آپ نے ذکر کیا، ری ایکشن کا تعلق تینوں تحریکوں (اعصابی، عضلاتی، غدی) سے ہو سکتا ہے:1. اعصابی (Phlegmatic): اگر رطوبت پہلے ہی زیادہ ہے اور مزید سرد دوا دی جائے تو جسم منجمد ہونے لگتا ہے (ٹھنڈے پسینے آنا)۔2. عضلاتی (Dry/Acidic): اگر خشکی کے مریض کو خشک دوا دی جائے تو قبض، بے چینی اور دل کی دھڑکن بڑھ سکتی ہے۔3. غدی (Bilious/Hot): اگر گرمی کے مریض کو گرم دوا دی جائے تو بلڈ پریشر کا بڑھنا یا جلد پر خارش جیسے ردِ عمل سامنے آتے ہیں۔> نکتہ: دیسی علاج میں “پرہیز” دراصل دوا کے اثر کو جسم کے مزاج کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا نام ہے تاکہ دوا بوجھ نہ بنے۔–

