پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

ادویات کا مزاج۔اور خواص

ادویات کا مزاج۔اور خواص
۔ حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
خواص المفردات ایک وسیع علم اور طب کی بلند ترین شاخ ہے۔اس میں بہت کچھ لکھا گیا۔لکھا جارہا ہے۔لکھا جاتا رہے گا۔
تاریخ میں بڑے بڑے نام موجود ہیں۔

علم الادویہ یا خواص المفردات (Materia Medica) طبِ یونانی کا وہ قدیم اور اہم موضوع ہے جس میں جڑی بوٹیوں، معدنیات اور حیوانی اشیاء کے انفرادی خواص، مزاج اور ان کے انسانی جسم پر اثرات سے بحث کی جاتی ہے۔

تاریخِ طب میں اس موضوع پر قدیم یونانیوں سے لے کر دورِ حاضر کے اطباء تک بہت کام ہوا ہے۔ ذیل میں پرانے اور نئے لکھاریوں اور ان کی مشہور تصانیف کی فہرست دی گئی ہے:
 1. قدیم اور کلاسیکی دور کے ماہرین (اساطینِ طب)  

ان لکھاریوں نے اس علم کی بنیاد رکھی اور ان کی کتابیں آج بھی مرجع (Reference) تسلیم کی جاتی ہیں۔

نامِ مصنفمشہور کتاباہمیت
ڈایوسقوریدس (Dioscorides)کتاب الحشائش (De Materia Medica)اسے علم الادویہ کی پہلی باقاعدہ کتاب مانا جاتا ہے۔
جالینوس (Galen)الادویہ المفردہادویات کے مزاج اور کیفیات پر مفصل بحث کی۔
ابن البيطارالجامع لمفردات الادویہ والاغذیہاندلس کے اس عالم کی کتاب مفردات پر سب سے جامع انسائیکلوپیڈیا ہے۔
ابن سیناالقانون فی الطب (کتاب دوم)القانون کا دوسرا حصہ مکمل طور پر مفردات کے خواص پر مشتمل ہے۔

| ابو ریحان البیرونی | کتاب الصيدنہ فی الطب | ادویات کی پہچان اور ان کے ناموں پر تحقیقی کام۔ |

 2. دورِ متوسط کے اہم لکھاری (برصغیر و ایران)  

برصغیر پاک و ہند میں طبِ یونانی کے عروج کے دوران ان اطباء نے مقامی جڑی بوٹیوں کو بھی شاملِ نصاب کیا۔

حکیم اعظم خان: ان کی کتاب “محیطِ اعظم” مفردات پر لکھی گئی سب سے بڑی اور تفصیلی کتاب مانی جاتی ہے۔
حکیم علوی خان: انہوں نے اپنی تصانیف (مثلاً جامع الجوامع) میں ادویات کے خواص پر گراں قدر اضافہ کیا۔
حکیم نور الدین: ان کی کتاب “مخزن الادویہ” برصغیر کے اطباء میں بہت مقبول رہی۔
حکیم محمد نجم الغنی خان: ان کی مایہ ناز کتاب “خزائن الادویہ” اردو زبان میں مفردات پر سب سے مستند اور جامع ذخیرہ ہے،

جو آج بھی ہر طبیب کی ضرورت ہے۔


 3. جدید دور کے لکھاری (20ویں اور 21ویں صدی)  

جدید دور میں مفردات کو سائنسی تحقیق اور جدید کیمسٹری کے ساتھ ملا کر پیش کیا گیا ہے۔

حکیم کبیر الدین: انہوں نے قدیم کتابوں کے تراجم کیے اور “مخزن المفردات” (تالیفِ جدید) لکھی جو طبیہ کالجز میں درسی کتاب کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔
حکیم غلام جیلانی: ان کی تصانیف “مخزن الحکمت” اور “کتاب المفردات” جڑی بوٹیوں کی شناخت کے حوالے سے بہت اہم ہیں۔
حکیم محمد سعید (ہمدرد): انہوں نے “ہمدرد فارماکوپیا” اور “طبِ نبوی اور جدید سائنس” جیسے عنوانات پر کام کیا اور مفردات کی جدید تحقیق کو عام کیا۔
حکیم سید ظل الرحمن: انہوں نے علم الادویہ پر تاریخی اور تحقیقی کام کیا، ان کی کتاب “کتاب المفردات” جدید طرزِ تحریر کا نمونہ ہے۔
ڈاکٹر ایس آئی قریشی: جدید سائنسی تناظر میں جڑی بوٹیوں کے کیمیائی اجزاء پر ان کا کام اہم ہے۔


