
مرقدِ انوار حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ – حیات، افکار اور عہد
کا ایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ
تمہید: لوحِ مزار کی شہادت اور تاریخی سیاق و سباق
زیرِ نظر تصویر محض ایک کتبہ نہیں، بلکہ اٹھارویں صدی عیسوی کے ہندوستان کی مذہبی، سیاسی اور سماجی تاریخ کا ایک اہم ترین باب ہے۔ یہ لوحِ مزار اس عظیم عبقری شخصیت کی ہے جسے تاریخ “حجۃ الاسلام حضرت مولانا امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی” کے نام سے یاد کرتی ہے۔ تصویر میں موجود عبارات کا ایک ایک لفظ اپنے اندر تاریخی حقائق کا ایک جہاں آباد کیے ہوئے ہے۔ اس تحقیقی رپورٹ کا مقصد ان عبارات کی روشنی میں شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی حیات، ان کے علمی و سیاسی کارناموں، اور ان کے عہد کے پرآشوب حالات کا ایک مفصل اور جامع جائزہ پیش کرنا ہے۔ ہم نہ صرف اس کتبے پر کندہ تاریخوں (۱۱۱۴ھ تا ۱۱۷۶ھ) کے درمیان پیش آنے والے واقعات کا تجزیہ کریں گے بلکہ “بزمانہ شاہ عالم ثانی” جیسے تاریخی اشاروں کی مدد سے اس دور کے سیاسی منظرنامے کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں گے جس نے شاہ ولی اللہ جیسی شخصیت کو جنم دیا۔
اس کتبے پر درج تفصیلات کے مطابق، شاہ ولی اللہ دہلوی کا نسب، ولادت، وفات، اور ان کے والد کا نام ایک مستند تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے اس حصے میں ہم ان تمام پہلوؤں کا احاطہ کریں گے جن کی طرف یہ تصویر اشارہ کرتی ہے، اور مستند تاریخی کتب، سوانح اور تحقیقی مقالہ جات کی روشنی میں ان حقائق کی تفصیلات بیان کریں گے۔
باب اول: “ابن حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم” – خاندانی پس منظر اور علمی ورثہ
کتبے پر نمایاں طور پر کندہ ہے: “ابن حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم محدث دہلوی”۔ یہ سطر شاہ ولی اللہ کے علمی اور روحانی نسب کی نشاندہی کرتی ہے۔ شاہ ولی اللہ کی شخصیت کی تعمیر میں ان کے عظیم والد کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے

۔
خاندانِ علم و عمل
شاہ ولی اللہ کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جو علم و فضل، تقویٰ اور شجاعت کا حسین امتزاج تھا۔ آپ کا نسب والد کی طرف سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے، اسی لیے آپ کو “فاروقی” کہا جاتا ہے 1۔ تاریخی حوالہ جات بتاتے ہیں کہ آپ کے جدِ امجد شیخ شمس الدین، ہجرتِ مدینہ کے تقریباً تین سو سال بعد ہندوستان تشریف لائے اور یہاں سکونت اختیار کی 1۔ یہ خاندان صدیوں سے علم و ہدایت کا مرکز رہا۔ آپ کے دادا، شیخ وجیہ الدین، مغل شہنشاہ شاہجہاں کی فوج میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز تھے 1۔ ان کی شخصیت میں سپاہیانہ جلال اور صوفیانہ جمال دونوں یکجا تھے، اور یہی امتزاج ہمیں بعد میں شاہ ولی اللہ کی سیاسی اور جہادی جدوجہد میں بھی نظر آتا ہے۔
