
اخلاط و اعضا کا نظامِ توازن اور فاضل مادوں کا اخراج: ایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ
انسانی جسم کی تخلیق اور اس کے افعال کا مطالعہ ہمیشہ سے علمِ طب کا مرکز رہا ہے۔ صحت کی بقا اور امراض کا تدارک دو ایسے ستون ہیں جن پر انسانی زندگی کی عمارت کھڑی ہے۔ حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو نے اپنے افکار میں جس جامعیت سے فاضل مادوں کے اخراج اور اعضا کے باہمی تعلق کو بیان کیا ہے، وہ قدیم طبِ یونانی اور جدید نظریہ مفرد اعضا کے مابین ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسانی جسم میں صحت کا قیام محض اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک منظم نظام کا نتیجہ ہے جس کے دو بنیادی پہلو ہیں: تعمیری (Anabolic) اور تخریبی (Catabolic)۔ جب تک جسم میں تعمیر کا عمل جاری رہتا ہے اور تخریبی عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے فضلے یا فاضل مادے بروقت خارج ہوتے رہتے ہیں، انسان تندرستی کی حالت میں رہتا ہے۔ لیکن جیسے ہی اس توازن میں بگاڑ آتا ہے، بیماری اپنی جگہ بنانا شروع کر دیتی ہے۔ 1
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو: علمی و طبی پس منظر
اس سے قبل کہ ہم فاضل مادوں کے فلسفے پر غور کریں، اس فکر کے شارح، حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو کی علمی خدمات کا تذکرہ ضروری ہے۔ موصوف نہ صرف ایک بلند پایہ طبیب ہیں بلکہ میو قوم کی تاریخ، تہذیب اور تمدن کے تحفظ کے علمبردار بھی ہیں۔ ان کی تالیفات کی تعداد سو سے زائد ہے، جن میں انہوں نے طبِ نبویﷺ، تاریخِ میوات اور قرآنی علوم پر گراں قدر کام کیا ہے۔ انہوں نے 1998 میں قرآن کریم کا میواتی زبان میں پہلا ترجمہ مکمل کر کے ایک تاریخی کارنامہ انجام دیا، جس سے ان کی علمی گہرائی اور اپنی جڑوں سے وابستگی کا ثبوت ملتا ہے۔ 1
ان کی طبی فکر “نظریہ مفرد اعضا” کے گرد گھومتی ہے، جو کہ صابر ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیقات کا تسلسل ہے۔ اس نظریے کے مطابق انسانی جسم تین بنیادی مفرد اعضا یعنی دماغ (اعصاب)، دل (عضلات) اور جگر (غدد) کے باہمی اشتراک سے چلتا ہے۔ حکیم یونس شاہد میو نے اس نظریے کو سادہ اور عام فہم انداز میں پیش کیا تاکہ ایک عام قاری بھی اپنی صحت کے اصولوں کو سمجھ سکے۔ ان کا ماننا ہے کہ طب سیکھنا ہر انسان کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے جسم کے اندرونی نظاموں کے مزاج کو سمجھ کر امراض سے بچ سکے۔ 2
رطوبت اور خشکی کا فلسفہ: فردوس الحکمت کے تناظر میں
علی بن سہل ربن طبری کی شہرہ آفاق تصنیف “فردوس الحکمت” طبِ اسلامی کی اولین اور جامع ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کتاب کے صفحہ 108 پر ایک سنہرا اصول بیان کیا گیا ہے جو مادے کی تشکیل اور اس کے بکھرنے کے عمل کو واضح کرتا ہے: “خشکی اجزا کو متفرق کر دیتی ہے، جبکہ رطوبت اجزا کو جمع رکھتی ہے”۔ یہ جملہ بظاہر سادہ معلوم ہوتا ہے لیکن علمِ کیمیا اور علمِ الابدان کی پوری حقیقت اسی میں پنہاں ہے۔ 4
رطوبت جسم کے اندر ایک ایسے ‘بائنڈنگ ایجنٹ’ کے طور پر کام کرتی ہے جو خلیات کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتی ہے اور ان میں لچک پیدا کرتی ہے۔ اگر جسم میں رطوبت ختم ہو جائے تو خشکی کا غلبہ اجزا کو بکھیر دیتا ہے، جس کی مثال بڑھاپے یا کینسر جیسے امراض میں دیکھی جا سکتی ہے جہاں خلیات کی باہمی گرفت کمزور پڑ جاتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر رطوبت ضرورت سے زیادہ ہو جائے تو یہ تعفن اور سوجن کا باعث بنتی ہے۔ 6