یوں تو ہزاروں جڑی بوٹیوں پر بے شمار کتب موجود ہیں اور ان بوٹیوں کی تعداد بھی لاتعداد ہے۔اس جگہ قانون مفرد اعضاء والوں کے فارماکوپیا مین مستعمل جڑی بوٹیوں کی چھ تحریکات پر مبنی فہرست دی جارہی ہے


۔۔۔1
اعصابی عضلاتی (تر سرد) ادویات
اعصابی عضلاتی تمام ادویات فعلی طور پر دماغ و اعصاب میں مشینی تحریک پیدا کر کے جگر و غدود میں تحلیل، قلب و عضلات میں تسکین پیدا کرتی ہیں، کیفیات کے لحاظ سے تر سرد ہیں۔ خلط بلغم پیدا کر کے خارج کرتی ہیں، ذائقہ پھیکا یا کسیلا۔
اعصابی عضلاتی محرکات:

اجوائن خراسانی، اروی، الائچی کلاں، انار میٹھا، بہی، آش جو، بالنگو، گوند کتیرا، پیٹھا، تالمکھانہ، تخم خربوزہ، تخم خیارین، تخم خرفہ، تخم خبازی، تخم کاسنی، تخم کدو، شہتوت سیاہ، تودری سفید، جو، جوکھار، چاول، چقندر، کچی لسی، روغن گل، ساگودانہ، سجی، سدا سہاگن، سنکھاہولی، مہندی پتی، شورہ قلمی، صندل سفید، کافور، کاہو، کدو، کھیرا، گوندنی، فرنجمشک، موصلی سفید و سیاہ، نقره، چینی، بہمن سرخ و سفید، چکوترہ، گل گڑھل، گنا، گوشت بھیڑ، گوشت خرگوش، گوشت
ہرن، لسوڑیاں، مصری، مونگی، ماش، نیلوفر۔

وضاحت:
یہ تحریر طبِ یونانی (نظریہ مفرد اعضا) کے اصولوں کے مطابق ہے، جس میں انسانی جسم کے اعضاء اور ان کے مزاج (سرد، گرم، تر، خشک) کے لحاظ سے ادویات اور غذاؤں کی درجہ بندی کی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2
عضلاتی اعصابی (خشک سرد) ادویات
عضلاتی اعصابی تمام ادویات فعلی طور پر قلب و عضلات میں کیمیائی تحریک پیدا کر کے جگر و غدود میں تسکین اور دماغ و اعصاب میں تحلیل پیدا کرتی ہیں۔ کیفیات کے لحاظ سے خشک سرد ہیں۔ خلط سودا پیدا کر کے جسم میں جمع کرتی ہیں۔ ذائقہ

