+92-323-8537640

You are currently viewing نبض پر آسان تحریر بمطابق تحقیقات صابر ملتانی

نبض پر آسان تحریر بمطابق تحقیقات صابر ملتانی

نبض پر آسان تحریر بمطابق تحقیقات صابر ملتانی

قانون مفرد اعضاء

نبض پر آسان تحریر
بمطابق تحقیقات صابر ملتانی
حکیم لیاقت علی کھچی

نبض
نبض شریانوں کی اس تڑپ کا نام ہے جو دل کے خون کو شریانوں میں پھینکنے سےپیدا ہوتی ہے
طب میں نبض کی بہت زیادہ اہمیت ہے اگر یہ کہا جائے کہ نبض ہی طب کا بنیادی تشخیصی پیرامیٹر ہے اور اس کے بغیر طبیب کے لیے مرض کی تشخیص کر نانا ممکن ہے تو بے جانہ ہو گا جو طبیب نبض سے مرض کی تشخیص نہیں کر سکتا وہ دواء فروش تو ہوسکتا ہے لیکن طبیب نہیں ہوسکتا

یہ کتاب بہت مفید ہے دیکھئے

تحریک امراض اور علاج  از حکیم قاری محمد یونس


دور جدید میں تشخیص کے لیے لیبارٹری کی سہولت نے گو تشخیص میں بہت زیادہ آسانی کر دی ہے لیکن اس کے باوجود نبض کی اہمیت آج بھی اسی طرح قائم ہے مثال کے طور پر لیب رپورٹ یہ تو بتادیتی ہے کہ کوئی عضو اپنے سائز میں بڑھ گیا ہے لیکن یہ نہیں بتا سکتا کہ یہ عضو پھول کر بڑھا ہے یا چھیل کر بڑھا ہے یا پھر لیب رپورٹ یہ تو بتادیتی ہے کہ منی میں سپرم کم ہیں یا نہیں ہیں لیکن کیوں کم ہیں؟ یا کس وجہ

سے کم ہیں یا پھر کیوں نہیں ہیں ؟ یہ اسباب صرف نبض ہی بتا سکتی ہے ایلو پیتھی میں تشخیص کے لیے 7 کروڑ لیبارٹری ٹیسٹ ہیں اور طب یونانی میں دس لاکھ نبضیں ہیں اور ہو میو پیتھی میں تشخیص کے لیے ان گنت علامات ہیں جن پر عبور حاصل کرنا ایک معالج کے لیے ناممکن ہے

اس کے مقابلے میں قانون مفرد اعضاء میں حکیم انقلاب جناب دوست محمد صابر ملتانی صاحب نے نبض کے علم کو کم سے کم 3 اور زیادہ سے زیادہ 6 اقسام میں تقسیم کر کے نبض کے علم کو نہایت ہی آسان بنادیا ہے اور معالج اس علم پر حاوی ہو کر پر اعتماد ہو کر علاج معالجہ کر سکتا ہے
نبض چونکہ شریانوں کی اس تڑپ کا نام ہے جو دل کے خون کو شریانوں میں چھینکنے سے پیدا ہوتی ہے اس لیے ایک معالج کو دل اور خون کی ماہیت کا علم ہونا چاہیے کیونکہ خون میں اخلاط بلغم سوداء اور صفرا یا پھر رطوبت ترشی اور حرارت پائی جاتی ہیں اور یہی ہی ہمارے جسم کی کل خوراک ہیں اور دل ان خوراک کی رطوبات (رطوبت ترشی اور حرارت) کو ان کے متعلقہ اعضاء اور خلیات تک پہنچانے کا ذمہ دار ہے اس لیے ایک طبیب کو خون کی ماہیت خون کے اجزاء دل کی ماہیت دل کا مزاج اور دل کے افعال کا علم ہونا بے حد ضروری ہے تبھی ہی وہ نبض سے ان اعضاء کی خرابیوں اور اخلاط کی کمی بیشی سے مرض کی

 تشخیص کر سکتا ہے

یہ بھی پڑھئے

(وجع المفاصل بالمفرد اعضاء)

اس لیے سب سے پہلے ہم دل اسکی ماہیت اس کا مزاج اسکی خوراک اور اس کے افعال پر بات کریں گے اور اس کے بعد خون۔ خون کی ماہیت خون کے اجزاء پر بات کرتے ہوئے نبض سے امراض کی تشخیص کا طریقہ کار بتائیں گے

Hakeem Qari Younas

Assalam-O-Alaikum, I am Hakeem Qari Muhammad Younas Shahid Meyo I am the founder of the Tibb4all website. I have created a website to promote education in Pakistan. And to help the people in their Life.
×

Cart