+92-323-8537640

You are currently viewing کلیات قانون مفرد اعضاء

کلیات قانون مفرد اعضاء

کلیات قانون مفرد اعضاء

اللہ تعالی نے بےشمارر علوم و فنون انسان کو ودیعت کئے ہیں۔ ساتھ ہیں ہر علم و فن کی کی مبادیات سے بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کسی میں علم وفن کو سمجھنا یا یکھنا چاہیں تو سب سے پہلے اس علم کی ماہیت حقیقت اور مبادیات جانا سجمھنا یا سیکھنا ضروری ہے اور کسی میں علم وفن کی مبادیات سیکھے اور کہے بغیر اس پر عبور حاصل کر نا صرف مشکل ہے بلکہ نا ممکن
یہی وجہ ہے کہ ہرعلم ودفن کے حامل اور پیر کارتو ہر گلی کوچہ میں دکانیں کھولے بیٹھے ہیں لیکن ان میں حقیقی ماہر کوئی نہیں کتنا ہی لکھتے ہیں اگر ان سے کوئی ماہر بنیادی سوال کر دے تو ادھر ادھر کی ٹامک ٹولیاں مارنے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں اس قسم کی باتوں سے کیا تعلق ہے؟۔ ہم نے روزی کمانی ہے چند ٹوٹکے استادوں سے مل گئے ہیں۔ ان سے رو زانہ اچھے پھلے پیسے اکٹھے کر لیتے ہیں گزارہ میں رہا ہے۔
یہ سب علوم و فنون حکمت کی شاخیں ہیں حکمت کے ان بے شمار علوم و فنون میں ایک علم و فن طب بھی ہے جس کی بھی اپنی مباد یات اور اس کے بنیادی قوانین و اصول ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اس کے قوانین و اصول دیگر علم وفن سے بہت زیادہ اوردفیق ہیں۔ دوسرے علوم کی نسبت علم و فن طب میں عقلیات کا بہت زیادہ دخل ہے۔ ایک اچھے طبیب کو اکثر کلیات سے جزیات اور جزیات سے کلیات کی طرف آنا پڑتا ہے، کبھی کلی قوانین کے تحت جزوی معلومات سے کلیات اخذ کرتا ہے کبھی جزوی معلومات سے کلیات کو ترتیب
با لکل اسی طرح ایک طبیب کو بار بار تصورات قائم کرنے پڑتے ہیں۔ اور فنی معلومات کے تحت دلائل کے ساتھ تصدیقات کی طرف کا پڑتا ہے۔
لہذا ہر محقق علم و فن طب اور طبیب کے لئے لازم ہے کہ وہ علوم عقلیات کو بھی اچھی طرح سمجھتا ہوتا کہ ان کلیات و جزیات کے تجریر و ترتیب اور تصورات و تصد یقات
کو عملی جامہ پہنا سکے۔
لیکن
یہ سب کچھ اس سورت میں ہو سکتا ہے جب وہ علم وفن طب کی مبادیات اور اور اس کی اصطلاحات سے پوری طرح آگاہ ہو۔ طالب علم کو علم و فن کی مبادیات سمجھنے میں بے حد مشکلات پیش آتی ہیں۔ جس کی اصل وجہ یہ ہے کہ مبادیات طب پر آسان فہم اور کس قاعدہ کلیہ کے تحت کوئی کتاب طبی کتب خانوں میں نہیں ملتی ،جوملتی ہیں انہیں ایہ کالجوں میں بھی کسی قاعدہ کلیہ یا کسوٹی کے تحت پڑھایا نہیں جا سکتا میں سے طالب طب کےعلمی حصہ اور عملی
حصہ کو اچھی طرح سمچھ نہیں پاتا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ کلیات طب پڑھاتے وقت طالب علموں کو دو متضاد نظریات ذہن نشین کرانے کی کوشش کی جاتی ہے ان میں اول طب اسلامی کا نظریہ کیفیات مزاج اخلاط کی حقیقت اور ماہیت سمجھانے کے ساتھ ساتھ ان کے بگاڑ سے امراض کی حقیقت ماہیت پڑھائی جاتی ہے جس سے طالب علم کو ذہین اور شعور میں ایک طرف کا ئنات کی ہرشے کی ماہیت حقیقیت ذہن نشین ہو جاتی۔ دوسری طرف ان کے بگاڑ اور خرابی سے امراض کی ماہیت قیمت مصرف ذہن نشین ہو جاتی ہے۔ بلکہ علاج معالجہ بھی بڑے وثوق سے کرنے

لگتا ہے۔مزید تفصیل کتاب میں دیکھئے

حصؤل کتاب کے لئے یہاں کلک کریں

Hakeem Qari Younas

Assalam-O-Alaikum, I am Hakeem Qari Muhammad Younas Shahid Meyo I am the founder of the Tibb4all website. I have created a website to promote education in Pakistan. And to help the people in their Life.
×

Cart