پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

تشخیص امراض ایپ کیسے استعمال کریں//How to use the Diagnosis app

تشخیص امراض ایپ کیسے استعمال کریں//How to use the Diagnosis app

حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
طب کی دنیا میں ہمیشہ سے ایسے لوگ خدمات سرانجام دے آئے ہیں جنہوں نے طبی قوانین کو وقت کی ضرورت کے مطابق استعمال کرتے ہوئے انسانیت کی خدمت کی۔
طب میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔
ایک کو حکیم کے بجائے دوا فروش کہنا زیادہ مناسب ہے ۔یہ قسم طب کو نسخہ سازی۔حصول نسخہ اور حصول منفعت ہوتا ہے۔کوئی مناسب سا نسخہ مل جائے ۔اس کے بل بوتے پر دال روٹی چلتی رہے۔اور لوگوں میں حذاقت

کی دھاک بیٹھی رہے ۔
دوسرے قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جو طبی اصولوں اور طبی قواعد و ضوابط پر گہری نظر رکھتے ہیں ۔ مریض یا مرض کی ضرورت کو سمجھتے ہیں ۔اس کے مطابق جو بھی راحت رسانی کا آسان راستہ ہو اختیار کرتے ہیں۔
وہ راستہ غذا کا ہو یا بڑھ کر دوا کا۔یا پھر بھاپ ہو یا مساج و حجامہ۔یا پھر کوئی مناسب تدبیر۔
کچھ امراض ایسے پیچیدہ اور ایک دوسرے سے مشابہ ہوتے ہیں کہ بادی النظر ،ان میں فرق بیان کرنا مشکل ہوتا ہے۔
مریض کی روئےداد سن کر فیصلہ کرنے والے یہاں پر زیادہ غلطیاں کرتے ہیں۔
یاد رکھئے!
مریض اپنے محسوسات بیان کرتے ہیں ۔مرض کا انہیں کچھ پتہ نہیں ہوتا ۔اگر وہ مرض کے بارے میں مناسب معلومات رکھتے تو انہیں طبیب کے پاس آنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟
ایک طبیب کا سب اہم اور بنیادی فرض یہ ہے کہ مریض کو اجنبیت کا احساس نہ ہو،مریض معالج میں انس محسوس کرے۔
دوسرا فرض یہ بنتاہے کہ مرض کی تشخیص کرے۔ہر زاویہ سے اپنے فن و ہنر کا مظاہرہ کرے۔مریض کو توجہ دے۔اس کی بات غور سے سُنے ۔اس کے حالات پوچھے تاکہ اس کی حیثیت کے مطابق غذا و دوا تجویز کرسکے۔
میرے پاس جب کوئی مریض آتا ہے۔
مجھے معلوم ہوجاتا ہے کہ کون غریب ہے کون امیر ہے جاہے وہ ایک ہی جیسے لباس میں ہوں ۔
ایک ہی گاڑی میں سوار ہوکے آئے ہوں۔
ان کی باتیں ان کے حالات کھول دیتی ہیں۔
امیر آدمی پوچھتا ہے میںکیا کیا کھاسکتا ہوں؟
غریب آدمی پوچھتا ہے پرہیز کس کس چیز کا ہے؟
پرہیز کمزور مالی حالات۔اور کھانے کی آزادی طلب کرنا۔بیسار خوری۔اورمالی آسودگی ظاہر کرتا ہے۔
معالج کی بھرم اسی وقت رہتا ہے جب وہ ٹھیک تشخیص کرے۔اور مناسب علاج مہیا کرے۔
میڈیکل میں علاج سے مہنگے ٹیسٹ ہوتے ہیں جن میں مرض معلوم کرنے کی کوش کی جاتی ہے۔
وہی ٹیسٹ ایک ماہر طبیب ۔نبض قارورہ۔دیگر علامات دیکھ کر کرتا ہے۔
یہ دور جدید اے آئی کا ہے۔بہت سی سہولیات گھر بیٹھے میسر آچکی ہیں۔
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ//سعد ورچوئل سکلز پاکستان نے اس سمت پر طب کی خدمات کے حوالے سے غور و خوض کیا ہے ۔کئی ایک کاوشین بہترین نتائج دے رہی ہیں ۔
تشخیص امراض ایپ کی سادہ سی شکل ہم نے پیش کی تو دنیا بھر سے بہت سی مشورے آئے۔مناسب آراء موصول ہوئیں۔ اس میں رد و بدل کی گئی ۔حکماء حضرات اے آئی یا انٹر نیٹ کا مناسب استعمال نہیں جانتے۔
یا اپنی ضرورت کے مطابق اس سے کام لینے کا ہنر معلوم نہیں ہے۔انہوں نے بہت سے سوالات کئے۔
سمجھانے کے لئے ایک ویڈیو بنانے پڑی۔
یہ کوئی آخری کوشش نہیں ہے دن بدن بہتری آتی جارہی ہے۔
یہ ایپ بنیادی طورپر ان لوگوں کے لئے۔جنہوں نے سعد طبیہ کالج میں “قانون مفرد اعضاء اور اے آئی کا امتزاج” نامی کورس میں داخلہ لیا ہے۔یہ کورس جاری ہے۔حکماء کے لئے سہنرا موقع ہے اپنی طبی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
اس ایپ کا لنک ہم نے اپنی ویب سائٹ پر دیدیا ہے وہاں سے کوئی بھی مفت میں حاصل کرسکتا ہے۔
ہماری ویب سائٹس۔
www.dunyakailm.com
www.tibb4allo.com
www.tibiilif.com
پر لنک شئیر کردیا گیا ہے۔
اس کے استعمال کی ویڈیو ہم نے یوٹیوب چینل

tibb4all.tv
اپلوڈ کردی ہے۔

ایپ لنک

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

[saadherbal_newsletter_form]