پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

بابائے اردو کے ہاتھوں میو لائبریری کا افتتاح

بابائے اردو کے ہاتھوں میو لائبریری کا افتتاح
بابائے اردو کے ہاتھوں میو لائبریری کا افتتاح

بابائے اردو کے ہاتھوں میو لائبریری کا افتتاح
میو قوم کی بھولی بسری داستان۔اور علمی کاوش
ناقل۔حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
(یہ اقتباس ہم نے جناب نواب ناظم صاحب کی مہربانی سے شائع ہونے والی کتاب۔میوات تاریخ کے جھروکوں سے لیا ہے)
تقسیم ملک کے بعد بابائے اردو مولوی عبدالحق پاکستان چلے گئے لیکن میوات کے ساتھ ان کا جو تعلق قائم ہو گیا تھا وہ وہاں بھی بدستور قائم رہا۔ حالاں کہ اب اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا کافی مشکل ہے پھر بھی کوشش کی جائے تو ابھی کچھ حوالے اور کچھ سلسلے اس موضوع پر دریافت کیے جا سکتے ہیں اس کے لیے ذوق اور جذبہ دونوں کی ضرورت ہے، ایسا جذبہ و ذوق جیسا برادرم مکرم شبیر احمد خاں میواتی کے اندر ہے۔ انھوں نے پاکستان میں میو حضرات کے ساتھ بابائے اردو کے روابط کے سلسلے میں کئی حوالے دریافت کیے ہیں۔
ایک حوالہ اوپر گزر چکا ہے اس کے علاوہ ایک اہم حوالہ یہ ہے کہ آل پاکستان میو سوشل آرگنائزیشن کی طرف سے کراچی میں ایک فری لائبریری قائم کی گئی تھی۔
مولوی عبدالحق نے اس کا افتتاح کیا اور اس موقع پر ایک تقریر بھی کی اور لائبریری کے لیے اپنی جیبِ خاص سے تعاون بھی کیا۔ شبیر احمد خاں میواتی نے اس موقع کی کچھ تصاویر بھی فراہم کر لی ہیں۔
یہ لائبریری اور فرسٹ ایڈ پوسٹ جناب چودھری شہاب الدین خاں میو (حال مقیم امریکہ) نے اپنے میو رفقا کے تعاون و اشتراک سے قائم کی تھی۔ اس کا افتتاح ۲۵ دسمبر ۱۹۵۴ء میں ہوا اور اس کے افتتاح کی خبر اس وقت کے اخباروں میں شائع ہوئی۔ اس زمانے کا ایک مؤقر انگریزی اخبار مارننگ نیوز (Morning News) کراچی تھا۔ اس کی ۲۷/دسمبر ۱۹۵۴ء کی اشاعت میں اس لائبریری کے افتتاح کی خبر اس طرح شائع ہوئی:
Free Reading Room and Library Open
Baba-e-Urdu Dr. Molvi Abdul Haq performed the opening ceremony of free reading room and library and first aid post at Qaidabad devoted by the Pakistan Meo Social Organization as homage to the spirit of Qaid-e-Azam on saturday before a larg gethring of city meos and other distinct citizens. The Baba-e-Urdu gave a personal donation of Rs 50 to the organization in the view of the Meo’s efforts in promoting the mother language, country and the humanity at larg.
(ترجمہ: مفت دارالمطالعہ اور لائبریری کا قیام)
بابائے اردو مولوی عبدالحق نے ہفتہ کے دن ایک جمِ غفیر کی موجودگی میں قائد آباد میں ایک مفت دارالمطالعہ اور لائبریری اور فرسٹ ایڈ پوسٹ کا افتتاح کیا یہ لائبریری آل پاکستان میو سوشل آرگنائزیشن نے قائد اعظم کی روح کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے قائم کی۔ اس میں شہر کے میو اور دوسری سرکردہ شخصیات نے شرکت کی۔
بابائے اردو نے مادری زبان، ملک اور انسانیت کے لیے میوؤں کی خدمات کو سراہتے ہوئے خود بھی ۵۰ روپے کا عطیہ دیا۔
یہ خبر اور اخبارات میں بھی شائع ہوئی تھی اس خبر کے عنوان سے شاید یہ غلط فہمی پیدا ہوئی کہ یہ لائبریری اور فرسٹ ایڈ پوسٹ صرف میو قوم کے لیے مختص ہے،
اس لیے اس کے بانی جناب شہاب الدین خاں نے مراسلات کے ذریعے اس کی وضاحت کی کہ یہ دونوں چیزیں سب کے لیے عام ہیں صرف میوؤں کے لیے نہیں ہیں۔ انگریزی کے ایک اور روزنامہ ڈان (Dawn) کراچی کے ۴ جنوری ۱۹۵۵ء کے شمارے میں شہاب الدین خاں کا یہ وضاحتی خط شائع ہوا:
Correction*
Sir while thanking you very much for publishing in your esteemed paper’s

