پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

حکماء توجہ فرمائیں علاج سے پہلےتشخیص کا ڈیجیٹل حل

حکماء توجہ فرمائیں
علاج سے پہلےتشخیص کا ڈیجیٹل حل
(ذیل میں ایک تشخیصی ایپ کاایک کا لنک دیا جارہا ہے۔حکماءحضرات اسے دیکھیں پرکھیں ،اس میں جو خامیاں ،خوبیاں ۔ہوں سےآگاہ فرمائیں۔تاکہ ایک جامع تشخیصی سوفٹ وئیر تشکیل دیا جاسکے،اس میں نبض ۔قارورہ۔پی ایچ۔غذا،دوا،پرہیز وغیرہ شامل کئے گئے ہیں ۔کہ قارورہ کے مطابق تشخیص کی جاسکے۔
توجہ فرمائے۔
یہ بنیادی طور پر ہماری آن لائن طب کی کلاسز۔طب اور اے آئی کا امتزاج،لیکچر کا ایک حصہ ہے۔
یہ کورس ہے حال ہی میں سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ کے تحت شروع کیا گیا ہے۔کلاسز جاری ہیں
۔حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو)
اے عزیز! یاد رکھو، شفا دینے والی ذات تو اللہ کی ہے، لیکن اسباب کی دنیا میں دانائی یہی ہے کہ پہلے مرض کو پہچانا جائے اور پھر دوا کا ہاتھ تھاما جائے۔

حکمت کی نظر میں علاج سے پہلے تشخیص کی اہمیت
جڑ کو دیکھنا، پتوں کو نہیں

اگر کسی درخت کے پتے پیلے پڑ رہے ہوں، تو عقل مند مالی پتوں پر رنگ نہیں کرتا، بلکہ وہ جڑوں میں دیکھتا ہے کہ پانی کی کمی ہے یا دیمک لگی ہے۔ بالکل اسی طرح، اگر تمہارے سر میں درد ہے، تو یہ درد خود بیماری نہیں، بلکہ جسم کے اندر کسی فساد کی دلیل ہے۔ اب یہ معدے کی خرابی ہے، نظر کی کمزوری ہے یا خون کا دباؤ—یہ جاننا ہی تشخیص ہے۔ بغیر جانے دوا لینا ایسا ہی ہے جیسے اندھیرے میں تیر چلانا۔

۲. مزاج کی پہچان

خالق نے ہر انسان کا مزاج الگ بنایا ہے۔ کوئی گرم مزاج کا حامل ہے، کوئی سرد، کسی کی فطرت میں خشکی ہے تو کسی میں تری۔ اگر ایک شخص کو گرمی کی وجہ سے بخار ہے اور تم اسے تشخیص کے بغیر مزید گرم تاثیر والی دوا دے دو، تو تم اس کی بیماری نہیں بڑھا رہے بلکہ اس کی زندگی سے کھیل رہے ہو۔ تشخیص بتاتی ہے کہ بدن کا بگڑا ہوا توازن (خلاط) کس سمت میں ہے تاکہ اسے اعتدال پر لایا جا سکے۔

۳. نبض کی گواہی

حکیم جب تمہاری کلائی تھامتا ہے، تو وہ صرف دھڑکن نہیں گنتا، بلکہ وہ تمہارے اندرونی اعضاء (دل، جگر، معدہ) کے حال کی گواہی لیتا ہے۔ تشخیص سے یہ پتا چلتا ہے کہ دشمن (مرض) کس راستے سے داخل ہوا ہے۔ جب تک دشمن کا پتا نہ چلے، تم پہرے دار (دوا) کہاں کھڑے کرو گے؟

۴. قوتِ مدافعت کی حفاظت

ہمارا بدن خود اپنا بہترین معالج ہے۔ دوا کا کام صرف اس ‘طبیبِ اندرونی’ کی مدد کرنا ہے۔ اگر تم غلط تشخیص کر کے غلط دوا پیٹ میں ڈالو گے، تو تمہارا بدن بیماری سے لڑنے کے بجائے اس اجنبی دوا کی تلخی اور زہر سے لڑنے میں مصروف ہو جائے گا، یوں تم اندر سے مزید کمزور ہو جاؤ گے۔

۵. وقت اور خون کی بچت

بیٹے! تندرستی ہزار نعمت ہے۔ غلط دوا سے نہ صرف پیسہ ضائع ہوتا ہے بلکہ معدہ اور جگر بھی چھلنی ہو جاتے ہیں۔ صحیح تشخیص سے تیر نشانے پر لگتا ہے، مریض کو لمبی اذیت سے نجات ملتی ہے اور بدن کی توانائی برقرار رہتی ہے۔


حکمت کی بات: > “نادان ہے وہ شخص جو ہر درد کے لیے ایک ہی چورن رکھتا ہے، اور دانا وہ ہے جو پہلے آنکھ، زبان اور نبض سے مرض کا سراغ لگاتا ہے۔”

اگر تم اپنی کسی تکلیف کی کیفیت (مثلاً جلن، بوجھ، یا درد کی نوعیت) بیان کرو، تو میں تمہیں مشورہ دے سکتا ہوں کہ تمہیں کس قسم کے پرہیز یا معائنے کی
ضرورت ہے۔

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

عائشة أم المؤمنين

عائشة أم المؤمنين

ایک بہترین جامع کتاب سیرت ام المومین سیدہ عائشہ صدیقہ کی سوانح حیات پر الكتاب : عائشة أم المؤمنين المؤلف

[saadherbal_newsletter_form]