شاہ عبدالرحیم: مدرسہ رحیمیہ کے بانی

شاہ ولی اللہ کے والد، شاہ عبدالرحیم (۱۰۵۴ھ – ۱۱۳۱ھ / ۱۶۴۴ء – ۱۷۱۹ء)، اپنے دور کے جلیل القدر عالم، صوفی اور فقیہ تھے 4۔ ان کا شمار ان منتخب علماء میں ہوتا ہے جنہوں نے مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے حکم پر اسلامی قانون کا مشہور اور ضخیم مجموعہ “فتاویٰ عالمگیری” مرتب کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا 1۔ تاہم، یہ ایک دلچسپ تاریخی حقیقت ہے کہ شاہ عبدالرحیم نے درباری سیاست اور شاہی مراعات سے ہمیشہ فاصلہ رکھا۔ انہوں نے دنیاوی جاہ و حشم کو ٹھکرا کر دہلی میں ایک دینی درسگاہ “مدرسہ رحیمیہ” کی بنیاد رکھی 1۔
یہ مدرسہ صرف ایک عمارت نہیں تھی بلکہ ایک فکری تحریک کا ہیڈکوارٹر تھا، جس نے بعد میں برصغیر میں اسلامی علوم کی نشاۃ ثانیہ میں مرکزی کردار ادا کیا۔ شاہ ولی اللہ کی ابتدائی تربیت اسی علمی ماحول میں ہوئی۔ مدرسہ رحیمیہ کا نصاب اور تدریسی طریقہ کار اس دور کے روایتی جمود سے ہٹ کر تھا، جس میں عقلی اور نقلی علوم کا امتزاج پایا جاتا تھا۔ شاہ عبدالرحیم نے اپنے بیٹے کی تربیت میں خصوصی دلچسپی لی اور انہیں نہ صرف ظاہری علوم سکھائے بلکہ روحانی طور پر سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت کرکے باطنی علوم سے بھی آراستہ کیا 4۔ والد کا یہ سایہ شاہ ولی اللہ کے سر پر ۱۷۱۹ء تک رہا، جب ۱۱۳۱ھ میں شاہ عبدالرحیم کا انتقال ہوا اور نوعمر قطب الدین (شاہ ولی اللہ) نے مدرسہ رحیمیہ کی مسندِ تدریس سنبھالی 4۔
باب دوم: “تاریخ پیدائش ۴ شوال ۱۱۱۴ھ” – ایک عہد ساز کا ظہور
لوحِ مزار پر درج تاریخِ پیدائش “۴ شوال المکرم ۱۱۱۴ھ” (بمطابق ۲۱ فروری ۱۷۰۳ء) ہمیں اس دور میں لے جاتی ہے جب ہندوستان ایک بڑے تغیر کے دہانے پر کھڑا تھا۔
اورنگزیب کا آخری دور اور مغل سلطنت کا منظرنامہ
۱۷۰۳ء کا سال مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کی حکومت کے آخری سالوں میں سے تھا۔ اورنگزیب، جو ۱۷۰۷ء میں وفات پا گئے، اس وقت دکن کی مہمات میں مصروف تھے 2۔ بظاہر مغل سلطنت اپنی وسعت کی انتہا پر تھی، لیکن اندرونی طور پر انتظامی ڈھانچہ کمزور ہو رہا تھا۔ شاہ ولی اللہ کی آنکھ ایک ایسے ماحول میں کھلی جب ہندوستان اپنی سیاسی وحدت کھو رہا تھا۔
شاہ ولی اللہ کا اصل نام قطب الدین احمد تھا، لیکن ان کی خداداد صلاحیتوں، زہد اور تقویٰ کی بنا پر انہیں “ولی اللہ” (اللہ کا دوست) کا لقب دیا گیا، اور تاریخ نے انہیں اسی نام سے امر کر دیا 4۔ آپ کی پیدائش دہلی کے قریب قصبہ “پھلت” (ضلع مظفر نگر) میں اپنے نانہال میں طلوعِ آفتاب کے وقت ہوئی 3۔ تاریخی روایات کے مطابق، آپ کی پیدائش کی بشارت مشہور صوفی بزرگ خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ کے روحانی اشارے سے منسوب کی جاتی ہے، اسی لیے آپ کا نام قطب الدین رکھا گیا 11۔
