
میرا مطب مع علم العلاج حصہ اول:
کتاب کے اصول کے مطابق) رکھی گئی ہے۔
مقدّمہ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (آمین)
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
اللہ تعالیٰ جل شانہٗ کی حمد و ثنا اور نبی آخر الزماں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کے بعد واضح ہو کہ:
جب سے حضرت انسان نے اس جہانِ فانی میں قدم رکھا ہے اس وقت سے لے کر آج تک صحت اور مرض کا تعلق اس کے ساتھ لازم و ملزوم کی حیثیت سے چلا آ رہا ہے۔ یعنی کبھی صحت مند ہے تو کبھی کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے۔ البتہ یہ کبھی نہیں ہوا کہ صحت مند بھی ہو اور بیمار بھی ہو اور صحت مند بھی کہلائے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمیشہ مرض کا علاج کیا جاتا ہے صحت کا نہیں۔
صحت فطرت ہے۔ بیماری فطرت سے دوری کا نام ہے۔ دوسرے لفظوں میں۔۔۔
۔۔۔صحت اعمالِ صالح اور انسانی مشین کے صحیح کام کرنے کا نام ہے۔ جب کہ بیماری اعمالِ صالح سے فرار، اسراف اور انسانی مشین کے کل پرزوں کا صحیح کام نہ کرنا ہے۔
ذہن نشین کرلیں کہ برائی کبھی بھی کسی قانون کے تحت نہیں ہوتی بلکہ برائی وہ شے ہے جو نیکی اور بھلائی کی خلاف ورزی سے پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح مرض بھی کسی قانون سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ جب صحت کے قانون کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو مرض پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں جس قدر طریقِ علاج ہیں سب نے مرض کی پیدائش کو صحت کے قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
یاد رکھیں کہ مرض کی ابتدائی صورت کسی مفرد عضو میں تحریکِ خون کے مزاج (کیفیات) یا خون کے کیمیائی مادہ (اخلاط) میں تغیر پیدا ہونا ہے۔ پھر محرک مفرد عضو میں سوزش کی صورت پیدا ہو جاتی ہے یعنی محرک مفرد عضو میں خون کی آمد بڑھ جاتی ہے جس سے خون کا دباؤ بڑھ کر سوزش، درد، جلن، خارش، ورم، بخار وغیرہ ہو کر مرض قائم ہو جاتا ہے۔
قانون مفرد اعضاء میں مرض کی ماہیت جاننے کے لئے ضروری ہے کہ اول معلوم کیا جائے کہ کس مفرد عضو کے فعل میں تیزی اور دورانِ خون کی آمد زیادہ ہے اور کس مفرد عضو میں خون کم ہو رہا ہے یعنی نکل کر محرک مفرد عضو کی طرف جا رہا ہے اور کس مفرد عضو میں خون کی انتہائی کمی واقع ہو گئی ہے۔ قانون مفرد اعضاء میں حیاتی مفرد اعضاء کی مندرجہ بالا حالتوں کو درج ذیل ناموں سے پکارا جاتا ہے۔
یعنی جس عضو میں خون کی آمد زیادہ ہے اس میں ’تحریک‘ و تیزی ہے اور جس مفرد عضو سے خون نکل کر محرک عضو میں جا رہا ہے اس میں ’تحلیل‘ اور جس میں خون کی انتہائی کمی ہو گئی ہے اس میں ’تسکین‘ قرار دیتا ہے۔
قانون مفرد اعضاء کی رو سے جس مفرد عضو میں خون کی انتہائی کمی واقع ہو گئی ہو وہ بیمار ہے اور جس مفرد عضو میں خون زیادہ جمع ہو گیا ہو وہ طاقتور جا رہا ہے