issue of 27…, the news regarding the opening ceremony of free reading room, library and a first aid post at Qaidabad, the organization however regrets to say that the heading ‘free library for meos’ is misleading the library is not meant only for meos but is open to all and sundry.
yours etc
Shahabuddin
For President Pakistan, Meos
Meo Social Organisation, Karachi
(ترجمہ: صحیح)
محترم۔ آپ نے قائد آباد (کراچی) میں قائم ہونے والے مفت دارالمطالعہ (فری لائبریری) اور فرسٹ ایڈ پوسٹ کے افتتاح کی خبر اپنے مؤقر اخبار کے ۲۷ دسمبر (۱۹۵۴ء) کے شمارے میں شائع کی تھی۔ اس کے لیے ہم آپ کے شکر گزار ہیں۔ تاہم ہماری انجمن کا احساس ہے کہ خبر کے عنوان سے غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے کہ یہ لائبریری صرف میوؤں کے لیے ہے۔ اس لیے یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ لائبریری سب کے لیے ہے، میوؤں کے لیے مخصوص نہیں ہے۔
آپ کا نیازمندشہاب الدین*
برائے صدر آل پاکستان میو سوشل آرگنائزیشن، کراچی
شہاب الدین خاں کا خط:*
بابائے اردو نے اس موقع پر ایک تقریر بھی کی تھی۔ افسوس ہے کہ اس تقریر کا متن نہیں مل سکا۔ کراچی کے اخبار مارننگ نیوز کی خبر سے یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے میو قوم، میواتی زبان اور ملک و قوم کے لیے ان کی خدمات کا اعتراف کیا تھا۔ ممکن ہے انھوں نے میوات کے اسفار اور میواتی زبان.میوات دارالمطالعہ کے قیام کا قصہ نصف صدی سے زیادہ کا ہے۔ لیکن خوش بختی ہے کہ اس لائبریری کے بانیوں میں سے جناب شہاب الدین خاں الحمد اللہ بقیدِ حیات ہیں۔
آج کل امریکہ میں مقیم ہیں ان سے برادرم شبیر احمد خاں میواتی (لاہور) نے رابطہ کیا اور انھیں آمادہ کیا کہ اس افتتاح کے سلسلے کی جو یادیں اور باتیں ان کے حافظے میں محفوظ ہیں، انھیں لکھ بھیجیں۔ انھوں نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل جو خط لکھا وہ اس موضوع کے تعلق سے بہت قیمتی ہے اس لیے اس کو پورا نقل کیا جاتا ہے:
امریکہ، ۲۱ جولائی ۲۰۱۹ء
عزیزم شبیر احمد خاں میواتی، ہمیشہ خوش رہو
آپ کی خواہش کے مطابق میں بابائے اردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق مرحوم سے متعلق اپنی یاد داشتیں ضبطِ تحریر میں لاتا ہوں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ان کے دفتر میں ہونے والی ملاقات نیز لائبریری کے افتتاح کے لیے ان کی تشریف آوری کی کچھ تفصیل بیان کرتے ہوئے میں انتہائی خوشی محسوس کر رہا ہوں۔ یہ سب اتنا خوش گوار تھا کہ ہمیشہ حسرت ہی رہی کہ کاش ان سے اور ملاقاتیں بھی ہوئی ہوتیں۔ وہ بے شک شرافت اور انکساری کا مجسم نمونہ تھے۔
یہ ۱۹۵۴ء کی بات ہے جب میں آل پاکستان میو سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن کی انتظامی کمیٹی کا ممبر تھا اور میری تجویز پر آرگنائزیشن نے ایک لائبریری کھولنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ہم نے طے کیا کہ ہم لائبریری کا افتتاح حکومت کے کسی اعلیٰ عہدے دار کے بجائے کسی نامور ادبی شخصیت سے کروائیں گے۔ اس مقصد کے لیے ہماری نظرِ انتخاب اس وقت کی نامور ہستی بابائے اردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق کی طرف گئی۔ اس وقت ان سے بہتر شخصیت اور کون ہو سکتی تھی۔
لہٰذا میں اور آرگنائزیشن کے وائس پریذیڈنٹ جناب چودھری محمد عبدالرؤف خاں تائب اکبر آبادی وقت لے کر بابائے اردو کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انھوں نے نہایت محبت اور تپاک سے.ہمیں خوش آمدید کہا۔ جب ہم نے ان سے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو فرمایا کہ مجھ سے افتتاح کروانے سے آپ کو کیا فائدہ ہوگا۔ حکومت کے کسی بڑے عہدے دار سے کروائیں گے تو آپ کو مالی مدد بھی مل جائے گی اخبارات میں خبر بھی لگے گی فوٹو بھی شائع ہوں گے تشہیر بھی ہوگی۔ ہم نے کہا کہ ہمیں ان باتوں سے کوئی غرض نہیں ہے، ہمیں افتتاح کے لیے آپ سب سے زیادہ موزوں لگے ہیں ہم کو آپ ایسے مخلص اور اپنے مقصد سے لگن رکھنے والے کی ہدایت اور سرپرستی کی ضرورت ہے۔
مولوی صاحب نے ہم سے میوات کی موجودہ صورتِ حال اور پاکستان آکر آباد ہونے والے میوؤں کے بارے میں کچھ سوالات کیے۔ ہمارے جوابات پر انھوں نے فرمایا کہ مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ میو کراچی میں بھی کثیر تعداد میں آباد ہو گئے ہیں۔
مولوی صاحب نے یہ بھی بتایا کہ انھوں نے میوات کے کئی دورے کیے تھے اور ایک بار وہ وہاں کے بڑے رہنما چودھری یاسین خان کے مہمان بھی رہے، انھوں نے بہت خاطر تواضع کی تھی۔ چودھری صاحب نے بڑی محنت اور جدوجہد سے قائم کردہ برین میو ہائی اسکول کا معائنہ بھی کرایا۔ بابائے اردو نے مزید بتایا کہ اس قیام کے دوران انھوں نے وہاں شعر و ادب سے دلچسپی رکھنے والوں سے ملاقاتیں بھی کی تھیں۔ میراسیوں کی محفلیں بھی سنی تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ میواتی شعر و ادب بہت قیمتی ہے، لیکن تحریری صورت میں نہیں ہے۔ انھوں نے اس ادب کو تحریری صورت دینے کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔ کاش ہم ان کی اس خواہش کو پورا کر سکتے۔