ابتدائی تعلیم اور غیر معمولی ذہانت
شاہ ولی اللہ بچپن ہی سے غیر معمولی ذہانت اور حافظے کے مالک تھے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ آپ نے محض سات سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا تھا 1۔ پندرہ سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے آپ نے اس دور کے تمام مروجہ علوم—جن میں عربی، فارسی، فقہ، حدیث، منطق، فلسفہ، اور علم الکلام شامل تھے—میں مہارت تامہ حاصل کر لی تھی 2۔ یہ وہ عمر ہے جب عام طلباء ابتدائی کتب پڑھ رہے ہوتے ہیں، لیکن شاہ ولی اللہ اس عمر میں درس و تدریس کے لائق ہو چکے تھے۔ اسی پندرہ سال کی عمر میں آپ کے والد نے آپ کو سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت کیا اور تصوف کے اسرار و رموز سکھانا شروع کیے 1۔ یہ ابتدائی تیاری اس عظیم مشن کا پیش خیمہ تھی جو قدرت نے آپ کے سپرد کرنا تھا۔
باب سوم: “محدث دہلوی” اور سفرِ حجاز – فکری انقلاب کا آغاز
کتبے پر آپ کے نام کے ساتھ “محدث دہلوی” کا لاحقہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ آپ کی بنیادی شناخت علمِ حدیث کی خدمت ہے۔ اگرچہ آپ نے تمام اسلامی علوم میں گراں قدر اضافہ کیا، لیکن علمِ حدیث کو ہندوستان میں عام کرنے اور اس کی تدریس کو مرکزی حیثیت دلانے میں آپ کا کردار مجددانہ ہے۔
مدرسہ رحیمیہ کی مسند نشینی
۱۷۱۹ء میں والد کے انتقال کے بعد، جب شاہ ولی اللہ کی عمر صرف ۱۷ برس تھی، آپ نے مدرسہ رحیمیہ کی مسندِ تدریس سنبھالی 4۔ تقریباً ۱۲ سال تک آپ نے یہاں روایتی انداز میں درس و تدریس کا فریضہ انجام دیا۔ اس دوران آپ نے محسوس کیا کہ مسلمانوں کے زوال کا ایک بڑا سبب قرآن و سنت کے اصل سرچشموں سے دوری اور فقہی جمود ہے۔ آپ نے اس دور کے نصاب اور نظامِ تعلیم میں موجود نقائص کا بھی گہرا مشاہدہ کیا 2۔
سفرِ حرمین شریفین (۱۱۴۳ھ – ۱۱۴۵ھ)
اپنی علمی تشنگی بجھانے اور حج کی سعادت حاصل کرنے کے لیے، شاہ ولی اللہ نے ۱۱۴۳ھ (۱۷۳۰ء-۱۷۳۱ء) میں حجاز مقدس کا سفر اختیار کیا 2۔ یہ سفر آپ کی زندگی کا سب سے اہم موڑ ثابت ہوا۔ آپ نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں تقریباً ۱۴ ماہ قیام کیا 1۔
اس قیام کے دوران آپ نے اس وقت کے عالمِ اسلام کے نامور محدثین سے استفادہ کیا، جن میں سب سے نمایاں نام شیخ ابو طاہر محمد بن ابراہیم الکردی المدنی کا ہے 1۔ شیخ ابو طاہر نہ صرف ایک بلند پایہ محدث تھے بلکہ وہ ایک وسیع النظر اور آزاد خیال شخصیت کے مالک تھے۔ شاہ ولی اللہ نے ان سے “صحاح ستہ” اور دیگر کتبِ حدیث کی سند حاصل کی۔ شیخ ابو طاہر کی صحبت نے شاہ ولی اللہ کے فکر میں وسعت پیدا کی اور انہیں تنگ نظر فقہی گروہ بندیوں سے اوپر اٹھ کر “حدیث” کو دین کی بنیاد کے طور پر دیکھنے کا شعور بخشا۔
روحانی مکاشفات اور فیوض الحرمین
