
پتھروں کے سحری خواص
دیباچہ**
اس دنیا کے اندر عناصر کا کیمیائی عمل ہو رہا ہے۔ قادرِ مطلق کی جو جو صنعتیں عیاں ظاہر ہوئی ہیں بے گنتی رہی ہیں۔ سمجھ ان کی کُنہ غواصوں کے ادراک میں عاجز ہیں۔ اور اس کی قدرتِ کاملہ نے جو چیزیں بھی ظاہر کیں، اس کے بھید جاننے، فائدہ حاصل کرنے میں انہوں نے حتیٰ الامکان کوششیں کیں، چھان بین کی، اور جب تک ماہیت دریافت نہ کر لی، دم نہ لیا۔
قدرت کے ان نوادرات میں سے ایک جواہر ہیں۔ زمانہ قدیم میں ہی ان کے متعلق متعدد کتب اور رسائل لکھے گئے تھے، پتھروں کے متعلق کتاب لکھنے والے کے لئے یہ موضوع نیا نہیں۔ گزشتہ علما نے جو کچھ فرمایا ہے میں نے اس کتاب کو مرتب کرنے کے لئے یونانی، تمل، روسی، سنسکرت، تمدن پاک کی کتابوں میسود، پنڈار، تری جک کے رسائل سے استفادہ حاصل کیا ہے۔ مادو پوس، سر وائلر اسکاٹ، میگزین آف انڈیا نے جو دعویٰ خواص بیان کئے ہیں۔ ان کو نوٹ کیا ہے۔ علم نجوم اور جواہرات کے نظریہ کو گریٹ برائٹ آف ڈی ورلڈ، دی بک آف چامز اینڈ ٹلسمان مطبوعہ انگلینڈ اور چند ہندی کتابوں سے اخذ کیا ہے۔ خواص کو مجمع الجواہرات اور آئینہ جواہر سے لیا ہے۔ زیادہ تر حدود خصوصاً قسم دوم کے جواہرات کا تذکرہ دیگر کتاب سے اخذ کیا گیا ہے، جو پنڈت امر ناتھ کی لکھی ہوئی ہے۔ جس کے سننے اور پڑھنے والے کو اہم پتھروں کے ناموں سے بھی آگاہی ہو جائے اور اطباء کے لئے مفید ہو۔
اس کتاب کے لکھنے کا مقصد محض ان لوگوں کی رہنمائی تھا جو انگشتریوں میں نگ کا انتخاب چاہتے…ہیں۔ اس لحاظ سے ایک جدا مرتب کر دینا اور ان کے سحری خواص لکھ دینا کافی تھا مگر باہر کے خواص کے بنیادی محرکات، رنگ، جنیتی افعال اور سحری خواص محض اس لئے لکھے گئے تاکہ وہ لوگ جو پتھروں کی حقیقت سے واقف نہیں، ان کو بھی ان کی پوشیدہ قوتوں کا علم ہو جائے اور کیمسٹری سے تعلق رکھنے والے راہ فرار نہ لیں۔ ان کو یہ معلوم ہو جائے کہ دراصل یہ مسئلہ علم معدنیات اور کیمسٹری سے تعلق رکھتا ہے۔ اعدان کے کیمیاوی مرکبات ہی انسان کو فائدہ پہنچاتے ہیں، خواہ وہ فائدہ کے حصول کے لئے پہنے یا امراض کو دور کرنے کے لئے ادویات کے ذریعہ کھائے۔
ہر چیز تدبیر کی محتاج ہوتی ہے۔ اسی طرح جواہر کا استعمال بھی تدبیر سے ہونا چاہئے۔ تب ہی فائدہ ہوگا مثلاً دوائی میں استعمال کرنے کے لئے کشتہ کرنا ضروری ہے اور اس کے ذاتی خواص سے فائدہ اٹھانے کے لئے خاص نگ کا انتخاب کرنا، رنگ اور ماہیت دیکھنا، خاص وقتوں میں اور خاص دھاتوں میں نگ گھڑوانا عین تدبیر ہے۔ جب تک وہ اس کی متعلقہ تدبیر اختیار نہ کی جائے گی، اس کا متعلقہ فائدہ حاصل نہ ہو گا۔ اس بنا پر نگاہ ڈالنے کا نام سحری خواص ہے۔
یہ یاد رکھیں کہ نقلی اور ناقص جواہرات کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ آج کل پتھر کے جواہر نقلی بن رہے ہیں اور اب تو شیشے کے علاوہ پلاسٹک کے بھی بننے شروع ہو گئے ہیں۔ سب سے پہلے تسلی کریں کہ جواہر اصلی ہے۔ اس کے بعد اپنے ستارہ کے موافق رنگ کا انتخاب کریں۔ اس کے بعد اس کے ظہور پر نگاہ الٰہی بعین حبیب و زندگانی قطعی فائدہ کرے گا، کوشش کریں کہ نگ الٰہی دھات کی انگشتری میں لگائیں، جو آپ کے ستارہ کے متعلقہ دھات ہو، تاکہ جہاں تک ممکن ہو، دھات اور جواہر کی تاثیر سے فائدہ حاصل کیا جا سکے۔ سحری خواص کا فائدہ اٹھانے کے لئے ہمیں کچھ صفات کی ضرورت تھی۔ وہ مہیا کر دی گئی ہے، جواہر کا علم بھی ایک خاص علم ہے اس لئے اس کی معلومات علمی نقطہ نظر سے دی گئی ہیں۔
