
مقدمه
ہر علم وفن کیلئے استاد کی ضرورت ہے دنیا میں جس قدر علوم و فنون پائے جاتے ہیں ان کے سیکھنے کیلئے ہم استاد کے محتاج ہیں علم وفن کی سینکڑوں کتا بیں ہیں اور علم تصوف اور روحانیت پر جو کتا بیں مرتب ہوئی ہیں ان کا بھی بڑا ذخیرہ ہمارے یہاں موجود ہے خصوصاً حضرت شیخ عبد القادر جیلانی و حضرت امام غزائی و حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی اور حضرت مولانا اشرف علی تھانوی جیسے عظیم المرتبت بزرگوں نے اس موضوع پر کتا بیں لکھ کر در حقیقت امت مسلمہ کی رشد و ہدایت اور فلاح کا کافی معتبر مواد جمع کر دیا ہے مگر اصلاح نفس کیلئے پیر ومرشد کی ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا بہر حال کتابوں کے مطالعہ میں عام طور پر کوئی عالم نہیں بن جاتا عالم فاضل بننے کیلئے ہمیں لازما کسی درسگاہ میں پہنچ کر استاد کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑتے ہیں۔ عملیات کے سلسلے میں بھی ہمارے نیک با عمل اسلاف نے عظیم الشان خدمات انجام دی ہیں اور اس موضوع پر بھی کافی ذخیرہ موجود ہے مگر ان سے استفادہ کیلئے بھی اچھے استاد کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ بطور خود کوئی وظیفہ پڑھنا اور بغیر اجازت چلہ کشی کرنا ویسے بھی خطرہ سے خالی نہیں ہے قدیم زمانہ سے ہمارے بزرگوں کا یہ طریقہ رہا ہے جب طالب علم نے کسی فن کی کتابیں اول تا آخر پڑھ لیں اور دوسروں کو تعلیم دینے کا جذبہ رکھتا ہے تو اسے اپنے شیخ سے باقاعدہ اجازت حاصل کرنی پڑتی ہے اسی طرح کسی سے روحانی سلسلہ میں بیعت ہونے کے بعد آگے دوسرے لوگوں کی رہنمائی کیلئے مرشد سے اجازت لینی پڑتی ہے اگر مرشد اسے اجازت دے دے تو وہ مجاز اور خلیفہ کہلاتا ہے۔
عملیات کا فن جس کا خانقاہی زندگی سے ایک خاص ربط تھا استاد اور مرشد کی اجازت کے بغیر کوئی ایک قدم بھی نہیں اٹھاتا تھا لیکن افسوس اب نئی نسل کے عاملین کو ان تکلفات کی ضرورت نہیں رہی آج ہر شخص بے لگام ہے اسے کسی استاد کی ضرورت نہیں وہ خود اپنا استاد ہے جس کا دل چاہتا ہے خود ساختہ عامل بن بیٹھتا ہے نہ اسے کسی استاد کے پاس جا کر سیکھنے کی حاجت رہی


