
استلفات
قریبا ساڑھے چار سو صفحے کا یہ مجموعہ
“” جو آپ کے پیش نظر ہر اگر چہ اسکا راہ راست تعلق صرف حضرت امام شاہ ولی الله د قدس وحہ) کی سوانح حیات اور آپ کی علمی و دینی خدمات سے ہو اور اس کاوش کا اصل مقصد بالذات آپ ہی کے مج انہ کام اور پیا کو عہد حضر کے مسلمانوں کے سامنے پیش کرتا ہے لیکن ضمن ہمیں اسلا اسلامی ہند کی ریکم از کم اجالا ہی پوری دین اور علم تاریخ آگئی ہے اور صرف اسلام ہند علیہ سلام کی تیرہ سال کی عمریں جہاں کہیں اور جس زمانہ میں بھی تجدید دین اور اخیار ملت کا کوئی بڑا کام ہوا ہے اس کابھی تذکرہ اس مجموعے میں آگیا ہے اور صرف تذکرہ ہی نہیں بلکہ نتجہ خیرا و بین آموز تذکرہ آگیا ہے بالخصوص عید عالمگیری سے لیکر سلطنت

مغلیہ کے زوال اور پھر حضرت سید احمد شہید و حضرت شاہ اسمعیل شهید رد کی تحریک جہاد تک کی جسقدر بصیرت از در تاریخ سبق آموز نوعیت کے ساتھ اس میں درج ہو گئی ہیں وہ کسی دوسری جگہ غائبا نہیں سکتی – وذلك من فضل الله علينا وعلى الناس: –
اور اگرچہ اس مجموعے کے مقالوں کی تعداد میں سے بھی کم ہی ہر لیکن الحمد الحمد للہ لله سیکڑوں نادر اور اہم علمی و تاریخی مباحث پر حاوی ہے جیسا کہ فہرست مضامین کے ملاحظہ سے اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ پھر محمد اللہ لکھنے والے وہ حضرات ہیں جو ان مباحث میں خاص بصیرت رکھتے ہیں اور اس باب میں استفادہ کیلئے جنکی طرف سب سے پہلے نظر جا سکتی ہے ۔ ان نادر علی افادات کر دماغوں سے ظلم تک اتروانا اورکا غذا در دیگر ضروریات پریس کی ہو شربا گرانی کے باوجود ایک دفعہ کے بعد دوسری مرتب چھپوا دیا میرا کا تھا ا را انکی بیش از مین است اور خدمت دین کے کسی رکھنے والے حلقوں میں انکو پہنچا دیا آپ حضرات کے تعاون پر موقوف ؟ جس کی توقع رکھنے کا آپ سے میں ضرور حقدار ہوں ۔ والسلام اور
محمد منظور نعمانی عفا اللہ عنہ ربیع الاول سنه