مادی کیفیات کا تقابلی جدول
| کیفیت | اثر بر مادہ | طبی علامت | متعلقہ خلط |
| رطوبت | اجزا کو جمع رکھنا، لچک فراہم کرنا | ورم، سستی، موٹاپا | بلغم |
| خشکی | اجزا کو متفرق کرنا، سختی پیدا کرنا | قبض، بے خوابی، تشنج | سودا |
| حرارت | مادے کو لطافت دینا، حرکت بیدار کرنا | سوزش، بخار، تیزابیت | صفرا |
| برودت | مادے کو منجمد کرنا، سکون دینا | فالج، سن ہونا، سردی لگنا | بلغم (بارد) |
اس جدول سے واضح ہوتا ہے کہ جسم کی ہر کیفیت ایک خاص خلط اور عضو سے وابستہ ہے۔ جب یہ کیفیات اپنے اعتدال سے تجاوز کرتی ہیں تو فاضل مادے پیدا ہونا شروع ہوتے ہیں۔ 6
تعمیری اور تخریبی نظام: بقائے صحت کی دوڑ
انسانی جسم میں ہونے والے تمام افعال کو ہم دو بڑے زمروں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ تعمیری نظام (Constructive System) وہ ہے جس کے ذریعے غذا خون میں تبدیل ہوتی ہے اور پھر خون سے مختلف اعضا کی نشوونما ہوتی ہے۔ یہ عمل زندگی کی بقا کے لیے ناگزیر ہے کیونکہ جسم کے خلیات مسلسل ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہتے ہیں اور ان کی جگہ نئے خلیات کی ضرورت ہوتی ہے۔ 2
تخریبی نظام (Destructive System) کا مقصد ان مادوں کو ٹھکانے لگانا ہے جو تعمیری عمل کے بعد فالتو رہ جاتے ہیں یا وہ خلیات جو اپنی عمر پوری کر کے مردہ ہو جاتے ہیں۔ اگر یہ تخریبی مواد جسم سے باہر نہ نکلے تو یہ زہر بن جاتا ہے۔ صحت دراصل ان دونوں عملوں کے مابین ایک متحرک توازن (Dynamic Equilibrium) کا نام ہے۔ جب تخریبی مواد کا اخراج رک جاتا ہے تو اسے “حبسِ فضلات” کہا جاتا ہے، جو کہ امراض کی ماں ہے۔ 1
اخراجی راستے اور ان کی اہمیت
جسم نے فاضل مادوں کے اخراج کے لیے چار بنیادی راستے متعین کیے ہیں:
- پاخانہ (Stool): یہ نظامِ ہضم کا ٹھوس فضلہ خارج کرنے کا ذریعہ ہے۔ اگر انتڑیوں کی حرکت سست پڑ جائے تو قبض کی صورت میں سوداوی اور تعفنی مادے جمع ہونے لگتے ہیں۔
- پیشاب (Urine): گردوں کے ذریعے خون کی صفائی اور مائع فضلے کا اخراج۔ یہ خاص طور پر صفراوی اور نمکیاتی مادوں کے اخراج کے لیے اہم ہے۔
- پسینہ (Sweat): جلد کے مسامات کے ذریعے حرارت اور فاسد رطوبات کا اخراج۔ یہ جسم کے درجہ حرارت کو برقرار رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔
- سانس (Breath): پھیپھڑوں کے ذریعے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور بخارات کا اخراج۔ 9
ان چاروں راستوں میں سے کسی ایک میں بھی خلل واقع ہونا پورے جسمانی توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔ مثلاً پسینہ نہ آنے کی صورت میں گردوں پر بوجھ بڑھ جاتا ہے، اور اگر گردے سست ہوں تو پھیپھڑوں میں پانی جمع ہونے لگتا ہے (Edema)۔ 9
ماحولیاتی اثرات اور اخراجی نظام میں رکاوٹ
حکیم یونس شاہد میو نے ایک بہت اہم نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جدید دور میں ہماری صحت ماحولیاتی عوامل سے بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ خاص طور پر ایئر کنڈیشننگ (A.C) کا بے جا استعمال جسم کے قدرتی اخراجی نظام کو مفلوج کر رہا ہے۔ 1
