پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

میو قوم کی تعلیمی انفرادی و اجتماعی سرگرمیاں،

حالیہ امتحانات میںمیو قوم کے بچوں کا متعلقہ بورڈ مین پوزیشن لینا اعزاز و تشکر کی بات ہے۔
یوں تو میو قوم انفرادی طورپر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہے ۔تعلیمی میدان میں۔اس قوم نے ادارے بنائے مثالی پیش رفت کی ۔
دین سے وابسطہ لوگوں نے مساجد و مدارس کا ایک وسیع میدان مہیا کیا۔یوں سمجھ سکتے ہیں جس میو کے بچہ یا بچی نے درس نظامی کیا ،اللہ نے اسے وسائل سے بھی مالا مال کیا تو اس نے مسجد یا مدرسہ ضرور بنا لیا۔
اس کے معاشرتی دینی اور معاشی اثرات کیا مرتب ہوئے ۔قوم کو فائدہ یا نقصان کتنا ہوا یہ بحث کسی دوسرے وقت ے لئے اٹھائے رکھتے ہیں۔
یہی حال اسکولز و کالجز کا بھی ہے کہ میو قوم کے بچوں نے سرکاری و غیر سرکاری طورپر شعبہ تعلیم

سے وابسطگی اختیار کی۔
جو لوگ سرکاری ملازم ہوئے انہوں نے کم ہی ادارے قائم کئے انہوں نے اپنی تنخواہ پر گزارہ کیا ۔چھوٹا موٹا سائیڈ بزنس کیا ۔ڈھور ڈنگر کھیتی باڑی سے اضافی آمدن پیدا کی ۔
مزے سے زندگی گزارنے لگے۔
لیکن کچھ محنتی لوگوں نے اپنے سکول و کالجز بنائے۔اور مثالی ادارے قائم کئے۔
کم از کم لاہور قصور میں یہی صورت حال ہے۔کہ فرد واحد کی سوچ /وژن نے تعلیمی نیٹ ورک قائم کرلیا۔
یہ دونوں طبقات وہ ہے جن میں میو قوم کا اجتماعی دخل موجود نہیں ہے یہ انفرادی کاوشیں ہیں۔
اب آجائے تیسرے طبقے کی طرف۔
یہ وہ طبقہ ہے جس نے میو قوم کے لیڈر ہونے کا دعویٰ کیا۔
میو قوم کی نکیل اپنے ہاتھ میں تھامی۔
اس معاملہ میں میو قوم ناکم ہوئی اور اجتماعی سوچ کے فقدان۔اور متفقہ لائحہ عمل نہ ہونے۔
اور آگے چلنے کا روٹ میپ نہ ہونے کی وجہ سے اپنی پوری صلاحتیں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے۔نیچا دکھانے میں صرف کیں۔
بادی النظر دیکھا جائے تو یہ طبقہ بظاہر پڑھا لکھا اور تعلیمی زیور سے آراستہ تھا۔
جب ان لوگوں کو قوم کی قیادت سونپی گئی یا خودساختہ لیڈر بن بیٹھے تو۔
ان کا منتہائے نظر یہ ٹہرا کہ مخالف کی تانگ کیسے کھنیچنی ہے۔اس کی عزت کیسے پامال کرنی ہے۔
مثبت سوچ۔بہترین کردار۔قوم کو لیکر چلنے والی صفات کو جنت والوں کے حوالے کردیا کہ اس دنیا میں بھلائی ممکن نہیں مرنے کے بعداگرجنت میںگئے تو وہاں بھلائی اور راحت ہوگی ۔اس کی زندہ مثال لاہور و کراچی کے دو منصوبے ہیں کراچی کے معاملات کا تو زیادہ علم نہیں جتنا کسی نے بتایا معلوم ہوا۔ممکن ہے وہ یک طرفہ ٹریفک چلا رہے ہوں ۔البتہ لاہور انجمن اتحاد ترقی میوات نامی تنظیم کی مثال ہمارے سامنے ہے۔