میں ترش ہوتی ہیں۔
عضلاتی اعصابی محرکات: ابرک سیاہ و سفید، آتیس، اذخر، ارہر، آڑو، اسپغول (حرمل)، افیم، افتی مون، انار ترش، انجبار، باجرہ، بانس، برف، برہم ڈنڈی، بہی، بھنگ، تربد و تلا اور اس کا تیل، زہر مہرہ، ستاور، سن بھری، سرمہ سیاہ، کدو تلخ، پھل مکھانہ، ناریل دریائی، بہمن، چھاچھ، سمندر سوکھ، فالسہ، کشتہ قلعی، کف دریا، آلو، آلوچہ، آم خام، لوہا، الاس، بافتہ، ببول کا درخت، برگد، بلوط، بنفشہ، بوپھلی، بیر، بیل گری، پوست خشخاش، پیپل، پھٹکڑی، تیج، تخم، موہیٹھا، ترنج، تمباکو، توتیا، جامن، جٹ، چائے، چونا، چنا، چوباسنی، چھڑیلہ، خبث الحدید، خس، دم الاخوائین، دھتورہ، رتن جوت، سفیدہ کاشغری، زرشک، زفت، سپاری، سرو، سرو والی سلاجیت، سم الفار، سماق، سنگترہ، کونچ، کچور، سنگجراحت، سنگھڑا، سیب، شکر قندی، طباشیر، عناب، کوڑی، کاکڑا سنگھی، کاج، کاغذ، کا پھل، کتھہ سفید و گلابی، کڑا چھال، کچنال، کرنجوہ، لگرونڈا، گوگل، کلونجی، کمیلہ، کنول گٹہ، گل ارمنی، گل مختوم، گل ملتانی، گل انار، گوبھی، گواہ، گیرو، لوبیا، گڑ مار، ہرفیون، لودھ پٹھانی، لوہا، لیموں، لوکاٹ، مونگ پھلی، مازو، مائیں مچھلی، مکئی، مہندی، موٹھ، نیلم، موچرس، مولسری، تاریخ، ہرن کھری، ہیرا کس یا قوت، صدف، لاکھ ہڑتال، کھودنتی، گوشت بطخ، مٹر، ملتانی مٹی، وسمہ بہیڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔3


عضلاتی غدی (خشک گرم) ادویات
عضلاتی غدی تمام ادویات فعلی طور پر قلب و عضلات میں مشینی تحریک پیدا کرتی ہیں۔ جگر و غدہ میں حرارتِ عزیزی بھیج کر تقویت دیتی ہیں اور دماغ و اعصاب میں تحلیل کر کے ان کی سوزش کو رفع کرتی ہیں۔ کیفیات کے لحاظ سے خشک گرم ہیں۔ مادی طور پر خلط سودا پیدا کر کے خارج بھی کرتی ہیں، ذائقہ میں کڑوی ہوتی ہیں۔
عضلاتی غدی محرکات:
امر بیل، اسطخودوس، افسنتین، مرغی کا انڈا، انت خول، بالچھڑ، کڑوا بادام، بارہ سنگا، بال چھڑ، عشبہ، عود صلیب، کشمیری پٹھا، شاہترہ، گلو، تانبہ، مشک، بینگن، چاکسو، خراطین، سندھور، مرداسنگ، اذراقی، اگر، بیر بہوٹی، پرسیاؤ، پیاز، جائفل، حب القل، جدوار خطائی، دار چینی، زراوند طویل، زوفا، سریش، سمندر پھل، گوشت کبوتر، سنگدانِ مرغ، کبوتر کرملہ، مالکنکنی، مروارید، مین پھل، نک چھکنی، نیم، مرداسنگ، جند بدستر، ہینگ، رسونت، زنگار تانبہ، شنگرف، مرچ سرخ، گھونچی، مرمکی، بکائن، سرنجاں تلخ، لہسن۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔4
غدی عضلاتی (گرم خشک) ادویاتغدی عضلاتی تمام ادویات فعلی طور پر جگر و غدد میں کیمیائی تحریک پیدا کر کے قلب اور دماغ و اعصاب میں تسکین پیدا کرتی ہیں۔ کیفیات کے لحاظ سے گرم خشک ہیں۔ خلطِ صفرا پیدا کر کے جسم میں جمع کرتی ہیں۔ ذائقہ میں چرپری ہوتی ہیں۔غدی عضلاتی محرکات: اجوائن دیسی، بچھو، بدھارا، برنجاسف، سونامکھی، سنبھل، چوب چینی، حسن یوسف، جولنباں، زعفران، سونا، اسارون، پلاس پاپڑہ، اخرونٹ، اگر، بابونہ، بستیر، چڑیا، خوبانی، دار ہلدی، وراونج عقربی، رائی، زرنباد، عود بلسان، صنوبر، عقر قرحا، سانپ اور اس کا زہر، سارس، سوسوں، سرخ مرچ کے بیج، کرفس، قسط، کوڑ، کالی زیری، کباب چینی، کٹائی خورد، انیسوں، روغن تارپین، گوشت بگلہ، گوشت ٹڈی، گوشت تیتر، گوشت چڑیا، گوشت مور، گوشت بیترہ، مصطگی رومی، میتھی، مینڈک، نرگس۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔5
غدی اعصابی (گرم تر) ادویات
۔”غدی اعصابی تمام ادویات فعلی طور پر جگر و غدد میں مشینی تحریک پیدا کرتی ہیں، قلب و عضلات میں تحلیل پیدا کر کے ان کی سوزش کو رفع کرتی ہیں۔ کیفیات کے لحاظ سے گرم تر ہیں۔ مادی طور پر خلطِ صفرا پیدا کر کے خارج بھی کرتی ہیں۔ ذائقے میں نمکین ہوتی ہیں”۔
غدی عضلاتی محرکات:
۔”درک””، ارنڈ”، اڑوسہ، اسگندھ، اکاس بیل، اندر جو، انیسوں، اونٹ کٹارہ، بادیان خطائی، بداری قند، بسکھپرا، سرنجاں شیریں، مروڑ پھلی، شلغم، رسکپور، رودنتی، زرنیخ، انبہ ہلدی، اشنان، افتیمون، اکلیل الملک (ناخونہ)، انگور شیریں، بادیان اور اس کی جڑ، بان، باؤبڑنگ، بندق (ریٹھہ)، بہرہ وزہ، بید انجیر، پان، پتھر پھوڑی، پستہ، مغز ہندوانہ، پودینہ، فلفل دراز، بیخ فلفل دراز، تلسی، پھٹکنڈا، چرونجی، چلغوزہ، شیطرج ہندی، حاشہ، کھجور، گوکھرو، کلتھی، روغن زیتون، زیرہ سیاہ، سداب، سنامکی، شکر تیغال، سنبھالو، سونٹھ، سویا، فندق، تخم کثوث، گھرو نده، گل عباسی، گندنا (پیازی) گھی، لفاح (بیلا ڈونا) مرچ سیاہ، نوشادر، گندم، ممیرا، نمک، ہلدی۔
—6
اعصابی غدی (تر گرم) ادویات
اعصابی غدی تمام ادویات فعلی طور پر دماغ و اعصاب میں کیمیائی تحریک پیدا کر کے جگر و غدد میں تحلیل اور قلب و عضلات میں تسکین پیدا کرتی ہیں۔ کیفیات کے لحاظ سے تر گرم ہیں۔ خلط بلغم پیدا کر کے جسم میں جمع کرتی ہیں۔ ذائقہ میں