حرمین شریفین کے اس قیام کے دوران شاہ ولی اللہ کو متعدد روحانی تجربات اور مکاشفات (Visions) ہوئے، جن کا ذکر انہوں نے اپنی کتاب “فیوض الحرمین” میں کیا ہے 1۔ ان میں سے ایک مشہور مکاشفہ یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں قلم عطا فرمایا، جو اس بات کا اشارہ تھا کہ انہیں علومِ نبوی کا وارث بنایا گیا ہے 1۔ ان مشاہدات نے ان کے اندر یہ یقین پختہ کر دیا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں برصغیر کے مسلمانوں کی اصلاح اور دین کی تجدید کے لیے منتخب کیا ہے (“فک کل نظام” یعنی فرسودہ نظام کو توڑ کر نیا نظام لانے کا مشن)۔ ۱۱۴۵ھ (۱۷۳۲ء) میں آپ ایک نئے عزم، ایک مجددانہ بصیرت اور ایک عالمی وژن کے ساتھ دہلی واپس لوٹے 2۔
باب چہارم: “حجۃ الاسلام” – علمی کارنامے اور “تطبیق” کا فلسفہ
کتبے پر لکھا گیا لقب “حجۃ الاسلام” (اسلام کی دلیل) شاہ ولی اللہ کے علمی مقام کا تعین کرتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں یہ لقب سب سے پہلے امام غزالیؒ کے لیے استعمال ہوا تھا، اور شاہ ولی اللہ کو بجا طور پر “ہندوستان کا غزالی” کہا جا سکتا ہے 10۔ جس طرح امام غزالی نے یونانی فلسفے کے حملے کے وقت اسلام کے دفاع کے لیے عقلی دلائل کا انبار لگایا، اسی طرح شاہ ولی اللہ نے اٹھارویں صدی کے فکری انتشار کے دور میں اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات کے طور پر پیش کیا۔
حجۃ اللہ البالغہ: اسلام کا فلسفہ حیات
شاہ ولی اللہ کا سب سے عظیم علمی کارنامہ ان کی کتاب “حجۃ اللہ البالغہ” ہے۔ یہ کتاب محض فقہی مسائل کا مجموعہ نہیں، بلکہ “اسرارِ دین” (Philosophy of Religion) پر ایک بے مثال دستاویز ہے۔ اس میں شاہ ولی اللہ نے اسلام کے عقائد، عبادات، اور معاملات کی عقلی اور منطقی توجیہات بیان کی ہیں 2۔

آپ نے اس کتاب میں “ارتفاقات” (Stages of Socio-Economic Development) کا نظریہ پیش کیا، جس میں انسانی معاشرے کے ارتقاء کو چار مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ نظریہ جدید عمرانیات (Sociology) کے اصولوں سے حیرت انگیز مطابقت رکھتا ہے۔ آپ نے ثابت کیا کہ اسلام کے احکامات فطرتِ انسانی کے عین مطابق ہیں اور ایک متوازن معاشرے کے قیام کے لیے ناگزیر ہیں۔
قرآن فہمی کی تحریک اور فارسی ترجمہ
شاہ ولی اللہ کے عہد میں قرآن مجید کو صرف تبرک کی کتاب سمجھا جاتا تھا اور اس کا فہم صرف عربی دان طبقے تک محدود تھا۔ عوام تو کجا، خواص بھی قرآن کے براہ راست مطالعے سے کتراتے تھے۔ شاہ ولی اللہ نے اس جمود کو توڑنے کے لیے قرآن مجید کا سلیس فارسی ترجمہ “فتح الرحمٰن” کیا 3۔
فارسی اس وقت ہندوستان کی دفتری اور ثقافتی زبان تھی۔ اس ترجمے کا مقصد یہ تھا کہ ہر پڑھا لکھا شخص قرآن کو براہ راست سمجھ سکے۔ اس انقلابی قدم پر اس وقت کے رجعت پسند علماء نے ان کی شدید مخالفت کی، ان پر فتوے لگائے اور یہاں تک کہ ان کی جان کے درپے ہو گئے 8۔ لیکن شاہ ولی اللہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے، اور ان کے اس اقدام نے برصغیر میں “قرآن فہمی” کی ایک ایسی تحریک کا آغاز کیا جس کے اثرات آج تک جاری ہیں (بعد میں ان کے بیٹوں نے اردو تراجم کرکے اس مشن کو مکمل کیا)۔