انجمن اتحاد ترقی میوات کی عمر تقریبا دو نسلوں جتنی ہوچکی ہے۔
تیسری نسل اس سراب میں بھٹک رہی ہے۔جہاں تک ہمیں تاریخی کے طالب ہونے کی حیثیت سے معلومات ملی ہیں
اس تنظیم میں عہدہ دار اور منتظمین سب کے سب پڑھے لکھے اور اپنے وقت کےنامور اور منجھے ہوئے لوگ تھے۔
آج بھی پڑھے لکھے باشعور لوگ اس کے شریک کار ہیں۔۔
لیکن عملا جاہل اجڈ اور گنواروں والا کردار سامنے آرہا ہے۔
۔یعنی میو قوم کسی جاہل یا ان َپڑھ قسم کے لوگوں نے اندھیرے میں نہیں رکھی۔
بلکہ پڑھے لکھے اور بزعم خویش ہائی کوالیفائی لوگوں نے اس میں جاندار کردار ادا کیا ہے
کہ کوئی بھلاکام میو قوم میں ہونہ جائے؟۔اس قوم کو پیچھے رکھنے کے لئے لیڈران پُر خلوص انداز میںشب و روز مصروف ہیں۔
دھڑے بندیاں۔ٹانگ کھنچائی۔ایک دوسرے پر بداعتمادی۔باہمی طورپر کردار کشی۔
خود بھی کام نہیں کرنا ۔دوسرے کام کریں تو ان کے لئے شرط ہے کہ ان کے کھینچے ہوئے دائرہ سے باہر نہ نکلیں۔
اگر نکلے تو وہ میو قوم کا خیر خواہ نہیں۔بلکہ غذار ہے۔
یہ ماننا پڑے گا جو آدمی قومی سیاسی یا اجتماعی خدمت کا مدعی ہوا۔وہ بُری طرح ناکام رہا ۔جس نے انفرادی کوشش کی وہ کامیاب ہوا۔
خامیاں میوقوم میں نہیں
بلکہ ان لوگوں کی انفرادی سوچ میں جو حادثاتی طورپر قوم کی مہار تھامے کھڑے ہیں یا انہیں بہتر سمجھ رک قوم نے بطور امانت قیادت ان کے سپرد کی ہے۔
یہ لوگ اپنے اداروں اور کاروبار۔اور معاملات میں کامیاب ہیں لیکن جب انہیں قومی سطح کی ذمہ داری دی گئی تو بُری طر ح ناکام ہوئے۔
یہ کسی ایک فرد یاعلاقہ کی بات نہیں مجموعی طورپر جو کچھ محسوس کیا لکھ دیا۔
جولوگ چالیس پچاس سال میں باوجود قیادت کے ایسا نظام نہ دے سکے کہ قومی سطح کے چندے یا ہدیہ کو کیسے جمع کرانا ہے ۔
انہیں سوشل میڈیا کا سہارا لینا پڑے کہ چندہ کون دے گا؟ کیسے دیگا،اس کی نمائش کیسے کی جائے گی۔؟
مالیاتی امورپر پھر کبھی لکھونگا۔

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

امراض د ماغ و اعصاب

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم مقدمہ کسی بھی ملک کو دیکھ لیں، چاہے وہ چھوٹا ہے چاہے بہت بڑا، ملک کا

تسخير الارواح مصنف و مؤلف ڈاکٹر محمد منشور عالم صدیقی منجم ، جفار ، واقف اسرار جلی و تخفی

تسخير الارواح

تسخير الارواحمصنف و مؤلفڈاکٹر محمد منشور عالم صدیقیمنجم ، جفار ، واقف اسرار جلی و تخفی،،،،،،،پیش لفظصاحب مصنف و مؤلف

[saadherbal_newsletter_form]