وجہ اول کے جواہر سیارہ درجہ دوم کے، کوئی خاص بات نہیں، کہ درجہ کونسا ہے، جو بھی ہو، جواہر اصلی ہو۔ وزن کا لحاظ بعض جواہر میں قائم رکھا جاتا ہے، بعض میں نہیں، بعض میں تمام مجموعی کے وقت وزن مقرر کیا گیا ہے۔
انگشتری میں جڑواتے وقت یہ بھی خیال رکھیں کہ نیچے کی طرف سے انگشتری کا عقب بند نہ ہو، بلکہ کھلا ہو، جواہر انگلی سے مس کرے یاد کرے، کوئی سوراخ نہیں، البتہ اگر نگ کے نیچے کوئی تعویذ رکھنا ہو تو نچلا حصہ بند کروا لینا چاہئے۔
وجہ اول کے جواہر تسعہ کے ساتھ مطابقت، توجیہہ قدیمی، قوتِ انعکاس اور اس کے کیمیاوی مرکبات دئے گئے ہیں۔ باقی درجہ دوم و سوم کے جواہرات کے ساتھ نہیں دئے گئے، وجہ یہ کہ کتاب…
کہ نفس مضمون کے ساتھ ان کا تعلق نہیں۔ پہلے جواہر کے ساتھ ماہیت دینے کا مقصد ان کے کھرے و کھوٹے اور معدنی قوتوں کو ظاہر کرنا تھا، تاکہ تاثیرات کی وجہ کا علم ہو سکے۔ اسی قسم کے کیمیاوی مرکبات سے تمام اقسام کے جواہر بنے ہیں، ہر ایک میں مختلف قوت برقی و قوت انعکاس ہے۔
بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کس دھات میں نگ لگائیں۔ علم نجوم کے نقطہ نظر سے تو بے شک ہر ستارہ کی دھات الگ ہے۔ مگر عام طور پر انگشتری کے لئے سونا یا چاندی صرف دھاتیں ہی استعمال میں لائی جاتی ہیں۔ باقی دھاتیں خاص امراض کو رفع کرنے کے وقت استعمال کرتے ہیں۔ سونا ایک اعلیٰ درجہ کی دھات ہے، اسی میں ہر گوہر جڑوا کے پہننا چاہئے۔ تو خیر مفید ہوتا ہے لیکن سونا ان لوگوں کو استعمال کرنا چاہئے، جو طلوع یا غروب یا دوپہر کے وقت پیدا ہوئے ہیں، ان کی انگشتری بھی انہی وقتوں میں بنی ہونی چاہئے تاکہ نتائج کا صحیح موقعہ ملے۔ وہ لوگ جو بعد دوپہر یا شام یا رات یا تڑکے صادق پیدا ہوئے ہوں، ان کو چاندی کی دھات استعمال کرنا چاہئے اور چاندی کی
انگشتری میں نگ جڑنا چاہئے۔ وہ لوگ جن کا ستارہ مس ہے یا قمر ہے، ان کو کبھی بھی مصنوعی دھات نہ پہننی چاہئے، نقصان دے گی۔ کہ زیادہ خرچ کر کے اصلی دھات کی چیز ہی حاصل کرنا چاہئے خواہ سونا ہو یا چاندی۔

ہر جواہر میں مختلف رنگ ہوتے ہیں یا مختلف رنگوں کے شیشہ ہوتے ہیں، جو ان کے اصلی رنگ کے علاوہ ہوتے ہیں، اس لئے جب بھی کوئی گوہر پہننے کے لئے انتخاب کریں، تو اس میں اپنا موافق رنگ انتخاب کریں۔ یہ کوئی ضروری نہیں کہ اس کا اصلی رنگ ہی خرید ا جائے۔ انتخاب میں رنگ کا لحاظ ضروری ہے اور رنگ ہی سب سے بڑی وجہ ہیں، جو انسان پر اپنے اثرات پتھر کی کیمیاوی بناوٹ کے ذریعہ کرتے ہیں۔ رنگوں کے انتخاب سے ان کے سحری خواص میں فرق ہو جاتا ہے۔ ہم نے اس امر کی وضاحت کے لئے ہر برج کے رنگوں کے دائرہ کو طبع کیا ہے جس کی توضیح آخر کتاب میں کی گئی ہے۔
اس امر کی سخت احتیاط رکھیں کہ وہ انگشتری پائیں جس پر اسماء الہی یا نقوش ہوں ان کو بحالتِ نجس کرنا یا بیت الخلاء لے جانا منع ہے۔ انگشتری کو اتار کر پاخانہ و
پیشاب کے لئے جانا چاہئے اور استنجا کرنے کے بعد پہن لینا چاہئے۔