اے سی کی ٹھنڈک مصنوعی ہوتی ہے جو جسم کے مسامات کو سختی سے بند کر دیتی ہے۔ قدرت نے پسینے کے ذریعے جن فاضل مادوں کو نکالنا ہوتا ہے، وہ اے سی کی وجہ سے جسم کے اندر ہی رک جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں جوڑوں کا درد، پٹھوں کی سختی اور الرجی جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح حد سے بڑھی ہوئی گرمی رطوبات کو خشک کر کے خشکی پیدا کرتی ہے، جس سے اجزا متفرق ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ دونوں حالتیں اعتدال کے خلاف ہیں۔ 9
اخلاطِ ثلاثہ: بلغم، سودا اور صفرا کا کردار
نظریہ مفرد اعضا کے تحت جسم میں تین طرح کے مادے یا اخلاط پائے جاتے ہیں جو جسم کی تعمیر اور توانائی کے ذمہ دار ہیں۔ ان کا پیدا ہونا اور خارج ہونا ایک فطری عمل ہے۔ 6
بلغم (Phlegm): اعصابی رطوبت
بلغم کا تعلق دماغ اور اعصابی نظام سے ہے۔ یہ جسم کو تراہٹ اور لچک فراہم کرتی ہے۔ جب اعصابی عضلاتی تحریک تیز ہو جاتی ہے تو بلغم کی پیدائش بڑھ جاتی ہے۔ اگر یہ بلغم خارج نہ ہو تو سستی، نیند کا غلبہ، موٹاپا اور نزلہ زکام جیسی علامات پیدا ہوتی ہیں۔ اسے اعصابی عضلاتی تحریک دے کر خارج کیا جا سکتا ہے۔ 9
سودا (Black Bile): عضلاتی مادہ
سودا کا تعلق دل اور عضلات سے ہے۔ یہ جسم کو طاقت، حرکت اور سختی فراہم کرتا ہے۔ عضلاتی غدی تحریک میں سودا کی زیادتی ہوتی ہے۔ اگر سوداوی فضلات جسم میں رک جائیں تو بواسیر، قبض، خشکی اور ذہنی دباؤ (Depression) جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ 6
صفرا (Yellow Bile): غدی حرارت
صفرا کا مرکز جگر اور غدد ہیں۔ یہ جسم میں حرارت اور ہضم کا ذمہ دار ہے۔ جب غددِ جاذبہ کا نظام تیز ہو جائے تو صفرا خون میں بڑھ جاتا ہے۔ صفراوی خلط کی زیادتی سے تھکن، سستی، چہرے کا ورم، بھوک کی کمی اور سانس کی دشواری (دم کشی) پیدا ہوتی ہے۔ 8
صفراوی زیادتی اور خون میں فاضل مادوں کا اجتماع
جب جسم میں صفرا کی مقدار ضرورت سے زیادہ ہو جاتی ہے اور جگر اسے صحیح طریقے سے خارج نہیں کر پاتا، تو یہ مواد خون میں جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اس حالت کی سب سے نمایاں علامت چہرے سے ترو تازگی کا رخصت ہو جانا اور ہاتھوں پاؤں پر ہلکا ورم آنا ہے۔ 9
خون میں ان فاضل مادوں کی موجودگی آکسیجن کے جذب ہونے کی صلاحیت کو کم کر دیتی ہے۔ جب پھیپھڑوں کو پوری آکسیجن نہیں ملتی تو وہ تیزی سے کام کرنے لگتے ہیں، جسے ہم ‘سانس پھولنا’ یا ‘دم کشی’ کہتے ہیں۔ یہ دراصل پھیپھڑوں کی بیماری نہیں بلکہ خون کی آلودگی ہے جس کا علاج جگر کے اخراجی نظام کو تیز کر کے (غدی اعصابی تحریک کے ذریعے) کیا جا سکتا ہے۔ 7
صفراوی علامات کا تجزیاتی جدول
| علامت | طبی وجہ | نتیجہ |
| تھکن و سستی | خون میں صفراوی زہر کا غلبہ | توانائی کی کمی |
| ہاتھ پاؤں پر ورم | گردوں کی سستی اور رطوبت کا اجتماع | وزن میں اضافہ |
| بھوک میں کمی | معدے کی غدی سوزش | کمزوری |
| سانس کی دشواری | خون میں آکسیجن کی قلت | دم کشی |
نظریہ مفرد اعضا: مشینی اور کیمیائی تحریک کا میکانزم
حکیم یونس شاہد میو کے مضمون کا سب سے تکنیکی اور بصیرت افروز حصہ وہ ہے جہاں وہ مشینی اور کیمیائی تحریک کے فرق کو واضح کرتے ہیں۔ نظریہ مفرد اعضا کے مطابق جب ایک عضو میں “مشینی تحریک” (Mechanical Stimulation) ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں اگلے عضو میں “کیمیائی تحریک” (Chemical Stimulation) شروع ہو جاتی ہے۔ یہ کیمیاوی تحریک ہی دراصل اخلاط کی تبدیلی کا باعث بنتی ہے۔ 6
