پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

بياض كبيردہلی کا مطلب (اردو)

بياض كبير دہلی کا مطلب (اردو) مرتبه علم محمد كبير الدين (مهم)
بياض كبير
دہلی کا مطلب (اردو)
مرتبه
علم محمد كبير الدين (مهم)

دیباچه
دہلی کا مطلب اُردو میں
چکا ہے اور باقی دونوں حصے دوہل کے مرکبات اور دواسازی ) نہ شروع ہی سے اردو میں شائع
ہوئے میں مطلب کو فارسی میں رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ ابھی تک ہمارے ملک کے اکثر اطباء نسخے
فارسی میں لکھنے کے عادی ہیں اور ہمارے کالج کے یونانی مطلب میں بھی ابھی تک فارسی ہی کا رواج
ہے۔ جب تک یہ قدیم دستور جاری ہے اس وقت تک یہی مناسب ہے کہ طلبائے مطلب فارسی کرتاہے
کو مسی زیر نظر رکھیں اور معمولہ مطلب نسخہ جات کو اسی فارسی ترکیب کیسا تھ یا دکریں تاکہ نسخہ
نویسی کے وقت نسخوں کی معمولی فارسی سے طبعیقیں نہ الجھیں مگر چونکہ اب علم طلب کے تمام
شعبے اور سارے فنون اردو کا جامہ پہن رہے ہیں اور یہ مبارک تحریک ملک میں بہت تیزی
سے پھیل رہی ہے، اس لئے اب وہ زمانہ زیادہ دور نہیں ہے جبکہ اردو بھی ایک وسیع علمی
زبان بن جائے اور اس کی عزت فارسی کے ہم پلہ ہوا اور اطباء بھی فخر ومباہات کیساتھ اپنی بہاری
اور سادہ زبان میں نسخہ کے ضروری ہدایات لکھ کر حاجتمند مریضوں تک پہنچائیں ۔ جیسا کہ
اس وقت بھی ملک میں ایسے روشن خیال آزاد منش حضرات موجود ہیں جو اس بدعت حسنہ
پر بلا خوف ولائم عمل پیرا ہیں اور اس کو ایک مفید تحریک سمجھ کر اس کی تبلیغ کرتے ہیں۔
بہر حال یہ ہو یا نہ ہو مگر یہ بالکل سچ ہے کہ اب ملک میں ایسے اطبا کا ایک گروہ موجود
ہے۔ جو باوجود دوسری زبانوں کی مہارت کے فارسی زبان سے سراسر بے بہرہ ہے اور
وہ صرف اردو ہی سے استفادہ کر سکتا ہے جو اس کتاب کا مطمح نظر ہے :-
بیاض کبیر یر کا صرف پہلا حصہ (مطلب) فارسی عبارت میں ہے اور دو مرتبہ بھیکر شائع ہو
فارسی مطلب سے مقابلہ کرنے کے بعد یہ امر نمایاں طور پر روشن ہوگا کہ فارسی کے مطلب کو صرف ترجمہ کا لباس ہی نہیں پہنایا گیا ہے۔ بلکہ اس اردو کے مطلب میں اصول علاج تدابیر، ندا پانی اور پر مہر وغیرہ کے متعلق مفیدہ ہدایات بھی مستانہ طور پر الگ کر کے نوا علی اضافہ کر دیے گئے ہیں۔ اور یہی کہیں ترمیم و اضافہ بھی کیاگیا ہے۔ تاکہ یہ مطلب پہلے سے :
پہلے سے زیادہ مفید اور بہتر ہو

جائے محمد محمد کبیر الدین

کتاب بیاض

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

[saadherbal_newsletter_form]