تطبیق (Reconciliation) اور فقہی اعتدال
شاہ ولی اللہ کے دور میں فقہی مسالک (خصوصاً حنفی اور شافعی) اور نظریاتی گروہوں (وحدت الوجود اور وحدت الشہود) کے درمیان شدید اختلافات تھے۔ شاہ ولی اللہ نے انتہا پسندی کے بجائے “تطبیق” (Reconciliation) کا راستہ اختیار کیا۔
- فقہی تطبیق: آپ نے فقہ کے چاروں مذاہب کو برحق قرار دیا اور کہا کہ ان سب کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے۔ آپ نے اندھی تقلید (Blind Taqlid) کی مخالفت کی اور اجتہاد کی اہمیت پر زور دیا 4۔ ان کی کتب “المسویٰ” اور “المصفیٰ” (موطا امام مالک کی شروحات) اسی فکر کی عکاس ہیں 4۔
- تصوف کی اصلاح: آپ نے صوفیاء کے نظریات “وحدت الوجود” اور “وحدت الشہود” کو محض تعبیر کا اختلاف قرار دے کر ان میں ہم آہنگی پیدا کی۔ آپ کا کہنا تھا کہ تصوف شریعت سے الگ کوئی چیز نہیں بلکہ شریعت کی روح کا نام ہے 19۔
باب پنجم: “بزمانہ شاہ عالم ثانی” – سیاسی انتشار اور احیائے اسلام کی جدوجہد
لوحِ مزار پر ایک مختصر جملہ درج ہے: “(بزمانہ شاہ عالم ثانی)”۔ یہ جملہ اس دور کے سیاسی پس منظر کی کنجی ہے۔ شاہ عالم ثانی (عہدِ حکومت: ۱۷۵۹ء – ۱۸۰۶ء) مغل تاریخ کا ایک بدقسمت حکمران تھا جس کے دور میں مغل سلطنت سمٹ کر صرف دہلی کے نواح تک محدود ہو گئی تھی۔
سیاسی انحطاط کا منظرنامہ
شاہ ولی اللہ جب حجاز سے واپس آئے تو ہندوستان کا نقشہ بدل رہا تھا۔
- مرہٹوں کی یلغار: دکن سے اٹھنے والی مرہٹہ طاقت شمالی ہند کو روندتی ہوئی پنجاب تک پہنچ چکی تھی۔ ان کا خواب تھا کہ وہ دہلی کے تخت پر قبضہ کر کے پورے ہندوستان پر ہندو راج قائم کریں 7۔
- جاٹ اور سکھ شورشیں: دہلی کے مغرب میں جاٹوں نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا تھا، جبکہ پنجاب میں سکھوں کی طاقت مغلوں کے لیے وبالِ جان بنی ہوئی تھی 1۔
- انتظامی ڈھانچے کی تباہی: مغل امراء عیش و عشرت میں ڈوبے ہوئے تھے، خزانہ خالی تھا، اور عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہو چکا تھا 8۔ نادر شاہ کے حملے (۱۷۳۹ء) نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی تھی، جس نے دہلی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔

سیاسی مکتوبات اور شاہ ولی اللہ کا کردار
شاہ ولی اللہ نے اس صورتحال کا محض تماشائی بننے کے بجائے عملی سیاست میں مداخلت کا فیصلہ کیا۔ آپ نے محسوس کیا کہ مغل بادشاہ (شاہ عالم ثانی اور ان سے قبل کے حکمران) اس طوفان کو روکنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ آپ نے ملک کے طول و عرض میں موجود امراء اور نوابوں کو خطوط لکھے، جنہیں “سیاسی مکتوبات” کہا جاتا ہے 9۔
