
حضرت مجدد الطبؒ کی آخری خواہش اور اطباء کی ذمہ داری۔
(یہ سطور ہماری کتاب۔”قانون مفرد اعضاء اور جدید اے آئی کا امتزاج۔”کے دیباچہ سے لی گئی ہیں۔بنیادی طور پر سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ//سعد ورچوئل سکلز پاکستان کی طرف سے۔ آن لائن کلاسز کا نیا کورس ڈزائن کیا گیا ہے،اس کی کلاسز جاری ہیں۔دنیا بھر کے لوگ اس میں شریک ہورہے ہیں۔
(حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو)
انہوں نے آخری ایام میں جس طرف توجہ دی ان کے وارثین یا حاملین طب کی ذؐہ داری بنتی ہے کہ قانون مفرد اعضاء کے لئے یہ میدان تحقیق کھولا جائے تاکہ انسانی جسم اور فطرت اور قدرت کو ہم آہنگی سے سمجھا جاسکے۔قران کریم اور احادیث مبارکہ مین بہت زیادہ مواد طب پر موجود ہے جسے موجود دور کے مطابق استفادہ کے لئے منظر عام پر لانے کی ضرورت ہے۔قران کریم کو سمجھنے سمجھانے کے لئے اہل علم نے تفاسیر لکھی ہیں۔جن کی تعداد بلاشبہ لاکھوں صفحات پر محیط اور ہزاروں مجلدات میں پھیلی ہوئی ہیں۔ عوام الناس کے نزدیک تو یہ سب تفسیر قران کریم کو سمجھنے کے لئے لکھی گئی ہیں۔لیکن اہل علم کواص اجنتے ہیں یہ تفاسیر قران کریم کی ترجمانی سے زیادہ لکھنے والی کی ذہنیت اور اسکے علم و ہنر اور اس کی فنی مہارت کے لئے ایک اشتہشادی سند کے طورپر لکھی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے
تحریک امراض اور علاج

یہ اوراق مختصرہ اس بات کی گنجائش نہیں رکھتے کہ اس بحث کو طوالت دوں،ورنہ ذہن میں اس وقت افکار اور اس موضوع پر مواد کا ابلتاہوا چشمہ ہے جو ابل کر بہنا چاہتا ہے۔لیکن اختصار اجازت نہیں دیتا۔ لیکن کچھ تو کہہ دو تاکہ عبارت کا تسلسل برقرار رہ سکے۔
اہل علماء اور علماء کرام سے یہ بات چھپی ہوئی نہیں ہے کہ جس قسم کا مزاج ہوتا ہے اسی قسم کی تفاسیر کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔فقہ سے شغف رکھنے والے،تفسیر مظہری۔فلسفی علم الکلام والی تفسیر کبیر۔۔بلاغت والے کشاف۔روایات کی متلاشی طبری۔قرار کی تفسیر قران سے دیکھنے والے ابن کثیر ۔نحو سے تعلق رکھنے والے المبحر المحیط۔مسلکی تفاسیر والی دیوبندی ،دبند والوں کی ۔بریلوی بریلوی مکتب فکر کی۔اہل حدیث اپنے مکتب فکر کی تفاسیر کا مطالعہ کرتے ہیں۔
نمبر شمار نام تفسیر علوم و فنون
1 قرطبی۔۔۔جصاص فقہ میں
2 طبری۔۔ابن کثیر حدیث میں
3 الکشاف۔۔۔بیضاوی بلاغت میں
4 الکشاف علم معانی
5 ابو حیاں اندلسی کی بحر محیط لغت و نحو
6 تفسیر کبیر۔امام رازی علم کلام
7 تدبر قران۔اصلاحی نظم قران
8 روح البیان تصوف
9 النشر فی القراءات۔ابن جوزی قرات قران
10 الدر المنثور – امام سیوطی جامع علومِ قرآن
یعنی ہر کسی نے اپنے اپنے فن کی دلیل تلاش کرنے کی غرض سے قران کریم کی تفسیر کی ہے،جب کہ علم طب ایک اعلی و اشرف علم ہے اس بارہ مین کسی نے کوشش نہیں کہ اس زاویہ سے قران کریم کی کوئی تفسیر و تشریح کردی جائے۔
یہی صورت حال شروحات احادیث میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے
نمبر شمار نام کتاب علوم و فنون
1 فتح الباری – حافظ ابن حجر عسقلانی (شرح بخاری) حدیث، فقہ، علل، رجال
2 عمدۃ القاری – بدر الدین عینی فقہ ۔حنفی۔ • خاری کی تفصیلی شرح
