پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

رمضان کی سحری و افطاری میں احتیاطی تدابیر

رمضان کی سحری و افطاری میں احتیاطی تدابیر
رمضان کی سحری و افطاری میں احتیاطی تدابیر

رمضان کی سحری و افطاری میں احتیاطی تدابیر
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
رمضاں المبارک 2026 شروع ہوچکا ہے آج پہلا روزہ ہے
چاروں طرف کھانے پینے کی باتیں ہیں کہیں سحری کا مینو ترتیب دیا جارہا ہے تو کہیں افطاری کی پلاننگ جاری ہے
یہی پورے رمضان کا معمول رہے گا۔
سحری میں پیٹ بھرکر کھایا۔جو کھاسکتے تھے ٹھونس لیا۔
خدانخواستہ کوئی چیز بھول گئے جسے سحری میں کھانا تھا،سحری کا وقت ختم ہوگیا تو ساراد ن اسی غم میں گذرجاتا ہے کہ
فلاں چیز کھالیتا تو روزہ نہ لگتا۔
یہی حال افطاری کا ہے۔یہ کسی خاص طبقے یا فرد کے ساتھ معاملہ نہیں بلکہ پوری قوم ہی اس خبط میں مبتلاء ہے۔
افطاری کے لئے ۔پاکستان قوم نے کچھ لوازمات بنالئے ہیں ۔
سمومہ۔پکوڑے۔دہی بھلے۔شربت۔پھل۔وغیرہ وغیرہ
ہرکوئی افطاری میں یوں دسترخوان پے ہاتھ چلاتا ہے کہ صدیوں کی بھوک مٹا رہا ہے۔
صحت کا قطعی خیال نہیں رہتا ۔کچھ لوگ تو افطار ی کے بعد یوں پھیل جاتے ہیں گویا ۔مردہ حالت

میں کوئی پڑا ہوا ہے۔
طب و صحت کے حوالے سے کچھ باتیں ۔عرض کرتا ہوں۔
وہ اشیاء جن میں پانی کی کثرت ہو۔جیسے ترپوز۔خربوزہ ۔کھیرا۔وغیرہ۔ان کے ساتھ ٹھنڈا پانی پینا صحت کے لئے نقصان دہ ہے/
اس لئے یہ چیزیں افطاری مین احطٓتیاط سے کھائی جائیں ۔
اطفاری مین زیادہ ٹھنڈے مشروبات انسانی جسم کی توانائی اور حرارت کو یکدم بجھا دیتے ہیں ۔
اس لئے عام لوگوں بالخصوص بیماروں کو اس بارہ میں محتاط رہنا چاہئے۔
مناسب یہ ہے کہ سحری میں اعصابی اشیاء کھائیں ۔تاکہ دیر تک جسم میں تری موجود رہے۔
افطاری میں عضلاتی اشیاء کا مناسب استعمال کریں ۔تاکہ کم ہونے والے توانائی جلد ریکور ہوسکے۔
البتہ جو لوگ روزہ سے طبی فوائد چاہتے ہیں ۔روزہ سے حاصؒ شدہ جسمانی صحت اور امراض سے

چھٹکارہ چاہتے ہیں۔
انہیں ایک معالج ہونے کی حیثیت سے مشورہ دیتا ہوں کہ سحری و افطاری میں بھی کھانا ٹھونسنے کے بجائے طلب و ضرورت کے مطابق کھائیں۔ کیونکہ بھوک سے پیدا ہونے والے طبی فوائد اسے وقت حاصل ہوسکتے ہیں۔جب جسم میں موجود فضلات ختم کئے جائیں
اگر فضلات ختم کرنے کے بعد اس سے کہیں زیادہ پھر سےپیٹ کو خوراک کا گودام بنالیا ۔تو اس سے قطعی فوائد حاصل نہ ہونگے
موٹاپے کے شکار ۔یا جوڑ دردوں میں مبتلا۔لوگ۔بلغمی مزاج کے حامل لوگ۔اگر روزہ سے طبی فوائد اور جسمانی صحت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ،سحری و افطاری میں احتیاط کا دامن نہ چھوریں۔
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ
سعد ورچوئل سکلز پاکستان کے ماہرین نے مختلف امراض کے غذائی چارٹ برائے رمضان المبارک ترتیب دئے ہیں ۔
ضرورت مند حضرات طلب کرسکتے ہیں انہیں وٹس ایپ کردیا جائے گا۔

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اہم طبی نکات اور احتیاطیں:**

1 پانی والے پھل اور ٹھنڈا پانی:* افطاری میں پانی کی کثرت والی اشیاء (تربوز، خربوزہ، کھیرا وغیرہ) کھانے کے فوراً بعد ٹھنڈا پانی پینا صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس سے سختی سے پرہیز کریں۔
2 زیادہ ٹھنڈے مشروبات سے گریز:* افطاری میں یکدم بہت زیادہ ٹھنڈے مشروبات پینا جسم کی قدرتی حرارت اور توانائی کو بجھا دیتا ہے، جو کہ خاص طور پر بیماروں کے لیے خطرناک ہے۔
3 سحری کا انتخاب (اعصابی اشیاء):* سحری میں ایسی غذائیں کھائیں جو جسم میں دیر تک تری (نمی) برقرار رکھیں (جنہیں طب کی اصطلاح میں اعصابی اشیاء کہا گیا ہے)۔
4 افطاری کا انتخاب (عضلاتی اشیاء):* افطاری میں توانائی بحال کرنے والی غذائیں (عضلاتی اشیاء) مناسب مقدار میں استعمال کریں تاکہ دن بھر کی کمزوری دور ہو سکے۔
5 روزے کا اصل طبی فائدہ (سنہری اصول):* روزے سے جسمانی صحت اور امراض سے چھٹکارا تبھی ممکن ہے جب ہم بھوک رکھ کر کھائیں۔ روزے کا مقصد جسم میں موجود فاسد مادوں (فضلات) کو جلانا ہے۔ اگر ہم سحری و افطاری میں پیٹ کو دوبارہ “خوراک کا گودام” بنا لیں گے تو یہ فضلات ختم نہیں ہوں گے اور کوئی طبی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔

خاص ہدایت برائے مریض:
موٹاپے کا شکار، جوڑوں کے درد میں مبتلا، اور بلغمی مزاج رکھنے والے افراد کو اگر صحت مند ہونا ہے تو انہیں سحری و افطاری میں بے احتیاطی بالکل ترک کرنی ہوگی۔

غذائی چارٹس کی دستیابی:
یہ ایک بہت اچھی خبر ہے کہ سعد طبیہ کالج اور سعد ورچوئل سکلز پاکستان کے ماہرین نے مختلف امراض کے لیے رمضان کے خصوصی غذائی چارٹ ترتیب دیے ہیں۔ ضرورت مند حضرات کو چاہیے کہ وہ ان سے رابطہ کرکے یہ چارٹس ضرور حاصل کریں تاکہ اپنے مرض کی نوعیت کے مطابق درست غذا کا انتخاب کرسکیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس رمضان المبارک میں اعتدال کے ساتھ کھانے پینے اور اپنی صحت کا خیال رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

[saadherbal_newsletter_form]