ان خطوط میں آپ نے حکمرانوں کو جھنجھوڑا کہ وہ اپنی غفلت چھوڑیں اور عوام کے مسائل حل کریں۔ آپ نے نظام الملک آصف جاہ اور نجیب الدولہ جیسے امراء کو ذاتی طور پر متوجہ کیا۔ جب آپ نے دیکھا کہ مقامی امراء آپس کے اختلافات میں الجھے ہوئے ہیں اور مرہٹوں کے سیلاب کو روکنا ان کے بس کی بات نہیں، تو آپ نے ایک تاریخی اور جرات مندانہ قدم اٹھایا۔
نجیب الدولہ اور احمد شاہ ابدالی: پانی پت کا میدان
شاہ ولی اللہ نے روہیلہ سردار نجیب الدولہ کو تیار کیا کہ وہ مسلمانوں کی بکھری ہوئی طاقت کو مجتمع کریں 25۔ اس کے ساتھ ہی، آپ نے افغانستان کے حکمران احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان پر حملہ کرنے کی دعوت دی 9۔ اپنے تاریخی خط میں آپ نے ابدالی کو لکھا کہ اس وقت ہندوستان کے مسلمان شدید خطرے میں ہیں، اور اگر آپ نے مدد نہ کی تو تاریخ آپ کو معاف نہیں کرے گی۔
شاہ ولی اللہ کی ان انتھک کوششوں کا نتیجہ پانی پت کی تیسری جنگ (۱۷۶۱ء) کی صورت میں نکلا۔ احمد شاہ ابدالی کی افغان فوج اور نجیب الدولہ کی مقامی قیادت کے اتحاد نے مرہٹوں کو عبرتناک شکست دی 4۔ یہ فتح شاہ ولی اللہ کی سیاسی بصیرت کا شاہکار تھی۔ اگرچہ مغل سلطنت اپنے اندرونی تضادات کی وجہ سے مکمل بحال نہ ہو سکی، لیکن اس جنگ نے مرہٹوں کی کمر توڑ دی اور شمالی ہند میں مسلمانوں کے وجود کو مٹنے سے بچا لیا 30۔
باب ششم: “تاریخ وفات ۲۹ محرم ۱۱۷۶ھ” – سفر کا اختتام اور ابدی میراث
کتبے پر درج تاریخ وفات “۲۹ محرم الحرام ۱۱۷۶ھ” (بمطابق ۲۰ اگست ۱۷۶۲ء) شاہ ولی اللہ کے سفرِ حیات کے اختتام کی نشاندہی کرتی ہے۔ پانی پت کی جنگ (جنوری ۱۷۶۱ء) کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد، جب ہندوستان کے سیاسی افق پر قدرے سکون ہو چکا تھا، یہ عظیم مصلح اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔
کتبے پر درج ہے: “بعمر ۶۲ سال رحلت نمود”۔ اگر ہم ۱۱۱۴ھ سے ۱۱۷۶ھ کا حساب لگائیں تو قمری سالوں کے اعتبار سے عمر ۶۲ سال ہی بنتی ہے (جبکہ شمسی سالوں کے اعتبار سے یہ تقریباً ۶۰ سال بنتی ہے) 22۔ کتبے پر دن “ہفتہ” لکھا ہے، جبکہ بعض کتب میں جمعہ کا ذکر ملتا ہے 12۔ اس تضاد کی وجہ رویت ہلال کا اختلاف یا اسلامی تاریخ کا سورج غروب ہونے کے بعد تبدیل ہونا ہو سکتا ہے۔ آپ کا انتقال ظہر کے وقت ہوا اور آپ کو مہدیان کے قبرستان (نزد دہلی گیٹ) میں اپنے والد شاہ عبدالرحیم کے پہلو میں دفن کیا گیا 12۔
اولادِ امجاد: چار ستون
شاہ ولی اللہ اپنے پیچھے نہ صرف کتابوں کا ذخیرہ چھوڑ گئے بلکہ چار ایسے لائق فرزند بھی چھوڑے جنہوں نے ان کے مشن کو چار چاند لگا دیے۔ انہیں تاریخ میں “ولی اللہی عمارت کے چار ستون” کہا جاتا ہے 22:
- شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی: آپ کے سب سے بڑے بیٹے اور حقیقی علمی و سیاسی جانشین۔ انہوں نے انگریزوں کے خلاف ہندوستان کے “دارالحرب” ہونے کا فتویٰ دے کر آزادی کی جدوجہد کی بنیاد رکھی۔
- شاہ رفیع الدین: جنہوں نے قرآن مجید کا پہلا اردو ترجمہ (تحت اللفظ) کیا۔