۲۵ دسمبر ۱۹۵۴ء کو مولوی صاحب تشریف لائے اور لائبریری کا افتتاح کیا اور اپنی جیب خاص سے پچاس روپے کا عطیہ بھی دیا جو اس زمانہ میں ایک بڑی رقم تھی۔ اس موقع پر انھوں نے اپنی تقریر میں قوموں کی تعمیر و ترقی میں لائبریری کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور پھر میو قوم کی بہادری اور ہمت و جرأت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ میو ایک نہایت بہادر اور شجاع قوم ہے، جو اپنا تابناک ماضی اور شاندار تاریخ رکھتی ہے۔ اس قوم کے نوجوانوں کا لائبریری قائم کرنا نہایت خوش آئند اور مستحسن اقدام ہے۔ آپ لوگوں کو اپنے خطے کی تاریخ اور خاص طور پر اپنی زبان اور شعر و ادب پر کام کرنا چاہیے اور اس کو محفوظ کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔


۔ انجمن ترقی اردو آپ کے ساتھ ہر طرح کے تعاون کے لیے حاضر ہے۔
ہاں یاد آیا مولوی صاحب اس لائبریری کے لیے اپنے ساتھ اچھی خاصی تعداد میں کتابیں لے کر آئے تھے وہ بعد میں بھی تسلسل کے ساتھ کتابیں بھجواتے رہے۔ انھوں نے انجمن کا ترجمان رسالہ “قومی زبان” بھی لائبریری کے نام مستقل اعزازی جاری کر دیا تھا۔
اس موقع پر کراچی کے میواور دیگر سرکردہ حضرات کا ایک جمِ غفیر وہاں موجود تھا، اگرچہ بڑی بے سرو سامانی تھی لیکن لوگوں میں جذبہ بہت تھا۔ لوگوں کے شوق اور بھیڑ کو دیکھتے ہوئے اس افتتاح کی خبر ریڈیو پاکستان پر اسی شام کو نو بجے والی خبروں میں آئی تھی اور دوسرے دن پاکستان کے تمام اہم اخباروں میں بھی چھپی تھی۔
میرے لیے یہ واقعات زندگی کا بہت قیمتی سرمایہ ہیں اور میں اس پر جتنا بھی فخر کروں کم ہے۔
والسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
دعا گو شہاب الدین خاں میو
محترم شہاب الدین خاں کا خط اس مقالے کے لیے نعمتِ غیر مترقبہ ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ ان کو سلامت رکھے انھوں نے بہت قیمتی معلومات فراہم کی ہیں۔
یہ مقالہ رفتہ رفتہ مقالے کے فطری حدود سے تجاوز کرتا جا رہا ہے لیکن مجبوری یہ ہے کہ دنیائے اردو کی اس عظیم شخصیت کا یہ پہلو مکمل طور پر گوشہ گمنامی میں پڑا ہوا ہے اس لیے یہ کوشش ہے کہ جو بھی مستند معلومات اور روایات جمع ہو جائیں وہ غنیمت ہیں۔

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

تفسیر قرطبی مکمل اردو

کتاب : تفسیر قرطبی اردو ترجمہ دس جلدیں مصنف : امام أبو عبداللہ محمد بن احمد بن أبوبکر قرطبی موضوع

[saadherbal_newsletter_form]