میٹھی ہوتی ہیں۔
اعصابی غدی محرکات:
اوٹنگن، اراروٹ، ارنی، اسپنج، الائچی خورد، بابتنگ، آک، ابریشم، اسگندھ، اشک، بھنڈی، تخم خربوزہ، توت، تودری سرخ، تھوہر، ثعلب مصری، حباؤ شیر، چربی، چنبیلی، چولائی، خطمی، دھنیا، رب السوس، ریٹھا، ریوند چینی، ریوند خطائی، زمرد، زیرہ سفید، سریشہ شکامی، شکر، شیشم، صقتر، عنب الثعلب، فرفنیون، فرنجمشک، کنیر، کدو، کنگھی، کنوچ، کہربا، کھرنی، گوندنی، گوشت دبنہ، کیلا، پھل کیسو، گل چاندی، گل سیلونی، گل سندی، لوہان، ملٹھی، مولی، موم، دال مونگ، ناگ کیسر، گاجر، حجر الیہود، سرطان نہری، ملائی، موصلی سفید، ناشپاتی، ناگر موتھا، ہاتھی سونڈی، ملنیا تا سبغول، املتاس، باورنجبویہ، برہمی، سپستان، امرود، ترنجبین، شہد۔

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

عائشة أم المؤمنين

عائشة أم المؤمنين

ایک بہترین جامع کتاب سیرت ام المومین سیدہ عائشہ صدیقہ کی سوانح حیات پر الكتاب : عائشة أم المؤمنين المؤلف

[saadherbal_newsletter_form]