3 ارشاد الساری – قسطلانی عام فہم اسلوب اعتدال، لغت، فقہ
4 المنتقی شرح موطاء۔۔امام باجی فقہ مالکی
5 شرح مسلم نووی فقہ۔عقیدہ۔اشعری
6 الکمال۔عبد الغنی۔مقدسی رجالِ حدیث کا ذوق
7 شرح سنن ابی داود – خطابی لغوی تشریح،اسلوب حدیث
8 معالم السنن۔خطابی الفاظ حدیث کی تشریح
9 تہذٰب التہذیب۔ابن حجر راوۃ کی تحقیق
10 نصب الرایہ۔زیلعی فقہی احادیث کی تخریج
راقم الحروف نے اس بارہ میں کوشش کی تھی۔اس کاوش کو ۔قران کریم سے اخذ کردہ طبی نکا۔۔۔دوسری کتاب کا نام ۔۔احادیث مباکرہ سے اخذکردہ طبی نکات۔رکھا تھا۔تحدیث نعمت کے طورپر لکھ رہا ہوں راقم الحروف نے جب اس زاویہ سے قران کریم کا مطالعہ کیا،تو اڑھائی سو زائد آیات قرانیہ ایسی ملیں جن میں طبی اصول۔غذا و خوراک،جڑی بوتیاں ،شجر و حجر بناتات و جمادات۔دھاتین ملیں جو طب کا موضوع بحث ہیں۔ کثرت مشاغل اور زندگی کی ہمہ ہمی نے اس کام کو اتنا ستت بنادیا ہے کہ وقت گزرنے کا شدت سے احساس ہوتا ہے۔میں اس بات کا مدعی نہین کہ یہ کام میں ہی کررہا ہوں ،لیکن اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں ہوں کہ ان لوگوں مین میں بھی شامل ہوں جو اس انداز میں سوچتے یا کچھ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
حکیم الہی بخش عباسی نے اس بارہ میں نشان منزل مقرر کئے ہیں کہ آیات قرانیہ سے کیسے استنباط کیا جاسکتا ہے۔ان کی تینوں کتب قانون صابر اول دوم سوم قابل مطالعہ ہیں۔اہل علم کے لئے ایک نمونہ تحقیق ہیں۔۔،اس کا پیڑن تو حکیم صابر ملتانی کی کتب میں بھی ملتا ہے۔حکیم صاحب نے اس جہت سے جو کام کیا ہے۔ارادہ ہے کہ اسے یکجا کرکے اہل ذوق کے سامنے پیش کردیا جائے۔
یہ بھی پڑھئے
معالج اور انسانی ضروریات۔ از ۔حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
بہر حال وقت کا تقاضا یہی ہے کہ جس طرح قانون مفرد اعجاء کی تجدید ہوئی تھی اسی طرح اس کی تکمیلی شکل یوں شامنے لائی جاسکتی ہے کہ اس کے کلیات و قوانین قران کریم احادیث مبارکہ کی کسوٹی پر پرکھے جائیں۔تاکہ علاج و معالہ کے ساتھ ساتھ اہل ایمان کے لئے سامان تسکین بھی بہم مہیا کیا جاسکے۔یہی انداز احادیث مبارکہ میں اپنایا جائے۔اس سے دو فوائد کا حصول بیک وقت حاصل ہوگا۔ ایک تو قران کریم کی تعلیمات کی ہمہ جہتی رخ پیش کیا جاسکے گا۔دوسرا عقیدہ و نفسیات کی بنیاد پر مضبوط طریقہ علاج پیش کیا جاسکے گا۔
اس میں شک نہیں۔قران و احادیث کے علاوہ ہر صاحب علم و فکر کے نظریات میں تحقیق کا پہلو باقی رہتا ہے کوئی کتنا بھی بڑا کیوں نہ ہو ۔تحقیق کا علم اس ے بھی آگے کی راہیں دکھاتا ہے۔کیونکہ ہمہ وقت انسان سیکھتا ہے،اور علوم و فنون تحقیق و تدقیق کا چشمہ ہمیشہ آنے والوں کے لئے بہتا رہتا ہے ۔ جو بڑے ہیں وہ اپنے وقت اور وقتی ضروریات کے لحاظ سے بڑے ہیں ،یہ نہیں کہ وہ ہمیشہ ہی بڑے رہیں گے یا ان کا کھینچا ہوا خط خط آخر ہوگا۔ایسا ہرگرز نہیں۔یہ قران کریم اور احادیث مبارکہ کی روح سے متصادم ہے۔
احادیث مبارکہ میں آیا ہے کہ قرب قیامت علم عام ہوجائے گا۔
إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ كَثْرَةَ الْقَلَم ۔ِترجمہ:قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ قلم بہت زیادہ ہو جائیں گے(یعنی لکھنا، کتابت، معلومات عام ہو جائیں گی)حوالہ: مسند احمد: 8573 طبرانی (الاوسط)
یہی بات شاہ ولی اللہ ؒ نے لکھی ہے کہ شخص اکبر(ان کی خاص اصطلاح) قرب قیامت میں علم و ہنر سے اتنا بھر جائے کہ ایک بچے بھی ایک عالم سے زیادہ علم رکھنے والا ہوجائے گا۔
یہی چیز طب کے بارہ میں بھی ہے کہ آج ہمارے سامنے علوم و فنون کے وہ ذخائر ایک کلک کی دوری پر ہیں جن کے بارہ مین اسلاف سوچ بھی نہ سکتے تھے۔لاکھو ں کروڑوں کتب ہماری ایک کلک کی دور پر ہیں۔وہ گوہر نایاب ہماری دسترس میں ہیں جنہیں دیکھنے کی آرزو لئے ہوئے اسلاف قبروں میں جا سوئے۔
تحقیق کے جتنے مواد اور تجربات کے لئے جتنے وسائل آج ایک عام انسان کے پاس موجود ہیں یہ کبھی حکمرانوں کی خواہش ہوا کرتے تھے۔علوم و فنون کی علمی جہات اتنی پھیل گئی ہیں کہ ان کا حاطہ کرنا ناممکن سی بات ہے۔
اس کتاب کے لکھنے کا مقصد۔
قانون مفرد اعضاء پر بے شمار کتب لکھی گئی ہیں۔ہم نے بھی طبی موضع تک چالیس پچاس کتب لکھی ہیں۔ہماری کتاب ۔تحریک ،امراض ۔علاج۔بین الاقوامی طور پر شہرت یافتہ ہے۔اس کی ڈائون لوڈنگ لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔اس کے علاوہ تشخیص متعدہہ۔غذائی چارٹ۔طب سیکھنا کیوں ضروری ہے؟۔وغیرہ تیس چالیس کتب ہیں۔
لیکن جب یہ کتب لکھی گئیں اس وقت تک اے آئی کا چلن نہ تھا۔آج اس کی بھر مار ہے۔انٹر نیٹ کی دنیا اس کے بغیر بات سننے کے لئے تیار نہیں ہے حتی کہ ہمارے فون اس کی زد میں آچکے ہیں۔ساری رائج الوقت علوم و فنون اس کی زد میں ہیں۔صدیوں پرانے علمی تصورات بدل گئے ہیں۔ تحقیقات کے معیار ات کی نئی صف بندی ہورہی ہے۔یونورسٹیوں سے لیکر ایک جھونپڑی مکتب تک آے آئی نے دبوچ لیا ہے۔ہمارے اطباء پرانی روش پے ڈٹے ہوئے ہیں۔لیکن دنیا ڈیجیٹل ہوتی جارہی ہے۔اس بدلائو کی شدت اس قدر ہے کہ رات کو سوتے وقت جسے حرف آکر سمجھا جاتا ہے ۔صبح بیدار ہوتے ہوتے دنیا اس میعار کو توڑ کر بہت آگے نکل چکی ہوتی ہے۔
بس طب کی کو تصویری انداز مین سمجھانے اور ھروف کو صورت دینے انہیں مجسم کرنے سے طب کو ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے۔تو ہم نے ایک کورس لائونچ کیا ۔جس کا عنوان ۔طب اور آرٹیفیشل انٹلیجنس۔رکھا ۔یہ کتابچہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ہر طلوع ہونے والا دن ہمارے لئے نئی امیدیں اور سیکھنے کے نت نئے طریقے لیکر طلوع ہوتا ہے۔سیکھنے سکھانے کے لئے ہمہ وقت مستعد و چاق و چوبند رہنا وقت کے لحاظ سے مجبوری ہے ۔ ممکن ہے چند راتوں کا جاگنا حکماء و اطباء کے لئے نئی راہیں متعارف کرادے۔ہم نے یہ راستہ اختیار کرنا تو ہے اب کرلیں یا دیر سے کرلیں۔کیا یہ بہتر نہیں کہ کوئی دوسرا اس میں پہلا قدم اٹھائے ہم پہل کردیں۔
ہماری لکھی ہوئی تھریر حرف آکر نہیں۔اس مین اصلاح کی بہت گنجائش ہے۔،ہم جیسے جیسے سیکھتے جائیں گے،تھرجاب میں اضافہ ہوگا۔مزید بہتر خدمت کے قابل بن جائیں گے
خیر اندیش خادم علماء و اطباء۔حکیم المیوات قاری قاری مھمد وینس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ
سعد ورچوئل سکلز پاکستان۔لاہور
رابطہ نمبر۔03238537640۔۔۔03484225574