جگر سے دماغ تک کا سفر
جگر کی مشینی تحریک کے بعد دماغ میں کیمیائی تحریک شروع ہوتی ہے۔ اس مرحلے پر صفراوی رطوبت (جو کہ گرم اور خشک ہے) بلغم (جو کہ سرد اور تر ہے) میں تبدیل ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ یہ جسم کا ایک دفاعی نظام ہے تاکہ صفرا کی حد سے بڑھی ہوئی حرارت کو بلغم کی ٹھنڈک سے اعتدال پر لایا جا سکے۔ 6
دماغ سے دل تک کا سفر
دماغ کی مشینی تحریک (اعصابی عضلاتی) کے بعد قلب (دل) میں کیمیائی تحریک (عضلاتی اعصابی) پیدا ہوتی ہے۔ یہ تحریک بلغم اور اضافی رطوبات کو جذب کر کے انہیں سودا میں تبدیل کرتی ہے۔ یہ عمل جسم کی خشکی کو بحال کرنے اور اضافی تراہٹ کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ 6
دل سے جگر تک کا سفر
اسی طرح دل کی مشینی تحریک جگر میں کیمیائی تحریک پیدا کرتی ہے جہاں سودا کو صفرا میں تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ ہاضمے اور حرارت کا عمل جاری رہے۔ باقی تمام جسمانی افعال کو اسی تسلسل پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔ 6
فاضل مادوں سے نجات کے لیے عملی تدابیر
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو کے مطابق فاضل مادوں کا اخراج محض ادویات سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے طرزِ زندگی میں تبدیلی ضروری ہے۔
- تحریک کی تبدیلی: اگر جسم میں بلغم زیادہ ہے تو عضلاتی تحریک (خشک مزاج اشیا) سے اسے خارج کریں۔ اگر صفرا زیادہ ہے تو اعصابی تحریک (ٹھنڈی اور تر اشیا) سے اسے دور کریں۔ 8
- ہائیڈریشن کا کردار: زیادہ پانی پینے سے بلغم اور صفرا پتلے ہو جاتے ہیں جس سے گردوں اور پھیپھڑوں کو انہیں خارج کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ الرجی اور دمے کے مریضوں کے لیے یہ خاص طور پر مفید ہے۔ 11
- قدرتی ماحول سے وابستگی: اے سی کا استعمال کم سے کم کریں اور جسم کو قدرتی درجہ حرارت کے مطابق ڈھالنے دیں۔ پسینہ آنے سے جسم کے کئی زہریلے مادے قدرتی طور پر نکل جاتے ہیں۔ 1
- نبض شناسی اور خود آگاہی: اپنی نبض کی حرکت اور جسمانی علامات (جیسے پیشاب کا رنگ، زبان کی رنگت) سے اپنے مزاج کو پہچانیں۔ 6
جگر کی سوجن اور پیچیدگیاں: جدید و قدیم کا امتزاج
جگر جسم کا وہ بنیادی عضو ہے جو فاضل مادوں کو فلٹر کرنے کا ذمہ دار ہے۔ جب جگر میں سوجن یا سوزش (Hepatitis/Cirrhosis) ہوتی ہے تو اس کی صفائی کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ جدید طب میں اسے ‘لیور سروسس’ کہا جاتا ہے جو کہ عالمی سطح پر اموات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ 10
جب جگر ناکارہ ہوتا ہے تو خون میں زہریلے مادے جمع ہو کر دماغ تک پہنچ جاتے ہیں (Hepatic Encephalopathy)۔ اس کے نتیجے میں الجھن، یادداشت کی خرابی اور بے ہوشی طاری ہو سکتی ہے۔ نظریہ مفرد اعضا کے تحت یہ غدی عضلاتی سوزش ہے جس کا علاج غدی اعصابی تحریک سے ممکن ہے تاکہ جگر کے بند مسامات کھلیں اور زہریلا مواد خارج ہو۔ 12
جگر کے افعال اور اخراجی موازنہ
| حالت | اخراجی صلاحیت | اثر بر جسم |
| صحت مند جگر | مکمل صفائی | چہرے پر سرخی، بھرپور توانائی |
