مصری طب Egyptian Medicine تعارف :1

مصری طب Egyptian Medicine تعارف :1

مصری طب Egyptian Medicine
تعارف :1

 مصری طب Egyptian Medicine تعارف :1

مصری طب Egyptian Medicine
تعارف :1

 

مصری طب Egyptian Medicine
تعارف :1

تحریر: حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی :سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ کاہنہ نو لاہور

 

مصری طب
Egyptian Medicine
تعارف

دنیا کی قدیم ترین تہذیوں میں مصری تہذیب (Egyptian Civilization)بےحدمشہور ہے جس کاسبب مصری تہذیب سے متعلق معلومات کی کثرت ہے۔ صدیوں پرانے مصری اہرام (Pyramids of Egypt مقبرے (tombs) اور پورا نے گھنڈرات کو کھونے سے جو خشتی تختیاں (clay tables)، بردی تو شتے (pupyri)، حنوط شدہ لاشیں (mummies) اور دیگر نواورات (antiques ملے ہیں ان سے قدیم مصری تہذیب وتمدن اور علوم وفنون پر کافی روشنی پڑتی ہے۔
مصری تہذیب کے تعلق سے بعض آثار وشواہد ایسے ہیں کہ جن سے قدیم مصر میں رائج طریقہ ہائے علاج کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم ہوتی ہیں ۔ جس کو تاریخ طب میں مصری طب کے نام سے درج کیا گیا ہے۔
مصری طلب کے ابتدائی نظریات
قدیم مصریوں کا نظریہ صحت ومرض:
قدیم مصر BC 6000 میںجادو اورسحرجیسے پر اسرارعلوم کا بہت زور تھا۔ چنانچہ ابتداء میں مصر ی طب کی بنیادی جادوا ورسحر پیسے فرسودہ نظریات پرمشتمل نظرآتی ہے۔ زندگی اور موت سے متعلق قدیم مصریوں کا یہ عقیدہ تھا کہ زندگی لا فانی ہے اور کوئی بھی جاندارخودنہیں مرتا جب تک کہ مرض
یاحادثہ کے سبب موت واقع نہ ہو۔اہل مصر اور کسی ناگہانی حادثہ کو بھوت، پریت اور بدروحوں کا سا یہ سمجھتے تھے۔ ان کا یقین تھا کہ اگر بھوت پریت اور بدروحوں سے حفاظت ممکن ہو جائے تو پھر موت لاحق نہیں ہوسکتی۔
طریقہ علاج *جسم انسا نی کی تقسیم
ظاہر ہے جب مرض کا سب شیطانی طاقت اور بدروحوں کا سایہ سمجھا جاتا تھا تو علاج بھی جھاڑ پھونک اور ٹو نے ٹوٹکوں سے کیا جانا لازم تھا۔ مصریوں
نے انسانی جسم کو پانی (36) حصوں میں تقسیم کیا تھا اور ہر حصے کی صحت کا محافظ کوئی ایک دیوتا تصور کیا جاتا تھا اور ہرحصے میں اس مرض کا سبب بھی کوئی شیطانی طاقت ہوا کرتی تھی۔ چنانہ ابتدائی مصری طب میں علاج ومعالجہ کےتعلق سے مختلف دیوتائوں کا ذکر ملتا ہے۔ مرض پیدا ہونے کی صورت میں صحت کے دیوتائوں کی پرستش کی جاتی تھی۔ تمام صحت کے ویوتائوں میں سب سے زیاد مقد س اور شفا بخش دیوتاامحوطب (Imhotep) تھا۔ (
I – em=heter” signifies he who cometh in peace” یعنی جو سکون بخش ہے۔امحوطب کے بارے میں تحقیق یہ ہے کہ وہ بھی درحقیقت ایک انسان ہی تھا اور تاہ “(Plah) کا وزیراعظم تھا۔ وہ بہت بڑا عالم فاضل،ہیئت دان ساحراور طبیب تھا۔ اس کو ہر مرض کے علاج میں مہارت حاصل تھی۔ چنانچہ معالج کی حیثیت سے مصریوں کو امحو سے بے پناہ عقیدت ہوئی اور انھوں نے امحوطب کو رب الشفاء (Healing Giod مان لیا ،حتی کہ امحو طب کی موت کے بعد مصریوں نے اس کے بت (statute بنائے اور علاج کے تعلق سے اس کی پرستش عام ہوگئی ۔ امحو طب کے مندر لاعلاج مریضوں کا واحد ٹھکانہ تھے میمفس (Memphis) کے مقام پر امحوطب کے سب سے ز یارو مندر بنائے گئے ۔ امحوطب کے مسلک کا اہم ترین مقام میفس ہی معلوم ہوتا ہے ۔
مصری طب کی ارتقاء
مصری طب کے تعلق سے جو رائع معلو بات بہ شکل بروی نوشتہ خشتی تختوں اور حنوط شدہ لاشوں کے محفوظ ہیں ان کابغور تجزیہ کرنے کے بعد ثابت ہوتا ہے کہ ابتداء میں تو مصری طب جادو، سحر اور دیگر توہمات پرمشتمل تھی لیکن BC (3000سے 2000BC کے درمیان مصریوںنے اس فن میں حیرت انگیز ترقی کر لی ۔ مصری طب کی ترقی کا مختصر جائزہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ مصری طب کے ذرائع پر ایک نظر ڈالی جائے۔۔۔۔
بقیہ اگلی قسط میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.