- شاہ عبدالقادر: جنہوں نے قرآن مجید کا پہلا بامحاورہ اردو ترجمہ “موضح القرآن” لکھا جو اپنی فصاحت میں بے مثال ہے۔
- شاہ عبدالغنی: اگرچہ ان کا کوئی تحریری کارنامہ مشہور نہیں، لیکن یہ وہ کڑی ہیں جن سے دیوبند کی علمی تحریک پھوٹی۔ مولانا قاسم نانوتوی اور مولانا رشید احمد گنگوہی، دونوں شاہ عبدالغنی کے شاگردوں کے شاگرد تھے 35۔
باب ہفتم: ولی اللہی فکر کے اثرات اور جدید دور
کتبے کے نچلے حصے میں درج “فکر شیخ الہند پیج” اور متولی کا نام “علی محمد شیر میوات” اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ شاہ ولی اللہ کا فیض آج بھی جاری ہے۔ “شیخ الہند” سے مراد مولانا محمود حسن دیوبندی ہیں، جو دارالعلوم دیوبند کے پہلے طالب علم اور ریشمی رومال تحریک کے بانی تھے۔ یہ نام اس بات کا ثبوت ہے کہ دیوبند کی پوری تحریک دراصل شاہ ولی اللہ ہی کے لگائے ہوئے پودے کی ایک شاخ ہے 35۔
شاہ ولی اللہ کی فکر نے برصغیر کے مسلمانوں کو تین بڑے تحفے دیے:
- قرآن سے براہ راست تعلق: تراجم کے ذریعے عوام کا قرآن سے رشتہ جوڑا۔
- جہاد کا جذبہ: سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید (پوتے) کی تحریکِ مجاہدین، اور بعد میں ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی، سب کی جڑیں ولی اللہی فلسفے میں پیوست ہیں 2۔
- اعتدال و توازن: فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف ان کا “تطبیق” کا نظریہ آج بھی امت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
خلاصہ و ماحصل
اس کتبے کی عبارت محض چند الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک پوری صدی کی تاریخ کا نچوڑ ہے۔ “مجدد” سے لے کر “محدث” تک، اور “۱۱۱۴ھ” سے “۱۱۷۶ھ” تک، ہر لفظ کے پیچھے ایک عظیم جدوجہد کی داستان پوشیدہ ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے اپنی ۶۲ سالہ زندگی میں وہ کام کر دکھایا جو بڑی بڑی حکومتیں اور ادارے صدیوں میں نہیں کر پاتے۔ انہوں نے گرتی ہوئی مغل دیواروں کو تو شاید نہ بچایا جا سکتا تھا، لیکن انہوں نے اسلام کی عمارت کو ایسے مضبوط ستون فراہم کر دیے کہ آنے والے طوفان (انگریزی سامراج) بھی اسے گرا نہ سکے۔ آج اگر برصغیر میں مساجد آباد ہیں، مدارس قائم ہیں، اور قرآن کی تلاوت گھر گھر ہوتی ہے، تو ان سب کے پیچھے کہیں نہ کہیں اس “امام الہند” کی محنت شامل ہے جو دلی کی خاک میں آسودہ خواب ہے۔
منتخب مآخذ و حوالہ جات:
اس رپورٹ کی تیاری میں درج ذیل بنیادی مآخذ اور تحقیقی مواد سے استفادہ کیا گیا ہے:
- 3: شاہ ولی اللہ کی ولادت، ابتدائی زندگی اور تعلیم کی تفصیلات۔
- 2: حجۃ اللہ البالغہ اور دیگر علمی تصانیف کا تجزیہ۔
- 9: سیاسی خطوط، احمد شاہ ابدالی کو دعوت اور سیاسی بصیرت۔
- 12: وفات، تدفین اور اولاد کی تفصیلات۔
- 1: شاہ عالم ثانی، نجیب الدولہ اور سیاسی پس منظر۔
- 4: فقہی تطبیق اور حجۃ الاسلام کے لقب کی بحث۔