| سوجا ہوا جگر | جزوی صفائی | تھکن، پیلا پن، بدہضمی |
| ناکارہ جگر (Cirrhosis) | صفر صفائی | ورم، خون کی کمی، ذہنی دھند |
دماغی دھند (Brain Fog) اور فاسد رطوبات
اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ انہیں سوچنے میں دشواری ہوتی ہے یا ان کا ذہن بوجھل رہتا ہے۔ جدید اصطلاح میں اسے ‘برین فوگ’ کہا جاتا ہے۔ نظریہ مفرد اعضا کی رو سے یہ دماغ میں ضرورت سے زیادہ بلغمی رطوبات کے اجتماع کا نتیجہ ہے۔ 14
جب دماغ کی مشینی تحریک سست پڑتی ہے تو وہاں کیمیائی طور پر سودا کی پیداوار رک جاتی ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ قلب و عضلات کو تحریک دی جائے تاکہ وہ ان رطوبات کو جذب کر کے سودا میں بدل سکیں اور دماغ کی تیزی بحال ہو۔ وٹامن B12 کی کمی بھی اس کا ایک سبب ہو سکتی ہے، لیکن اصل جڑ رطوبات کا غیر فطری اجتماع ہی ہے۔ 14
سانس کا نظام اور سسٹک فائبروسس (Cystic Fibrosis)
سانس لینے میں دشواری کا ایک بڑا سبب بلغم کا گاڑھا ہونا ہے۔ سسٹک فائبروسس جیسی بیماریوں میں جسم کا بلغم گوند کی طرح موٹا اور چپچپا ہو جاتا ہے جو پھیپھڑوں اور لبلبہ کی نالیوں کو بند کر دیتا ہے۔ 7
یہاں حکیم یونس شاہد میو کا فلسفہ خشکی و رطوبت بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ جب جسم میں خشکی (سودا) ضرورت سے زیادہ بڑھ جائے تو وہ رطوبات کو سکیڑ کر گاڑھا کر دیتی ہے (متفرق کر دیتی ہے)۔ اس کا علاج رطوبت پیدا کر کے ان مادوں کو پتلا کرنا اور پھر خارج کرنا ہے۔ گرم پانی کی بھاپ، شہد اور ادرک کا استعمال اس بلغم کو ڈھیلا کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ 11
خلاصہ بحث اور نچوڑ
فاضل مادوں سے نجات پانا محض ایک طبی عمل نہیں بلکہ یہ زندگی کے توازن کو برقرار رکھنے کا ایک آرٹ ہے۔ حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو کی تحقیقات ہمیں بتاتی ہیں کہ انسانی جسم ایک ہمہ گیر نظام کے تحت کام کر رہا ہے جہاں ہر عضو دوسرے کا مددگار ہے۔ صحت کا راز اس بات میں ہے کہ ہم جسم کے تعمیری مواد کو ضائع نہ ہونے دیں اور تخریبی مواد کو رکنے نہ دیں۔ 1
‘فردوس الحکمت’ کا یہ قول کہ “رطوبت اجزا کو جمع رکھتی ہے” ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ زندگی کی بنیاد لچک اور ترو تازگی پر ہے۔ جب ہم اپنے اخراجی راستوں (پاخانہ، پیشاب، پسینہ، سانس) کا خیال رکھتے ہیں اور ماحولیاتی بگاڑ سے بچتے ہیں، تو جسم خود بخود اپنی اصلاح کر لیتا ہے۔ نظریہ مفرد اعضا کی روشنی میں تحریک اور تسکین کے اصولوں کو سمجھ کر ہم بڑے بڑے امراض سے نہ صرف بچ سکتے ہیں بلکہ دوسروں کی رہنمائی بھی کر سکتے ہیں۔ 4
حکیم یونس شاہد میو کے افکار کی روشنی میں یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ طب کی اصل روح “اخراجِ فضلات” میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہم اپنے خون کو صاف رکھیں اور جگر، دل اور دماغ کے مابین مشینی اور کیمیائی توازن برقرار رکھیں، تو ہم ایک طویل اور صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔ 2
(یہ رپورٹ حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو کے طبی مضامین اور نظریہ مفرد اعضا کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے تاکہ طبی ماہرین اور طلبہ اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔)


